ابصار عالم، ایک اور غدار – خصوصی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہلم کے ایک وکیل صاحب کو اطلاع ملی ہے کہ ابصار عالم غدار ہے۔ آپ کو شاید یاد نہ ہو، ابصار عالم ایک صحافی ہیں جو چند سال پہلے پیمرا کے چیرمین بھی تھے۔

ایک اچھے اور محب وطن شہری کی طرح، وکیل صاحب نے پولیس کو اطلاع دی اور یوں ان کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔ شہری اور پولیس دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک قومی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ کی۔ امید کرتے ہیں کہ باقی مراحل بھی اسی شتابی سے طے ہوں گے اور ’مجرم‘ کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا۔

اس ملک کی حکومتوں اور عوام میں لاکھ خرابیاں ہوں گی، مگر ایک خوبی ان تمام خرابیوں پر بھاری ہے :مذہب اور وطن سے بہت محبت کرتے ہیں۔ کسی گستاخ مذہب اور کسی غدار وطن کو اپنی صفوں میں گوارا نہیں کرتے۔ ہم اس بارے میں اتنے حساس ہیں کہ مجرم قرار دینے کے لیے الزام کو کافی سمجھتے ہیں۔ ثبوت وغیرہ کے تردد میں نہیں پڑتے۔ غدار سازی کی صنعت میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ غدار پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ غدار غاروں میں جا بسیں، توبھی انہیں چھوڑا نہیں جاتا۔ انہیں ایسی جگہ سے مارا جاتا ہے کہ انہیں اس کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ خس کم، جہاں پاک۔ مطلب یہ کہ پاک سرزمین پر خس کا کیا کام!

اکبر بگتی تو آپ کو یاد ہی ہوں گے۔ انہیں غداری کی ایسی سزا ملی کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ غار میں چھپ کر سمجھتے تھے کہ بچ جائیں گے۔ پھر انجام کیا ہوا؟ ان کا معاملہ تو اتنا واضح تھا کہ کسی عدالت میں مقدمہ چلانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ کون وکیلوں کی فیس اور عدالت کا وقت ضائع کرتا۔ حکومت کا ایک پیسہ صرف نہیں ہوا اور غدار انجام کو پہنچ گیا۔ یہ ہوتی ہے حب الوطنی!

اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان پر بہت سخت وقت بھی آئے۔ ایک بار تو انتہا ہو گئی۔ ہمارا ایک بازو کٹ گیا۔ یہ غداروں کا کیا دھرا تھا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ کوئی غدار بچنے نہ پائے۔ کوشش میں تو کوئی کمی نہ ہوئی، لیکن افسوس کہ قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ غدار کامیاب ہو گئے۔ جنرل یحییٰ خان نے رات دن ایک کر دیا۔ یعنی دن کو بھی رات بنائے رکھا کہ ملک متحد رہے لیکن شیخ مجیب الرحمٰن جیسے غداروں نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ وہ غدار اپنے انجام کو پہنچا۔ یحییٰ خان جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ملکی خدمات کے صلے میں، قومی پرچم میں لپیٹ کر حوالہ خاک کیے گئے۔ ملک دو لخت ہو گیا لیکن اللہ کا شکر کہ غداروں سے پاک ہو گیا۔ پاک سرزمین پر کوئی ناپاک وجود کیسے رہ سکتا ہے؟

یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو غداروں کی وکالت کرتے ہیں۔ انہوں نے کوشش کی کہ غداری کی تعریف ہی بدل دی جائے۔ انہوں نے آئین میں ایک ’آرٹیکل چھ‘ کو شامل کر دیا۔ یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ جو اس ملک کے آئین کو منسوخ کرے، توڑے، عارضی التوا میں ڈالے، معطل کرے یا اس کی کوشش کرے، وہ غدار ہوگا۔ یہی نہیں، جو اس کام میں اس کی معاونت کرے گا، وہ بھی شریک جرم ہو گا۔

ستم در ستم، اسے آئین تک محدود نہیں رہنے دیا گیا بلکہ بعض نے اس کا اطلاق بھی کرنا چاہا۔ جیسے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس آرٹیکل کے تحت مقدمہ بھی قائم کر دیا۔ یہ تو قدرت نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ دبئی جا بسے، ورنہ ایسے لوگوں کے بس میں ہوتا تو سزا دلا کر رہتے۔ اب جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔ ویسے جنرل صاحب کے پاس لندن میں بھی گھر موجود تھا لیکن انہوں نے ایک اسلامی ملک میں قیام کو ترجیح دی۔ لوگ ایسے نیک آدمی کو سزا دینا چاہتے تھے اور وہ بھی غداری کی۔ کوئی حد ہوتی ہے کسی بات کی!

چلیں، وہ دوسرے ملک جا بسے، اب تو خاموش ہو جائیں لیکن نہیں۔ شکر ہے کہ ملک کی باگ محب وطن لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ وزیر قانون نے پہلے ہی دن خبردار کر دیا کہ اس معاملے پر کوئی بات نہ ہوگی۔ ان سے پوچھا گیا تو فرمایا: ’نو کمنٹس‘ ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب بھی یہ سوال ہوگا، یہی جواب ملے گا۔ عمران خان صاحب نے تو خیر کبھی مشرف صاحب کا نام ہی نہیں لیا۔ ان کے سامنے زیادہ اہم مقاصد ہیں جیسے کرپٹ سیاست دانوں کا خاتمہ۔

اپوزیشن تعاون کرے تو خان صاحب آئین سے یہ شق ہی نکال دیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے اپوزیشن محب وطن ہو۔ جو اپوزیشن فیٹف جیسے معاملے پر بھی سودا بازی کرے اور این آر او مانگے، اس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ اتنے اہم معاملے میں تعاون کرے گی؟ اپوزیشن کو قومی مفاد کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ کیوں آئین کی اس تبدیلی میں ساتھ دے گی؟

مجھے خیال ہو تا ہے کہ عمران خان ماضی کے ان بیانات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے مشرف صاحب کے خلاف دیے تھے۔ انہوں نے دو سال میں مشرف کے ذکر سے گریز اور ان کے خلاف مقدمے کی پیروی نہ کرتے ہوئے، بہت حد تک اس غلطی کی تلافی کر دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ جب تک وہ اس منصب پر ہیں، کوئی مشرف صاحب کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ بہت سے صحافی اور سیاست دان بطل حریت بننے کے چکر میں انہیں یاد دلاتے رہتے ہیں اور اپنے تئیں مدعی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے اگر یہ شعر نہیں سن رکھا تو اب سن لیں تاکہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں :

مدعی لاکھ برے چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

جس طرح اب پرویز مشرف جسے محب وطن کو غدار نہیں بنایا جا سکتا، اسی طرح کسی غدار کو اب محب وطن بننے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ آخر ایسے لوگ کیوں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکیں؟ جہلم کے وکیل صاحب نے ابصار عالم کے خلاف مقدمہ قائم کر کے ایک فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ میں ان کی بصیرت کی بھی داد دیتا ہوں کہ جس بات کی خبر اسلام آباد کے با خبر لوگوں کو نہیں ہو سکی، ایک نسبتاً پسماندہ علاقے میں ایک شہری نے اس کا کھوج لگا لیا۔

رشید احمد صدیقی نے لکھا تھا کہ پنجاب نے صرف علامہ اقبال ہی نہیں، ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کو بھی پیدا کیا۔ اگر وہ آج ہوتے تو لکھتے کہ جہلم نے گلزار جیسا شاعر اور فواد چوہدری صاحب جیسا نابغہ ہی پیدا نہیں کیا، نوید احمد صاحب جیسے وکیل بھی پیدا کیے ہیں۔ اب جس ملک کے شہری اتنے بیدار مغز ہوں وہاں کوئی غدار کیسے بچ سکتا ہے؟ جزاک اللہ ثم جزاک اللہ۔

ابصار عالم نے ایک طویل عرصہ صحافت میں گزارا۔ اہل صحافت ان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ تین سال میں زبان حال سے بتایا کہ وہ عزیمت کے راستے پر چل سکتے ہیں جس کا حوصلہ کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز زبان پر لا سکتے اور اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ دو سالوں سے یہی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ صحافت تو کب کی چھوٹ چکی۔

غداری لیکن دوسری بات ہے۔ اس کو تو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی بہت دن ہوئے، کوئی نیا غدار سامنے نہیں آیا۔ کب تک پرانے غداروں سے کام چلائیں گے؟ اشیا اپنے اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔ غدار سامنے آئیں گے تو محب وطن لوگوں کی پہچان ہوگی۔ نوید صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے وزیراعظم سے ایک اور درخواست کریں : ہر شہری انصاف لائرز فورم کا ایک تصدیق نامہ جیب میں رکھے کہ وہ محب وطن ہے۔ بصورت دیگر غدار متصور ہوگا۔ اس طرح غداروں کی نشان دھی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا آسان ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •