ندوۃالعلما اور فکرِ جدید کی تشکیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد کا زمانہ ہندوستان کے باشندوں کے لیے مشکل ترین وقت تھا۔ جنگِ آزادی میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے تھے۔ سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے سرِعام پھانسیاں دے دی گئی تھیں۔ بہت سے حریت پسندوں کو بدنامِ زمانہ کالاپانی بھیج کے باقی دنیا سے کاٹ دیا گیا تھا۔ یوں فرنگی حکومت نے آزادی کے لیے اُٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا تھا۔ اس دہشت اور خوف کی فضا میں ہندوستان میں غریب اور نادار لوگوں کو لالچ دے کر مذہب تبدیل کرنے کو کہا جا رہا تھا۔
اس کے ساتھ مغرب کے لکھاریوں کے اسلام پر حملے تیز ہو گئے تھے۔ یہ ساری صورتحال ایک نئی حکمتِ عملی کی متقاضی تھی۔ حریت پسندوں کو احساس ہو گیا تھاکہ تلوار کے بجائے علم ہی ان کا مددگار ہو سکتا ہے۔ایسی مزاحمت کی ضرورت تھی جس کی بنیاد علم پر رکھی جائے۔ اسی احساس کے تحت مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی، جنہوں نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں حصہ لیا تھا، نے مزاحمت کا ایک متبادل راستہ تلا ش کیا جس میں اسلحے کے بجائے فکر کا مرکزی کردار تھا۔ یوں 1865ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک تعلیمی ادارہ تھا لیکن اس کے بانیوں نے اس بات کا عہد کیا تھاکہ اس کیلئے فرنگی حکومت سے کوئی مالی امداد نہیں لی جائے گی۔ دارالعلوم کا بنیادی مقصد طلباء کو دینی تعلیم دینا اور ان میں آزادی کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔
اس کے برعکس سرسید احمد خان کی علی گڑھ تحریک‘ جس کا آغاز 1875ء میں ہوا‘ کا مرکزی نکتہ مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانا تھا‘ جس میں سائنس، ٹیکنالوجی اور انگریزی کی تعلیم شامل تھی۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے برعکس دارالعلوم دیوبند حکومتِ وقت سے فنڈز لینے کا مخالف تھا۔ یوں علی گڑھ اور دیوبند مسلمانوں کیلئے تمام تر خلوص کے باوجود دو مختلف راستوں پر چل رہے تھے۔ یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں کہ مولانا قاسم نانوتوی اور سرسید احمد خان‘ جو بالترتیب دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی تھے‘ ایک ہی استاد کے شاگرد تھے۔
ان دو اداروں کی موجودگی میں مسلمانوں کا ایک طبقہ سمجھتا تھاکہ انہیں ایک متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی حکمتِ عملی جس میں دیوبند اور علی گڑھ یونیورسٹی کی خوبیوں کا امتزاج ہو۔ یوں 1893ء میں مدرسہ فیضِ عام کے کنونشن میں جو کانپور میں منعقد ہوا‘ مولانا محمد علی منگیری، مولانا لطف اللہ اور مولانا اشرف علی تھانوی نے مذہبی سکالرز کے ایک گروپ کی تشکیل کی تجویز دی‘ جس کا نام ندوۃالعلما رکھا گیا۔ اس کا امتیازی وصف یہ تھاکہ یہ کسی خاص فرقے کی نمائندگی نہیں کرتا تھا اور اس میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
ندوۃ العلماء کا پہلا کنونشن 1894ء میں 22 تا 24 اپریل ہوا۔ مولانا شبلی نعمانی نے ندوہ کے یہ ر ہنما اصول وضع کیے۔ 1۔ موجودہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ 2۔ تمام مدارس کے مہتمم اعلیٰ یا ان کے نمائندے کو ندوۃ العلما کے سالانہ کانووکیشن میں شرکت کرنی چاہیے۔ 3۔ مدارس کی ایک فیڈریشن بنائی جائے تاکہ سارے مدارس ایک چھتری تلے آجائیں۔ 4۔ نصاب میں تبدیلیاں لائی جائیں۔
نصاب میں تبدیلی ایک اہم کام تھا جس کے لیے ایک بڑی کمیٹی تشکیل دی گئی‘ جس کے سب ممبران نے اپنی تجاویز دیں۔ مولانا شبلی نے نصاب کا حتمی مسودہ پیش کیا۔ شبلی نعمانی سرسید احمد خان کے اینگلو اوریئنٹل کالج سے سولہ سال تک وابستہ رہے تھے‘ اور جدید تعلیم کے تقاضوں سے پوری طرح واقف تھے۔ جدید تعلیم سے شناسائی کے ساتھ ساتھ وہ ایک مذہبی سکالر بھی تھے۔ یوں شبلی کی شخصیت ایک متوازن حکمتِ عملی کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتی تھی جس کی خواہش مسلمانوں کے ایک طبقے کے دلوں میں تھی‘ یوں ندوۃ العلما محض ایک روایتی مدرسے کے طور پر سامنے نہیں آیا بلکہ وہ معاشرے کے مسائل اور ان کی اصلاح کی ایک تحریک بن گیا۔
اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری تھا‘ ایک ایسے رسالے کا اجرا کیا جائے جس میں تحقیقی مضامین شائع کیے جائیں‘ جو لوگوں کی سوچ پر اثر انداز ہوں۔ یوں 1904ء میں الندوہ کے نام سے ایک تحقیقی رسالے کی اشاعت کا آغاز کیا گیا‘ جس کی ادارت ابتدائی عرصے میں مولانا حبیب الرحمن خان اور مولانا شبلی نعمانی کے سپرد تھی۔ الندوہ کا بنیادی مقصد رجعت پسندانہ اعتقادات کو دلیل کی مدد سے چیلنج کرنا تھا۔ یہ ایک مشکل کام تھا لیکن لوگوں کی ذہن سازی کے لیے اس سے زیادہ مؤثر کوئی اور طریقہ نہ تھا۔
1905ء میں مولانا محمد علی منگیری کے استعفیٰ کے بعد مولانا خلیل الرحمن معتمدِ اعلیٰ مقرر ہوئے اور مولانا شبلی نعمانی کو معتمدِ تعلیمات بنا دیا گیا۔ مولانا شبلی نعمانی جو ایک طویل عرصے تک علی گڑھ سے وابستہ رہے تھے اور جنہوں نے بیرونِ ممالک دوروں میں وہاں کے تعلیمی نظام کو قریب سے دیکھا تھا، نے پورے جوش اور تندہی سے اس ذمہ داری کو قبول کیا اور ندوہ کے تعلیمی نظام میں چند بنیادی تبدیلیاں کیں۔اس زمانے میں مدرسے میں انگریزی زبان کی تعلیم ایک جرأت مندانہ اقدم تھا‘ جس کی مخالفت رجعت پسند طبقوں کی طرف سے ہوئی۔
ندوہ میں تعلیم کا عمل صرف کلاس روم لیکچر تک محدود نہیں تھابلکہ طلبا کیلئے خصوصی لیکچرز کا اہتمام بھی کیا جاتا جس کیلئے ملک کے مختلف حصوں سے سکالرز کو مدعو کیا جاتا۔ فنِ تقریر پر خاص زور دیا جاتا اور مختلف موضوعات پر مباحثے کرائے جاتے تاکہ طلبا میں اپنا نقطہ نظردوسروں تک پہنچانے کا فن پرورش پائے اور شخصیت میں اعتماد آئے۔ گفتگو کے ساتھ طالب علموں کو تحریر کا فن بھی سکھایا جاتا۔ خاص طور پر فتویٰ لکھنے کی تربیت دی جاتی۔
روایتی علوم کے ساتھ ساتھ طلبا کو جدید سائنسی علوم کی تعلیم اور سائنسی مہارتوں کی عملی تربیت بھی دی جاتی۔ ندوۃ العلما کی حکمتِ عملی دارالعلوم دیوبند سے زیادہ علی گڑھ کے قریب تھی کیونکہ وہ حکومت سے براہِ راست ٹکراؤ کے مخالف تھے اور انہیں علی گڑھ کی طرح حکومت کی طرف سے گرانٹ بھی ملتی تھی۔ ندوہ کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو جدید شعور کے ساتھ دینی تعلیم دینا تھا۔
ندوۃ العلما مسلمانوں کے دوسرے تعلیمی اداروں سے مختلف تھا۔ اس کا امتیازی وصف یہ تھاکہ یہ قدیم اور جدید کا سنگم تھا جس میں دین کی مبادیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں تھا‘ لیکن طلبا کو جدید تفہیم و تفسیر سے روشناس کرایا جاتا اور انگریزی اور سائنسی علوم بھی پڑھائے جاتے۔ یوں ندوہ کی تعلیم و تربیت طلبا کو دینی تعلیم اور روایتی علوم سے آگاہ کرتی اور جدید تعلیم سے بھی لیس کرتی جو معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کیلئے ضروری تھی۔
ندوۃ العلما نے نیشنل ازم کا ایک معتدل تصور دیا اور اس مقصد کے حصول کیلئے خصوصی کوششیں بھی کیں تاکہ طلبا میں وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ اس کا Decolonization کے عمل میں ایک شعوری کردار تھا۔ یوں ندوۃ العلما کے ادارے سے ایک ایسی تحریک شروع ہوئی جس نے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کے ذہنوں کو متاثر کیا۔ اس کے رسالے ‘الندوہ‘ نے مذہبی تعلیمات کی تفسیر اور تفہیم کا ایک منطقی انداز متعارف کرایا۔ ندوۃالعلما نے تحریر اور تقریر کی مہارتوں کی تدریس سائنسی انداز میں کی یوں اس نے مدرسے کے روایتی تصور کو عصری خطوط پر استوار کیا اور فکرِ جدید کی آبیاری کی۔
یہاں روشن خیال مذہبی سکالرز پیدا ہوئے جو ایک طرف مذہبی تعلیمات اور دوسری طرف سائنسی مہارتوں سے آشنا تھے‘ اور جن کے دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ موجزن تھا۔
یہی وہ لوگ تھے جنہوں  نے استعمار  کے ہتھکنڈوں کو نہ صرف سمجھا بلکہ ان کا مؤثر تدارک بھی کیا۔ ہندوستان میں جب بھی فرنگی حکومت کے خلاف فکرِ جدید کی تشکیل کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں یقینا ندوۃ العلما کی تحریک کا ذکر بھی ہوگا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 234 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui