کوروناوائرس: آکسفورڈ یونیورسٹی تعطل کے بعد ویکسین کی آزمائش پھر شروع کر رہی ہے


چوبیس جون 2020، آکسفورڈ کی ایک تجربہ گار میں ویکسین پر تحقیق

ایسٹرا-زینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ کووڈ-19 کی ویکسین کی آزمائش، جسے گزشتہ ہفتے برطانیہ میں ایک رضاکار میں منفی اثرات سامنے آنے کے بعد روک دیا گیا تھا، پھر سے شروع کی جا رہی ہے۔

منگل کے روز ایسٹرا زینیکا نے اس آزمائش کو اس وقت تک روک دینے کا اعلان کیا تھا جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ مذکورہ منفی اثرات کا براہ راست ویکسین سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

تاہم سینچر کو آکسفورڈ یونیورسٹی نے کہا کہ ویکسین محفوظ پائی گئی ہے۔

زیر آزمائش درجنوں دوسرے حفاظتی ٹیکوں میں اس ٹیکے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر آزمائش کے دوران ’بعض شرکاء کا بیمار پڑ جانا متوقع تھا۔‘

یونیورسٹی کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے جائزے کے بعد اب یہ آزمائش پھر شروع کی جا سکتی ہے۔

س ویکسین کی آزمائش پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں آکسفورڈ اور آسٹرازینیکا کے اشتراک سے ہونے والی آزمائش عالمی طور پر استعمال ہونے والی ویکسین کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہے۔

یہ ویکسین آزمائش کے دو مراحل سے گزر چکی ہے اور اس وقت اس پر ریسرچ اپنے آخری اور حتمی مرحلے میں ہے جو کہ کچھ ہفتے قبل ہی شروع ہوا تھا۔

اس مرحلے میں 30 ہزار افراد شرکت کر رہے ہیں جن کا تعلق برطانیہ، امریکہ، برازیل اور جنوبی افریقہ سے ہے۔

عام طور پر کسی بھی ویکسین کی تیاری میں تیسرے مرحلے میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں اور یہ کئی سالوں تک جاری رہتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25298 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp