چین کی عورتیں کتنی آزاد ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کی عورتیں کس حد تک آزاد ہیں اکثر پاکستانی یہ جاننے کے خواہش مند ہوں گے ۔ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے یقیناً عورتوں کوکچھ ایسے اقتصادی اور سیاسی حقوق ملے ہیں جو انہیں پہلے حاصل نہ تھے، خصوصاً ملازمت کرنے کا حق اور مردوں کے مساوی تنخواہ حاصل کرنے کا حق، اکثر عورتوں نے بڑی کامیابی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں میں مردوں کو چیلنج کرتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ اور اب وہ کسی طور پر کم ترنہیں رہی ہیں لیکن کیا صرف ملازمت کا حق کافی ہے یا خواتین کو مزید حقوق کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہیے؟

اس کا جواب یقیناً اثبات میں ہے۔ عورتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کا پہلا عائلی قانون 1953 میں نافذ کیا گیا لیکن پرانی اخلاقی اقدار اور ہزاروں سالہ پرانے جاگیرداری معاشرے کے کٹر انتہاپسندوں کا رو یہ ایک دم تو تبدیل نہیں ہو سکتا تھا۔ عورتوں کے رسالوں میں ایسی عورتوں کی کہانیاں شائع ہوتی رہتی تھیں جن سے ملک بھر میں گرما گرم بحث چھڑ جاتی تھی مثال کے طور پر پر ایک 32 سالہ خاتون جو سالوں سے اپنے بیمار شوہ ر کی تیمارداری کر رہی تھی، شادی کے فوراً بعد ایک حادثے کے نتیجے میں اس کے شوہر کانچلا دھڑ مفلوج ہو گیا تھا۔

اسی طرح ایک اور لڑکی کی کہانی تھی جس نے دو سال قبل ایک سپاہی سے اس لئے شادی کر لی کیونکہ اس کے یعنی سپاہی کے والدین سخت بیمار تھے۔ وہ مزدوری کرتی تھی، ساس سسر کو کھانا پکا کر کھلاتی، ان کے کپڑے تبدیل کرتی کیونکہ وہ ایک لوک کہانی سے متاثر تھی جس میں ایک نوجوان لڑکی اپنے ساس سسر کے علاج کے لیے اپنا دل اور جگر دے دیتی ہے۔ مغربی ممالک کے لوگوں کو کو ہو سکتا ہے یہ کہانیاں حیرت انگیز لگیں لیکن چین کے معاشرے پر دو ہزار سال تک کنفیوشس کا اثر رہا ہے جس کے تحت شوہر کا فرمانبردار رہنا عورت کی سب سے بڑی خوبی تھا۔

اب بڑے شہروں کے لوگ روشن خیال اور ترقی پسند ہیں اور لڑکی یا لڑکے میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ عورتیں سیاسی اور اقتصادی طور پر آزاد ہو چکی ہیں لیکن فرسودہ تصورات ابھی بھی لوگوں کی شخصیت کو مسخ کر رہے ہیں اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ ترقی کا انحصار خواندگی اور معیشت کے مزید فروغ پر ہے گو کہ چین کے آئین کے تحت مردوں اور عورتوں میں مکمل مساوات پائی جاتی ہے لیکن ”عملی طور پر مرد اور عورت برابر اس لیے نہیں ہو سکتے کہ بچے کی پیدائش کے فریضہ کو دونوں میں مساوی طور پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا“ ۔

چین میں بچوں کی پیدائش کو حکومت اورمعاشرے کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے اس لیے اس سے متعلقہ مسائل بھی حکومت اور معاشرے ہی کو حل کرنا چاہیے مثال کے طور پر ایک ملازمت پیشہ خاتون کی کارکردگی کا تخمینہ لگاتے وقت اس توانائی اور وقت کا حساب بھی لگانا چاہیے جو وہ بچوں اور گھر پر صرف کرتی ہے اگر عورت کے بچے کی عمر تین سال سے کم ہوتوا ہے تو اسے زیادہ تعطیلات ملنی چاہئیں۔ اب اس بات کو تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کرکے ماں دراصل معاشرے کی خدمت کرتی ہے۔ بچے کی پیدائش نشوو نما اور تربیت کے ساتھ ساتھ عورت اپنی ذہانت اور تعلیم کا معاشرے کی ترقی کے لئے بھر پور استعمال کرے، اس کے لیے بہت سے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ چین کی عورت پاکستان کی ملازمت پیشہ خواتین کی طرح دوہری تہری ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

1960 کے عشرے میں جب دنیا میں فیمنزم کی دوسری لہر آئی ہوئی تھی تو چین میں یہ بات فخر کے ساتھ کہی جاتی تھی کہ عورتوں کی آزادی کے معاملے میں چین صف اول میں ہے۔ پوسٹرز میں چینی عورت کو ٹریکٹر چلاتے، ہائی وولٹیج کی تاروں کی مرمت کے ساتھ ساتھ بچے کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ عورتوں نے نصف آسماں اٹھا رکھا ہے۔ کنفیوشش کی تعلیمات کے پیش نظر بیسویں صدی سے پہلے تک عورت کی حیثیت کمتر درجے کی تھی۔ لیکن کمیونسٹ پارٹی نے عورتوں کو اپنی صفوں میں شامل کر کے انہیں برابر کا انسان تسلیم کیا۔ آج چینی کمیونسٹ پارٹی کے شدید ناقد بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پارٹی نے خواہ کتنی بھی غلطیاں کی ہوں لیکن عورتوں کے مرتبے کو بلند کرنے کے لئے اس نے بہت اچھے اقدامات کیے ہیں۔

پہلے خواتین کے پاؤں چھوٹے رکھنے کے لئے انہیں لوہے کے جوتے پہنائے جاتے تھے کیونکہ چھوٹے پاؤں خوبصورتی کی نشانی سمجھے جاتے تھے۔ بعد میں ایسی کئی خواتین نے اپنے ننھے ننھے پیروں کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے لانگ مارچ میں شرکت کی۔

انقلاب سے پہلے جسم فروشی عام تھی لیکن 1949 کے انقلاب کے بعد سماج سے اس لعنت کا یکسر خاتمہ کر دیا گیا۔ ان خواتین کو با عزت روزگار فراہم کیا گیا اور ساری عورتوں کو سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں کے علاوہ خاندان میں بھی مردوں کے مساوی حقوق دیے گئے۔ چینی حکومت نے قانونی، انتظامی اور تعلیمی ذرائع کی مدد سے عورت کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کا خاتمہ کیا اور انہیں اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے مواقع دیے۔ عورت کو خود آگاہ، خوددار اور خود اعتماد بنایا۔ لیکن ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، ابھی بھی کچھ لوگ عورت کا احترام نہیں کرتے اور ابھی بھی کچھ معاملات میں عورت کے خلاف امتیاز روا رکھا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ نے عورتوں کی پہلی عالمی کانفرنس بیجنگ میں 1995 میں کرائی تھی جس کی بدولت چینی عورت کا مقام و مرتبہ دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ 1954 میں جب کمیونسٹ حکومت کی پہلی عوامی قومی کانگرس منعقد ہوئی تو ڈپٹی خواتین کی تعداد 147 یعنی مجموعی تعداد کا بارہ فی صد تھی لیکن 1993 میں ہونے والی آٹھویں کانگرس تک یہ تعداد بڑھ کر 626 ہو گئی۔ 1997 میں مرکزی حکومت میں تین خواتین وزیراور چودہ خواتین نائب وزیر تھیں۔

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے حکومت نے ہمیشہ صنفی مساوات قائم کرنے پر زور دیا لیکن دنیا پر اپنے دروازے کھولنے کے بعد سے کچھ ایسے پروگراموں کو بھی اسپانسر کیا جا رہا ہے جو روایتی صنفی کرداروں اور ذمہ داریوں کو فروغ دے کر عورتوں کی محکومیت کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2017 میں سیچھوان صوبے میں دیانگ ویمن فیڈریشن نے لڑکیوں کی ”سمجھداری اور سلیقہ مندی“ کی کلاس میں سلائی کڑھائی کا تربیتی کورس شروع کیا۔ 2018 میں چیانگسو صوبے میں زنچیانگ ویمن فیڈریشن نے

’نیو ایرا ویمن اسکول‘ قائم کیا جہاں لڑکیوں کو نشست و برخاست کے آداب سکھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح منچھن ویمن فیڈریشن نے ایک کورس کا اہتمام کیا جس میں عائلی تعلیم کے ایک ماہر نے بتایا کہ ایک اچھی ماں، بیوی اور بیٹی بننے کے لئے عورت کو کیا کرنا چاہیے۔ اب ویمن فیڈریشن کی ویب سائٹ پر روایتی باتیں ملتی ہیں یعنی عورت کی سب سے بڑی خوبی ایک اچھی ماں اور بیوی بننا ہے وغیرہ۔ غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ان لڑکیوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے کیا جا رہا ہے جو شادی کے بندھن میں بندھنے سے انکاری ہیں۔ چین میں بے مثال جنسی عدم توازن پایا جاتا ہے۔ چین میں عورتوں کے مقابلے میں چونتیس ملین مرد زیادہ موجود ہیں جو ماضی میں

’فی جوڑا ایک بچہ‘ کی پالیسی کے زمانے میں بچے کی جنس پتا چل جانے کے بعد اسقاط حمل کرانے کی روش کا نتیجہ ہے۔

صنفی امتیاز کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اسامیوں کے اشتہارات میں صنفی امتیاز نظر آتا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مردوں کو ترجیح دی جانے لگی ہے گویا:

پھر آ گئے وہیں پہ، چلے تھے جہاں سے ہم

اس سیریز کے دیگر حصےکرکٹ بیجنگ میںبیجنگ میں نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدا لسلام سے ملاقات
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •