نوجوان کو جب اپنا کھویا ہوا فون ملا تو اس میں بندر کی سیلفیاں تھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملائیشیا میں ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ اسے اپنے موبائل فون پر ایک بندر کی سیلفیاں اور ویڈیوز ملی ہیں۔ اس شخص کا یہ فون کھو گیا تھا جو اسے گھر کے پیچھے جنگل سے ملا ہے۔

فون میں جو مواد موجود ہے اس میں ایک بندر کی فوٹیج بھی ہے جو بظاہر فون کو کھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سارا مواد فون کے مالک زیکریڈز روڈزی نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا جس کے بعد اسے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔

20 برس کے طالبِ علم زیکریڈز روڈزی کے مطابق وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ جب وہ سو رہے تھے تو ان کا فون چوری ہو گیا۔ تاہم یہ ابھی بھی واضح نہیں کہ فون کیسے غائب ہوا تھا۔

یہ بھی ممکن نہیں کہ ان حالات کی تصدیق کی جا سکے کہ یہ تصاویر اور ویڈیو ان کے فون میں کیسے آئے۔

زیکریڈز نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح 11 بجے جب وہ سو کر اٹھے تو انھیں احساس ہوا کہ ان کا فون غائب ہے۔

‘چوری کا کوئی نشان نہیں تھا۔ صرف یہ ذہن میں آیا کہ کیا یہ کسی طرح کا جادو ہے۔’

زیکریڈز ملک کی جنوبی ریاست جوہور میں رہتے ہیں اور کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کے آخری سال میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بندر کی سیلفی کا حقدار کون؟

انڈیا کی سڑکوں پر بس ’چلاتا‘ بندر

’فلسفی‘ بندر، نڈھال تیندوا اور ہر پائپ میں الّو

فون غائب ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد دوپہر دو بج کر ایک منٹ پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں ایک بندر کو دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر فون کو کھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ویڈیو بی بی سی کو بھی بھیجی گئی ہے۔ ویڈیو میں بندر فون کے کیمرے کی جانب گھور رہا ہے اور پس منظر میں ہرے پتے اور پرندوں کی آوازیں گونج رہی ہیں۔

اس کے علاوہ فون میں بندر، درختوں اور پودوں کی بہت سی دوسری تصاویر بھی موجود ہیں۔

زیکریڈز کا کہنا ہے کہ وہ اپنا فون ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ اگلے روز یعنی اتوار کی دوپہر ان کے والد نے گھر کے باہر ایک بندر کو دیکھا۔

اس کے بعد زیکریڈز نے ایک دوسرے فون سے اپنے فون پر کال کی تو انھیں قریب ہی جنگل سے اپنی رنگ ٹون سنائی دی۔ وہ وہاں گئے تو انھیں ایک کھجور کے درخت کے نیچے کیچڑ میں لتھڑا ہوا اپنا فون مل گیا۔

ان کے انکل نے مذاق سے کہا کہ شاید چور کی تصویر اس فون میں ہو۔ اس کے بعد زیکریڈز نے اپنا فون صاف کیا، تصاویری گیلری کھول کر دیکھی اور حیران رہ گئے کیوں کہ وہ بندر کی تصاویر سے بھری ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ایسے علاقوں کے برعکس جہاں بندر شہری علاقوں کے آس پاس رہتے ہیں، ان کے علاقے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بندر نے کسی کے گھر سے کوئی چیز چوری کی ہو۔

زیکریڈز کو شبہ ہے کہ یہ بندر ان کے بھائی کے کمرے کی کھڑکی سے اندر آیا ہو جو کھلی رہ گئی تھی۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا ‘یہ ایسا واقعہ ہے جو شاید ایک صدی میں ایک مرتبہ ہو۔’

اتوار کو کی جانے والی ان کی اس ٹویٹ کو کئی ہزار مرتبہ لائیک اور شیئر کیا جا چکا ہے اور یہ واقعہ مقامی میڈیا کی نظر میں بھی آ گیا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی بندر کی سیلفیاں شہہ سرخیاں بنی ہوں۔ سنہ 2017 میں ایک بندر کے ہاتھ سے کھینچی ہوئی سیلفیوں سے متعلق ایک برطانوی فوٹوگرافر ڈیوڈ سلیٹر اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے درمیان دو سال تک چلنے والا مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا۔

کاپی رائٹ کا یہ مقدمہ ڈیوڈ سلیٹر نے جیت تو لیا لیکن انھوں نے وعدہ کیا کہ تصویر سے ہونے والی آمدنی کا 25 فیصد وہ جانوروں کی فلاح کے لیے استعمال کریں گے۔

سنہ 2011 میں انڈونیشیا کے جنگل میں میکاک نسل کے ایک بندر نے ڈیوڈ سلیٹر کا کیمرہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کئی سیلفیاں لے ڈالیں۔ سلیٹر کا موقف تھا کہ پوری دنیا میں مشہور اور شیئر کی جانے والی ان تصاویر کے کاپی رائٹس ان کے پاس ہیں۔

لیکن جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘پیپل فار ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیملز’ کا کہنا تھا کہ تصاویر بندر نے کھینچی تھیں اس لیے فائدہ اسے ہونا چاہیے۔ امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کاپی رائٹس کے تحفظ کا اطلاق بندر پر نہیں ہو سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15458 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp