عصمت چغتائی،گورڈن کالج اور میں

کبھی کبھی یونہی ایک تصور کسی سفر کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے اور ہم ایک نئی منزل کو دریافت کر لیتے ہیں۔ عصمت چغتائی کو میں نے پہلی بار گورڈن کالج کے جوبلی ہال میں دیکھا۔ ان دنوں میں کالج میں ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ کالج کے پرنسپل خواجہ مسعود تھے۔ جو لوگ ان کے نام سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ خواجہ صاحب ایک انتہائی متحرک شخصیت تھے۔ وہ بلا کے مقرر، بہت اچھے نثر نگار، مختلف موضوعات کے ماہر اور ماہرِ تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ایکٹوسٹ بھی تھے۔
ان دنوں گورڈن کالج خواجہ صاحب کی قیادت میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ بن گیا تھا جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی زور دیا جاتا۔ کھیل، تقریریں، مباحثے، مشاعرے، سیمینارز‘ غرض ہم طالب علموں کے لیے کلاس روم کے علاوہ بھی بہت سی سرگرمیوں کا سامان تھا۔
میں انگریزی ادب کا طالبِ علم تھا‘ لیکن اُردو ادب میں بھی دلچسپی تھی۔ کالج کے عقبی گیٹ سے نکل کر کالج روڈ پر آئیں تو ان دنوں ایک زم زم ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ ہوٹل کیا تھا‘ ایک بڑا مستطیل کمرہ تھا۔ باہر ایک پُرانے درخت کے نیچے کرسیاں رکھی ہوتیں۔ گورڈن کالج کے طالب علموں کا یہ ایک مستقل ٹھکانا تھا۔ میں بھی اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ اس کا مستقل گاہک تھا۔ یہاں ہر روز ہم کچھ دوست شام کو بیٹھتے اور انگریزی و اردو ادب پر بحثیں ہوتیں۔
انہی دنوں خبر ملی‘ عصمت چغتائی پاکستان آرہی ہیں۔ ان کے نام سے ہم سب واقف تھے۔ اچانک محفل میں کسی نے کہا: ہم عصمت چغتائی کو گورڈن کالج نہیں بُلا سکتے؟ ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ شاید ہم میں سے ہرایک یہ سوچ رہا تھاکہ یہ خیال اسے کیوں نہیںآیا؟ کئی برس پہلے راولپنڈی میں پیدا ہونے والے برصغیر کے معروف اداکار بلراج ساہنی بھی جب پاکستان آئے تھے تو انہیں گورڈن کالج کے جوبلی ہال میں دعوت دی گئی تھی۔
عصمت چغتائی کو گورڈن کالج بُلانے کی تجویز خواجہ مسعود صاحب کے سامنے رکھی گئی تووہ کہنے لگے: آپ تیاری کریں عصمت چغتائی گورڈن کالج ضرور آئیں گی۔ اور پھر خواجہ صاحب نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اس روز ہم سب طالب علم بہت پُرجوش تھے۔ خواجہ صاحب نے مجھے کہا: اس تقریب کا احوال تم نے لکھنا ہے۔ میرے لیے یہ اعزازکی بات تھی۔ مجھے پس منظر کی معلومات درکار تھیں۔ میں سیدھا گورڈن کالج کی لائبریری پہنچا تاکہ عصمت چغتائی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کر سکوں۔
میرے پاس صرف دو دن تھے۔ اس عرصے میں جو معلومات ملیں‘ ان کے مطابق عصمت چغتائی 21 اگست 1915ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ وہ دس بہن بھائی تھے، چھ بھائی اور چار بہنیں۔ بھائیوں کے ساتھ وہ بھی لڑکوں والے کھیل کھیلتیں۔ اس زمانے میں مسلمان گھرانوں میں لڑکیوں کی مغربی تعلیم کا رواج نہ تھا۔ عصمت کو بھی اس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ دھن کی پکی تھیں۔ ایک دفعہ ارادہ کرلیا تو پھر اس کو پورا کیے بغیر نہیں چھوڑنا۔
میٹرک کے بعد انٹر اور پھر بی اے کے لیے وہ علی گڑھ چلی گئیں۔ پڑھنے لکھنے سے دلچسپی شروع ہی سے تھی۔ بھائی عظیم بیگ چغتائی باقاعدہ رسالوں میں چھپتے تھے۔ وہ ان کے Mentor تھے۔ شاید وہ تیرہ برس کی تھی جب عصمت نے پہلا افسانہ لکھا اور وہ افسانہ اپنے نام کے بجائے ایک سہیلی کے نام سے چھپوایا۔
لیکن شوق کے بہاؤ کے آگے کون بند باندھ سکتا ہے۔ عصمت نے اردو میں ایک ڈرامہ ”فسادی‘‘ سے لکھنے سے آغاز کیا اور پھر اردو کہانیاں لکھنے لگیں۔ یہ اردو میں تیکھے اسلوب کی کہانیاں تھیں‘ جن کے موضوعات مڈل کلاس سے لیے گئے تھے‘ اور زندگی کے وہ پہلو بے نقاب کیے گئے تھے جن کا ذکر بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ پھر وہ پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ ہو گئیں۔ 1930ء میں ان کی ملاقات معروف ادیب رشید جہاں سے ہوئی۔
رشید جہاں نے عورتوں کے حوالے سے ایک جرأت مندانہ موقف اپنایا تھا۔ بعد میں ”انگارے‘‘ کتاب میں ان کی دو تحریروں ”دلی کی سیر‘‘ اور ”پردے کے پیچھے‘‘ نے سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ رشید جہاں کی جرأت اور بہادری عصمت چغتائی کو بھاگئی۔ رشید جہاں نے عصمت کو نصیحت کی کہ سماج کے ان موضوعات پر لکھو جن پر لوگ کم لکھتے ہی لیکن جو سماج کو سدھارنے کے لیے اہم ہیں۔
علی گڑھ کے ماحول نے عصمت چغتائی کو مزید اعتماد دیا۔ یہیں ان کی ملاقات شاہد لطیف سے ہوئی۔ اس وقت شاہد علی گڑھ سے ہی ایم اے کر رہے تھے۔ بعد میں شاہد بمبئی چلے گئے‘ جہاں وہ فلموں کے ڈائیلاگ لکھنے لگے۔ یہیں عصمت اور شاہد کی شادی ہوئی۔ اس شادی کے گواہ مشہور افسانہ نگار خواجہ احمد عباس تھے‘ جو ان دنوں بمبئی میں فلموں کے لیے کہانیاں لکھا کرتے تھے۔
عصمت چغتائی کو پڑھنے کا جنون تھا۔ اردو اور انگریزی ادب کے اہم ادبی شاہکار وہ پڑھ چکی تھیں۔ پھر ان کا تعارف روسی ادب سے ہوا اور انہیں احساس ہوا کہ اصل ادب تو یہ ہے جس میں لوگوں کی زندگیاں دھڑکتی ہیں۔ چیخوف ان کا پسندیدہ ادیب تھا۔ لکھنا اور پڑھنا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ لکھنے کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کر سکتی تھیں۔ زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی کہ عصمت کی زندگی میں ایک تلاطم آگیا۔ یوں تو وہ خود ہنگاموں میں خوش رہتی تھیں لیکن اس طوفان نے اس کی زندگی اتھل پتھل کر کے رکھ دی۔
یہ 1944ء کی بات ہے‘ انہوں نے ایک افسانہ لکھا‘ عنوان تھا: ”لحاف‘‘۔ پہلے انہوں نے یہ کہانی اپنی بھاوج کو سُنائی‘ پھر اپنی خالہ زاد بہن کو اور پھر یہ کہانی ”ادبِ لطیف‘‘ کو بھیج دی۔ رسالے کے مدیر نے کسی ردِعمل کا اظہار نہ کیا اور اسے شائع کردیا۔ انہی دنوں شاہد احمد دہلوی عصمت کی کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع کررہے تھے۔ انہوں نے یہ کہانی اس مجموعے میں شامل کر دی۔ وہ 1944ء کا سال تھا اور دسمبر کا مہینہ جب انہیں عدالت میں پیشی کا سمن ملا۔
انہی دنوں سعادت حسن منٹو کی ایک کہانی ”بُو‘‘ پر بھی فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلا اور یوں دونوں جنوری 1945ء میں لاہور کی عدالت میں پیش ہوئے۔ منٹو کو تو جیسے پروا ہی نہیں تھی۔ اس کے برعکس عصمت پر گھروالوں کا دباؤ تھا‘ لیکن وہ بہادری سے ساری صورتحال کا سامنا کر رہی تھیں۔
دو پیشیوں میں ہی مقدمے کا فیصلہ ہوگیا: عصمت اور منٹو‘ دونوں کو باعزت بری کر دیا گیا۔ لحاف کی اشاعت کے بعدکا عرصہ عصمت کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ ہرروز کی ڈاک سے اسے ایسے خط ملتے جن کے الفاظ عصمت کے بقول بچھوؤں کی طرح ہوتے اور وہ ان خطوں کوپڑھ کرجلا دیتیں۔ عصمت چغتائی کی کہانیوں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے۔ کہانیوں کے علاوہ انہوں نے آٹھ ناول لکھے جن میں ”ٹیڑھی لکیر‘‘ نے سب سے زیادہ شہرت پائی۔ عصمت کی پارہ صفت طبیعت اب کچھ نیا کرنا چاہتی تھی۔ وہ فلموں کی کہانیاں لکھنے لگیں۔ پھر وہ فلمیں ڈائریکٹ کرنے لگیں۔ کچھ فلمیں پروڈیوس بھی کیں۔
دو دن گورڈن کالج کی لائبریری میں گزارکر مجھے عصمت کے حوالے سے یہ معلومات ملی تھیں اور اب عصمت کو دیکھنے اور سننے کا اشتیاق مزید بڑھ گیا تھا۔ جوبلی ہال کو سجایا گیا تھا۔ میرے لیے یہ ایک مسرت بھرا دن تھا۔ وہ جوبلی ہال کے سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ عصمت چغتائی کی گفتگو کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی تھا۔ تقریب کے آخر میں چائے کا اہتمام تھا جس میں فیکلٹی کے علاوہ آرگنائزنگ کمیٹی میں شامل طلبا بھی شریک تھے۔
مجھے یاد ہے کہ کتنی محنت سے میں نے اس تقریب کا احوال لکھا تھا‘ جو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا۔ اس دن کو گزرے اب چار دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن مجھے وہ روشن دن ہمیشہ یاد رہے گا جب میری ملاقات اردو ادب کی ایک نامور شخصیت سے ہوئی تھی۔ کبھی کبھی یونہی ایک تصور کسی سفر کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے اور ہم ایک نئی منزل کو دریافت کر لیتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words