سکواش کے تین بڑے پاکستانی کھلاڑی جو عالمی چیمپئن نہ بن سکے

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر کی دہائی کو اعلیٰ معیار کے ٹورنامنٹس اور ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کی موجودگی کی وجہ سے بین الاقوامی سکواش کا بہترین دور کہا جاتا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں پاکستان سکواش کا پاور ہاؤس کہلاتا تھا۔ آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد عالمی رینکنگ میں نمایاں نظر آتی تھی۔

ایک ایسے دور میں جب جیف ہنٹ کا غلبہ تھا پاکستانی کھلاڑی تمام تر کوشش کے باوجود انھیں برٹش اوپن اور پھر ورلڈ اوپن میں جیت سے نہ روک پاتے تھے۔

قمرزمان کے ایک بار برٹش اوپن جیتنے کے سوا تمام وقت سکواش کے ان دو ایونٹس پر جیف ہنٹ کی حکمرانی رہی۔ یہ سلسلہ جہانگیرخان کے آنے کے بعد ہی رک سکا۔

اس دور میں اگرچہ جہانگیر خان، جیف ہنٹ اور کسی حد تک قمر زمان کے چرچے رہے لیکن تین دیگر کھلاڑی بھی شائقین کی نظروں سے اوجھل نہ تھے۔ اگرچہ یہ تینوں تمام تر غیر معمولی صلاحیت کے باوجود برٹش اوپن اور ورلڈ اوپن جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن حریف کھلاڑیوں کے لیے یہ تینوں ہمیشہ خطرے کی علامت تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک فاتح عالم کی طویل حکمرانی

پاکستان سکواش ٹورنامنٹس کی دوبارہ میزبانی کرے گا

سوچا نہیں تھا کہ جہانگیر دس ٹائٹل جیت لیں گے: جیف ہنٹ

جہانگیر خان کی 555 فتوحات کا ریکارڈ ’مشکوک’

گوگی علاؤالدین

گوگی علاؤالدین نے 1970 اور 1971 کی برٹش امیچر چیمپئن شپ جیت کر شہ سرخیوں میں جگہ بنائی جس کے بعد وہ دو بار برٹش اوپن کےفائنل تک پہنچے۔

سنہ 1973 کے فائنل میں انھیں برطانیہ کے جونا بیرنگٹن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں انھوں نے جیف ہنٹ کو شکست دی تھی۔ گوگی علاؤالدین نے دوسری بار 1975 میں برٹش اوپن کا فائنل کھیلا لیکن اس بار انھیں ہم وطن قمر زمان نے شکست سے دوچار کیا۔

گوگی علاؤالدین نے دو بار ورلڈ اوپن کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل کی۔ ان کے کریئر کی ایک یادگار فتح 1976 میں کراچی میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جیف ہنٹ کے خلاف تھی جنھیں وہ دو گھنٹے پانچ منٹ کے سخت مقابلے کے بعد شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

گوگی علاؤالدین کہتے ہیں ʹکارکردگی کے اعتبار سے 1975 میرا بہترین سال تھا اس وقت میں زبردست فارم میں تھا اور ہر کوئی مجھے برٹش اوپن ٹائٹل کے لیے فیورٹ قرار دے رہا تھا لیکن جونا بیرنگٹن اور کین ہسکو کو شکست دینے کے بعد میں فائنل میں قمرزمان سے ہار گیا۔ مجھے اس شکست کا زندگی بھر افسوس رہے گا کہ میں برٹش اوپن کے ٹائٹل کے بہت قریب آکر اسے حاصل نہ کرسکا۔‘

گوگی علاؤالدین کہتے ہیں ʹاس دور میں جیف ہنٹ اور جونا بیرنگٹن دو ایسے کھلاڑی تھے جو جسمانی اور دماغی طور پر بہت زیادہ فٹ تھے۔ ان کے خلاف کھیلتے وقت آپ کو ذہنی طور پر بہت مستعد رہنا پڑتا تھا۔ میرا کھیل پاور ہٹنگ سے ہٹ کر تھا۔ میں سائیڈ وال ڈراپ شاٹس، ِنک اور لاب کے ذریعے اپنے حریف کو قابو کرتا تھا لہذا میں اگر ان کے خلاف کامیابی حاصل کرتا تھا تو اپنے ذہن کو مستعد رکھتے ہوئے۔‘

محب اللہ خان جونیئر

ستر کی دہائی میں قمر زمان کے بعد اگر پاکستان نے فتوحات کے لیے جس کھلاڑی پر سب سے زیادہ انحصار کیا وہ محب اللہ خان جونیئر تھے۔ یہی وہ دو کھلاڑی تھے جنھیں ائر مارشل نور خان نے 1975 کی برٹش اوپن سے چند ماہ پہلے ہی ٹریننگ کے لیے لندن بھیجا تھا۔

محب اللہ خان برٹش اوپن اور ورلڈ اوپن نہ جیتنے کو اپنی بدقسمتی سمجھتے ہیں اور ایک سبب ان مقابلوں کے ڈراز کو قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’برٹش اوپن یا ورلڈ اوپن جیسے بڑے ٹورنامنٹ کے ڈراز عالمی رینکنگ کی بنیاد پر اس انداز سے ترتیب دیے جاتے تھے کہ زیادہ تر پاکستانی کھلاڑی کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل میں مد مقابل آ جاتے تھے۔ ہمارے درمیان سخت مقابلہ ہوتا تھا جبکہ دوسری جانب جیف ہنٹ کو نسبتاً آسان ڈراز ملتا تھا اور انھیں فائنل تک پہنچنے میں زیادہ سخت حریف نہیں ملتے تھے۔‘

محب اللہ کو یاد ہے کہ سنہ 1976 میں جب پہلی بار ورلڈ اوپن شروع ہوئی اور اسے برٹش اوپن کے ساتھ مشترکہ ایونٹ کے طور پر منعقد کیا گیا تو وہ فائنل میں جیف ہنٹ کے خلاف پانچ گیمز کے سخت مقابلے میں ہارے تھے۔ اس سے قبل انھوں نے کوارٹر فائنل میں ہدی جہاں اور سیمی فائنل میں قمر زمان کو شکست دی تھی اور یہ دونوں میچ بھی پانچ گیمز میں ختم ہوئے تھے۔

محب اللہ خان کہتے ہیں ʹمیں کبھی اس بات سے مرعوب نہیں ہوا کہ جیف ہنٹ ورلڈ نمبر ایک کھلاڑی ہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو میرے ان سے سخت مقابلے کبھی نہ ہوتے۔ آپ جیف ہنٹ سے بھی پوچھ سکتے ہیں وہ بھی یہی کہیں گے کہ محب اللہ نے مجھے ہمیشہ ٹف ٹائم دیا۔‘

محب اللہ خان نے اپنے کریئر میں متعدد ٹائٹل جیتے۔ انھوں نے آسٹریلین اوپن اور آئرش اوپن میں جیف ہنٹ کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے کریئر کا یادگار لمحہ وہ تھا جب سنہ 1978 میں انھوں نے لندن میں ٹورنامنٹ جیتا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ملکہ برطانیہ نے انھیں جو ٹرافی پیش کی وہ تلوار کی شکل میں تھی جو آج بھی ان کے کمرے کی زینت بنی ہوئی ہے۔

ہدی جہاں

ہدایت جہاں سکواش کی دنیا میں ہدی جہاں کے نام سے مشہور ہیں۔ اپنے طاقتور سٹروکس کی وجہ سے وہ مسٹر ہیمر کہلاتے تھے جنھیں ان کے حریف کھلاڑی کبھی بھی آسان نہیں سمجھتے تھے۔

ہدی جہاں نے صرف ایک بار برٹش اوپن کے فائنل تک رسائی حاصل کی جو 1982 میں اپنی عمر سے پندرہ سال چھوٹے جہانگیر خان کے خلاف تھا۔ جہانگیر خان نے پہلا برٹش اوپن ٹائٹل ہدی جہاں کو ہرا کر حاصل کیا تھا۔

ہدی جہاں کے کریئر میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے دلبرداشتہ ہو کر انھوں نے پاکستان چھوڑ کر انگلینڈ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ انھوں نے دو مرتبہ 1983 اور 1985 میں ہونے والی ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ میں انگلینڈ کی نمائندگی کی۔ 1983 کے فائنل میں انگلینڈ کو پاکستان نے شکست دی تھی جس میں ہدی جہاں تین گیمز کے مقابلے میں جہانگیر خان سے ہارے تھے۔

ہدی جہاں نے جہانگیر خان کے ابتدائی کریئر میں ان کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا اس کا سبب ان کی جہانگیر خان کے بڑے بھائی طورسم خان سے دوستی تھی۔ ہدی جہاں سکواش کی اس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جس میں ان کے تین دیگر بھائی شاہجہاں خان، زرک جہاں خان اور زبیر جہاں خان بھی انٹرنیشنل سکواش کھیلے ہیں۔

ہدی جہاں ایک بار بھی برٹش اوپن نہ جیتنے کے بارے میں کہتے ہیں ʹاس دور میں بہت سخت مقابلہ رہتا تھا۔ ایک ہفتہ پہلے میں ان تمام کھلاڑیوں کو ہرا دیتا تھا لیکن ایک ہفتے بعد میں انہی میں سے کسی ایک سے ہار جایا کرتا تھا۔ اس زمانے میں تمام ہی کھلاڑی ہم پلہ ہوا کرتے تھے۔ چونکہ وہ اٹیکنگ کھلاڑی تھے لہذا کسی دن ان کے سٹروکس چل جاتے تھے اور کبھی نہیں۔ جہاں تک برٹش اوپن فائنل کا تعلق ہے تو جہانگیر خان مجھ سے زیادہ تازہ دم تھے اس کی وجہ یہ بھی تھے کہ وہ مجھ سے پندرہ برس چھوٹے تھے۔ میں نے فائنل میں پہنچنے تک سخت میچز کھیلے تھے جبکہ جہانگیر خان آسانی سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائنل تک پہنچے تھے۔‘

ہدی جہاں بڑے فخر سے کہتے ہیں ʹجس زمانے میں دوسرے کھلاڑی جہانگیر خان کا تین گیمز سے زیادہ دیر تک مقابلہ نہیں کر پاتے تھے میں نے سوانسی میں کھیلی گئی ویلش ماسٹرز میں ان کا پانچ گیمز تک سخت مقابلہ کیا تھا۔ʹ

’ورلڈ چیمپئن الگ ہی پہچانے جاتے ہیں‘

دس بار برٹش اوپن اور چھ بار ورلڈ اوپن جیتنے والے جہانگیرخان کے خیال میں جو ورلڈ چیمپئن ہوتا ہے اس کی فتوحات کا درجہ اور سوچ دوسرے کھلاڑیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ عالمی نمبر ایک یا عالمی چیمپئن کھلاڑی اہم ٹورنامنٹس میں ہمیشہ بھرپور تیاری اور واضح سوچ کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور وہ اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ٹریننگ اور محنت پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ ’محب اللہ خان، گوگی علاؤالدین اور ہدی جہاں یقیناً بڑے کھلاڑی تھے لیکن کچھ نہ کچھ کمی تھی جس کی وجہ سے یہ تینوں برٹش اوپن یا ورلڈ اوپن نہ جیت سکے۔ اس میں ان کا ذہنی اور جسمانی طور پر اتنا فٹ نہ ہونا بھی کہہ سکتے ہیں اور ٹریننگ اور فٹنس کا فرق بھی کہہ سکتے ہیں جو ان کے اور چیمپئن کھلاڑیوں کے درمیان ہوتا تھا۔‘

تینوں غیرمعمولی کھلاڑی لیکن بدقسمت بھی

انٹرنیشنل سکواش کی طویل عرصے تک کوریج کرنے والے برطانوی صحافی اور تجزیہ کار رچرڈ ایٹن بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محب اللہ خان، گوگی علاؤالدین، ہدی جہاں اور قمرزمان غیر معمولی کھلاڑی تھے۔ اگر یہ آج کے دور میں کھیل رہے ہوتے تو زیادہ ٹورنامنٹس جیت لیتے۔ محب اللہ خان کا ورلڈ اوپن یا برٹش اوپن نہ جیتنا زیادہ حیران کن ہے کیونکہ گیند پر ان کی ضرب بہت طاقتور ہوا کرتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہدی جہاں کا کھیل بھی بہت عمدہ تھا لیکن وہ جسمانی طور پر ہنٹ، جہانگیر اور بیرنگٹن کی طرح مضبوط نہیں تھے۔

گوگی علاؤالدین ایک آرٹسٹ کی طرح تھے جن کے کھیل میں ورائٹی تھی وہ ایک بیلے ڈانسر کی طرح کورٹ میں حرکت کرتے تھے لیکن ان کے کھیل میں زیادہ شدت نہیں تھی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15378 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp