جبری گمشدیوں کے کمیشن کی مدت میں توسیع نہ کریں، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی سفارش

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاپتہ افراد

Getty Images
فائل فوٹو

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ (آئی سی جے) نے پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کے معاملات کو دیکھنے کے لیے بنائے گئے کمیشن کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس کمیشن کی مدت میں توسیع نہ کرنے کی سفارش کی ہے۔

آئی سی جے نے کہا ہے کہ یہ کمیشن جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کے واقعات میں ملوث افراد کا تعین نہیں کرسکا اور اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانے میں بھی ناکام رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کی مدت پیر 14 ستمبر کو ختم ہو چکی ہے۔

وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق اس کمیشن کی مدت میں توسیع کے حوالے سے سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے اور اس سمری کی منظوری کے بعد کمیشن کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکشن جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کو انکوائری ایکٹ سنہ 1956 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا بعدازاں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں اس میں ترمیم کر کے اس کو کمیشن آف انکوائری ایکٹ سنہ2017 کا نام دیا گیا تھا۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے کمیشن کی تشکیل اور کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

جنیوا میں قائم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے جو کہ دنیا کے متعدد ممالک کے نامور ماہرین قانون پر مشتمل ہوتا ہے، اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی اس کمیشن کا سربراہ مقرر کرسکتی ہے اور اگر اس کمیشن میں ایک فرد سے زیادہ ہو تو پھر ان میں سے ایک اس کمیشن کی سربراہی کرے گا۔

آئی سی جے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ کسی طور پر بھی بین الاقوامی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جس ایکٹ کے تحت یہ کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اس میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کمیشن نیک نیتی سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرتا ہے اس لیے وفاقی حکومت یا کمیشن کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر نہیں کی جاسکتیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد سے 8 ماہ قبل لاپتہ ہونے والا شخص بازیاب

’تشدد کرتے ہوئے کہتے تمھیں معلوم ہے کہ تمھیں کیا بولنا ہے؟‘

’موجودہ دور حکومت میں بلوچستان سے تقریباً 1500 جبری گمشدگیاں ہوئیں‘

آئی سی جے نے اپنی رپورٹ میں ایڈ آف سول پاور کے قانون کو انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے وزیر اعظم کسی شخص یا ادارے کو لامحدود اختیارات دے دیتے ہیں اور وہ ادارہ یا شخص کسی بھی فرد کو جتنا عرصہ چاہے اپنی حراست میں رکھ سکتا ہے۔

پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے کام کے بارے میں آئی سی جے نے کہا ہے کہ اس کمیشن کی تعریف کے بارے میں بڑے مسائل ہیں یعنی اگر کوئی شخص کسی خفیہ ادارے کی تحویل میں ہے تو اسے جبری طور پر لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

آئی سی جے نے اپنی رپورٹ میں ان 213 افراد کا بھی ذکر کیا ہے جنہیں مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور پھر اس عرصے کے دوران ان کی اموات ہوگئیں اور کمیشن نے ان جبری گمشدگیوں کے بارے میں فائلیں بند کردیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے بنیادی حقوق کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ سنہ 1970 سے چلا آرہا ہے تاہم ان واقعات میں تیزی اس وقت آئی جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے گذشتہ برس پاکستان کا دورہ کیا اور اُنھوں نے ایسے واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ ’پاکستان میں سنہ 1980 سے لیکر سنہ 2019 تک 1144 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘

پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے جس کا ذکر اقوام متحدہ کے جبری طور پر لاپتہ افراد کے کنونشن کے ارکان نے پاکستان کے دورے کے بعد کیا ہے۔

ان تنظیموں کے مطابق اب بھی یہ تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے جبکہ اس کمیشن کے مطابق ان کے پاس 6 ہزار سے زیادہ ایسی درخواستیں زیر سماعت ہیں جو کہ جبری طور پر گمشدگی سے متعلق ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال گذشتہ 9 سال سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کمیشن کے سربراہ ہیں اور ان کی زیر نگرانی کام کرنے والے اس کمیشن کی کارکردگی کے بارے میں پاکستان میں بھی کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوالات اُٹھائے ہیں۔

پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن میں جب کسی شخص کی جبری گمشدگی کے بارے میں رپورٹ دی جاتی ہے تو اس شخص کے اہلخانہ کو ایک فارم دیا جاتا ہے جس میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ شخص اپنی مرضی سے کہیں گیا ہے اور کیا اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور وہ پولیس کی تحویل میں تو نہیں، پھر اس کے بعد اس کی جبری گمشدگی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔

اگر جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثا یہ کہیں کہ ان کے پیاروں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے تو اس کی تحققیات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس ،ملٹری انٹیلیجنس کے علاوہ سویلین ادارے انٹیلیجنس بیورو اور متعقلہ ضلعے کا ایس پی رینک کا افسر شامل ہوتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ کمیشن کے حوالے کی جاتی ہے جس کی روشنی میں کمیشن فیصلہ کرتا ہے۔

جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص کو زبردستی اٹھایا گیا ہے اور وہ کسی ریاستی ادارے کے پاس ہے تو کمیشن اس ادارے کو حکم دیتا ہے کہ اس شخص کو کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔

جبری طور پر لاپتہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق اس کمیشن کی طرف سے جاری کیے جانے والے پروڈکشن آرڈر کو کوئی ریاستی ادارہ جو کہ مبینہ طور پر ایسے واقعات میں ملوث ہوتا ہے، ’سنجیدگی سے نہیں لیتا‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس کمیشن کے رجسٹرار نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ کمیشن کی طرف سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ایسے 70 افراد کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے تھے اور اُنھیں کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا کہا گیا تھا لیکن ان پر کسی ادارے نے عمل درآمد نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی مدت ملازمت کے آخری دن 35 افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور چیف جسٹس شام تک عدالت میں بیٹھے رہے لیکن ’آج تک اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کروایا جاسکا جبکہ اس کے بعد پانچ سے زیادہ چیف جسٹس صاحبان اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں۔‘

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم خود بھی کچھ عرصہ خفیہ اداروں کی تحویل میں رہے ہیں۔

سنہ 2014 کے ایک عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح لکھا تھا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی یا رینجرز کو کسی طور پر بھی کسی فرد کو اٹھانے کا اختیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ سال سے لاپتہ شخص محمد عمران کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ کمیشن نے بھی اس واقعے کو جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں ڈالا ہے جبکہ وزارت دفاع کے حکام کہہ رہے ہیں کہ مذکورہ شخص ان کی تحویل میں نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر مذکورہ شخص بازیاب نہ ہوا تو وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوں گے کہ ’ریاست شہریوں کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔‘

سپریم کورٹ

BBC
صحافی راشد حبیب کے مطابق مختلف عدالتوں میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے درخواستوں کی سماعت کے دوران جب عدالتوں کی طرف سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو اس کے کچھ دیر کے بعد ہی اس کمیشن کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کردی جاتی ہے جس میں اس کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی 'بہترین' کارکردگی کے راگ آلاپے جاتے ہیں۔

جری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے رجسٹرار فرید احمد خان کی طرف سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق اس سال جولائی تک کمیشن نے 4616 مقدمات کو نمٹایا ہے جبکہ ابھی بھی اس کمیشن کے پاس 6729 درخواستیں زیر التوا ہیں۔

راشد حبیب کا کہنا ہے کہ ملک میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے 17 ستمبر کو ایک اجلاس طلب کیا ہے اور اس اجلاس کے ایجنڈے میں ملک میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد زیادہ ہیں جبکہ خیبر پختونخوا ان واقعات کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے افراد کی بازیابی کے لیے جوادارہ بنایا گیا ہے اس کی کارکردگی کو کسی طور پر بھی بہتر نہیں کہا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ جو ادارہ اپنے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرواسکتا تو ایسے ادارے کا نہ ہونا ہی بہتر ہے تاکہ لوگوں کو یہ تو معلوم ہو جائے کہ ان کی دارسی کے لیے پاکستان میں کوئی فورم موجود نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15498 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp