بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟

خدائے نور ناصر - بی بی سی ، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغان مذاکرت دوحہ

EPA
افغانستان کی چالیس سالہ بدامنی بالخصوص گذشتہ بیس برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہفتے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پہلی مرتبہ بین الافغان مذاکرات کا رسمی طور پر افتتاحی اجلاس ہوا۔

مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں اگرچہ افغانستان سے گئے ہوئے افغان حکومتی وفد کی سب سے پہلی ترجیح جنگ بندی تھی، لیکن طالبان وفد کے لیے جنگ بندی سے زیادہ اہم کچھ اور مسائل تھے، جو اُن کے مطابق جنگ بندی سے پہلے حل ہونے چاہیے۔

بی بی سی پشتو کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان کے سابق ترجمان اور مذاکراتی ٹیم کے رکن سہیل شاہین نے کہا کہ جنگ بندی سے پہلے وہ عوامل ختم کرنے ہوں گے جس کی وجہ سے جنگ جاری ہے۔

’ہم بھی جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن جنگ بندی کی اپنی جگہ ہے، یہاں افغانستان کے نظام کے بارے میں مسائل ہیں، جن پر بحث ہو گی۔ جب ایک ایسا نظام بنے گا جو سب کو قابل قبول ہو گا، تب جنگ ختم ہوگی۔‘

سہیل شاہین کے مطابق اُنھیں اُمید ہے کہ اس بات چیت کے ذریعے یہ مسائل حل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

بین الافغان مذاکرات، پاکستان اور انڈیا سمیت تمام ملکوں کا مثبت ردعمل

’افغان حکام، دولت اسلامیہ رہا ہونے والے طالبان قیدیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘

’نہ کبھی اتحادیوں کو بھولیں گے، نہ 9/11 کو‘ مائیک پومیو

سہیل شاہین

BBC
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ بات ہوئی ہے کہ جنگ بندی پر بحث بین الافغان مذاکرات میں ہوگی۔ تاہم اُنھوں نے یہ بتایا کہ بین الافغان مذاکرات کے لیے اُن کا ایجنڈا کیا ہو گا۔ دوسری جانب افغان حکومتی وفد میں شامل تمام ارکان بین الافغان مذاکرات میں سب سے زیادہ جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں۔

طالبان کا میڈیا گروپ بھی فعال

اس اجلاس میں کابل سے بعض افغان خواتین صحافی بھی تھیں جنھوں نے طالبان وفد کے اراکین سے انٹرویو کیے۔ تاہم دلچسپ بات یہ تھی کہ اس افتتاحی اجلاس میں طالبان کے میڈیا گروپ سے منسلک افراد کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جن کے عجیب و غریب سوالات سوشل میڈیا کے زینت بنے۔

کابل سے دوحہ آئے ہوئے افغان وفد کے ایک رکن نادر نادری اور طالبان کے میڈیا سے منسلک ایک شخص کی ایک ویڈیو افغانستان میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ نادر نادری سے تند و تیز سوالات کرتے ہیں تاہم مدمقابل سے بھی جوابات اُسی رفتار سے موصول ہوئے۔

وہ پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ کہتے تھے کہ طالبان کو پنجابی مشورے دیتے ہیں، آپ بتائیں کہ طالبان وفد میں کوئی پنجابی ہے؟ نادر نادری اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ آپ کا الگ موقف ہے، ہمارا الگ اور اسی لیے قطر آئے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ جائیں اور ان کا حل نکالیں۔

پھر نادر نادری سے ایک اور سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے احساسات کیا ہیں جب آپ آج اُن لوگوں کے سامنے بیٹھے ہیں، جن کے گھروں پر آپ گذشتہ 19 برس سے بمباری کیا کرتے تھے؟ اس کے جواب میں افغان حکومتی وفد کے رکن کہتے ہیں کہ ’اگر احساسات کی بات ہیں تو میرے بھتیجے کو طالبان نے مارا، عوام کو مار رہے ہیں، لیکن ہم یہاں یہ باتیں کرنے نہیں آئے ہیں، دونوں طرف سے افغان مر رہے ہیں۔‘

ایک اور سوال میں طالب صحافی نادر نادری سے افغان وفد کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ وفد افغان عوام کا نمائندہ وفد ہیں یا افغان حکومت کا؟ نادر نادری اس کے جواب میں کہتے ہیں ’یہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کا وفد ہیں جس کو افغان صدر کی تائید حاصل ہیں اور افغان صدر افغان عوام کی ووٹ پر صدر بنے ہیں۔‘

طالب صحافی: وہ صدر جو صرف ایک ملین ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے؟

نادر نادری: ملا ہیبت اللہ صاحب کے پاس تو ایک ووٹ بھی نہیں ہے؟ اور کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

افغان مذاکرات دوحہ

EPA
خاتون صحافی حجاب میں ہوں گی

افغان مذاکرات کی کوریج کے لیے بی بی سی پشتو کی کابل میں رپورٹر شازیہ حیا بھی دوحہ میں موجود ہیں، جہاں دیگر افغان خواتین صحافیوں کی طرح اُنھوں نے بھی طالبان وفد کے اراکین سے انٹرویو کیے۔

شازیہ حیا نے ایک انٹرویو میں طالبان کے سابق ترجمان اور مذاکراتی ٹیم کے رکن سہیل شاہین سے پوچھا کہ اگر وہ واپس افغانستان آ جائیں تو کیا ایک خاتون صحافی کی حیثیت سے وہ اُن سے انٹرویو کر سکیں گی؟ سہیل شاہین نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اگر خواتین صحافی اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر حجاب میں آئیں گی تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

طالبان وفد میں کوئی خاتون کیوں نہیں؟

بین الافغان مذاکرات کے لیے اگرچہ افغان حکومتی وفد میں پانچ خواتین شامل ہیں تاہم طالبان وفد میں حسب معمول ایک بھی خاتون نہیں ہیں۔ بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی تقریب میں بہت سارے صحافیوں نے طالبان وفد کے اراکین سے الگ الگ اس بارے میں پوچھا کہ آپ کی وفد میں خاتون کیوں نہیں ہیں؟

سہیل شاہین نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ وفد میں خواتین کی موجودگی سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی بات کی جائے۔ اُن کے مطابق جہاں تک خواتین کو کام کرنے اور تعلیم کے حق کی بات ہیں تو وہ اسلامی نظام کے عین مطابق افغانستان کی تمام خواتین کو دیا جائے گا۔

ایک صحافی نے یہی سوال طالبان کے سیاسی دفتر کے نئے مقرر ہونے والے ترجمان محمد نعیم سے پوچھا جس کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ ’خواتین کو مساوی حق دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وفد میں ایک مرد ہو تو دوسری خاتون ہونی چاہیے۔‘

اُن کے مطابق یہ خواتین کا حق نہیں کہ ہر جگہ خاتون موجود ہو، بلکہ اُن کے حقوق کے لیے عملی سطح پر کام کرنا چاہیے۔ ’کیا اگر ایک خاتون ایک گروپ میں یا ایک وفد میں شامل ہو جائے تو کیا تمام خواتین کا حق ادا ہوا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15511 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp