جو بائیڈن کون ہیں: وہ سیاستدان جنھیں قسمت عام سا نہیں رہنے دیتی

ثقلین امام - بی بی سی اردو سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو بائیڈن

Getty Images
اکثر سیاسی رہنماؤں کو سیاست وراثت میں ملتی ہے یا ان کی کامیابی مکمل طور پر ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے یا ان کے ارد گرد کے حالات انھیں حادثاتی لیڈر بنا دیتے ہے۔ امریکہ میں حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو تیسری فہرست یعنی حادثاتی لیڈر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

ایک امریکی جریدے نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ امریکی سیاست میں آج کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کی زندگی جو بائیڈن سے زیادہ المناک واقعات سے تشکیل پائی ہو۔ بائیڈن کا طویل سیاسی سفر مسلسل المیوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے۔

سنہ 1972 میں جب وہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تو ان کی بیوی اور ننھی سے بیٹی ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئیں، اور سنہ 2015 میں اُسی حادثے میں بچ جانے والا اُن کا ایک بیٹا دماغ کے کینسر کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ ان کا یہ بیٹا کملا ہیرِس کا بھی دوست تھا جو اب ان کے ساتھ نائب صدارت کی امیدوار ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق، ان کی زندگی کے ان ہی المناک پہلوؤں نے انھیں ایک عام امریکی کی نظر میں ‘زیادہ اپنے جیسا، زیادہ حقیقی اور زیادہ ہمدرد بنا دیا ہے۔’

بائیڈن نے اپنی حکمتِ عملی سے ان المیوں کو سماجی تعلقات بہتر بنانے میں ایک غیبی تحفے کے طور پر کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔

جو بائیڈن اب ڈیموکرٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار ہیں اور وہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مدمقابل انتخابات لڑ رہے ہیں۔ اس وقت بھی ان کی ذاتی زندگی کے المیے ان کی سیاسی طاقت کی بنیاد کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ اُن کے حامی انھیں اُن کے مد مقابل کے مقابلے میں ایک شریف اور ہمدرد شخص کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

جو بائیڈن کی سیاست کا آغاز اُامریکی ریاست ڈلاوئیر سے سنہ 1972 میں سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ہوا تھا۔ انھوں نے اس وقت ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کو غیر متوقع طور پر تھوڑے سے فرق کے ساتھ شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا جو بائیڈن ٹرمپ کو شکست دے کر اگلے صدر بن سکتے ہیں؟

امریکی الیکشن 2020: ڈونلڈ ٹرمپ آگے ہیں یا جو بائیڈن؟

جو بائیڈن کی نائب صدارتی امیدوار کملا ہیرس کون ہیں؟

’اگر صدر بنا تو پہلے ہی دن مسلم تارکین وطن پر پابندی ختم کر دوں گا‘

جو بائیڈن

Getty Images

تقریر چرانے کا الزام

سنہ 1988 میں انھوں نے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں بھی حصہ لیا تھا لیکن ایک برطانوی سیاستدان کی تقریر کا ایک اقتباس چرانے کے انکشاف کی وجہ سے وہ اس دوڑ سے الگ ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

برطانوی سیاستدان نیل کینوک کے والدین کان کن تھے، بائیڈن نے ان کی تقریر کا ایک حصہ اپنا بنا کر پڑھتے وقت اپنے والدین کو بھی کان کن کہہ دیا تھا جب کہ ان کے والدین کان کن نہیں تھے۔

جو بائیڈن نے اپنے کریئر کے آغاز میں سیاست میں آنے سے پہلے ایک مختصر عرصے کے لیے ڈلاوئیر میں ایک وکیل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ امریکی تاریخ میں پانچویں کم سن ترین سینیٹر اور ڈلاوئیر کے طویل ترین عرصے تک سینیٹر رہنے والے شخص ہیں۔

انھوں نے سنہ 2007 میں ایک مرتبہ پھر صدارت کے امیدوار کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن کم حمایت کی وجہ سے جلد ہی دستبردار ہوگئے۔ لیکن اسی دوڑ میں کامیاب ہونے والے امیدوار براک اوباما نے انھیں اپنا نائب صدر نامزد کیا۔ اور اس طرح وہ امریکہ کے صدر اوباما کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے۔

بائیڈن اوباما کے ساتھ دو مرتبہ نائب صدر منتخب ہوئے۔ سنہ 2017 میں جب ان کا دورِ اقتدار ختم ہوا تو اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے انھیں صدارتی میڈل آف فریڈم سے نوازا۔ یہ امریکہ کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔ اور اس کے دو برس بعد بائیڈن نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

جو بائیڈن

Getty Images

جو بائیڈن کا بچپن

جو بائیڈن 20 نومبر سنہ 1942 میں ریاست پینسلوینیا کے قصبے سکرینٹن میں عام محنت کش والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد جوزف بائیڈن بھٹیوں کی چمنیوں کو صاف کرنے کا کام کرتے تھے اور ان کی والدہ کیتھرین یوجینیا ایک روایتی کیتھولک مسیحی خاتون تھیں۔

لیکن جو بائیڈن بتاتے ہیں کہ جب کبھی وہ محلے کے دوسرے لڑکوں سے مار کھا کر منہ لٹکائے گھر آتے تو ان کی ماں انھیں کہتیں ‘ان کی ناک سے خون بہا کر آؤ تاکہ تم اگلے دن سر بلند کر کے اپنی گلی سے گزر سکو۔’ ان کے مطابق ان کے والدین نے ان کو سخت کوش بنایا تاکہ وہ زندگی کا مقابلہ کرسکیں۔

جو بائیڈن 13 برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ پینسلیوینیا سے ڈلاوئیر ریاست منتقل ہو گئے کیونکہ وہاں ڈُو پوں نامی کمپنی کا ایک نیا کیمیکل پلانٹ کھلا تھا جس کی وجہ نئے اقتصادی مواقع پیدا ہو رہے تھے۔ یہاں وہ سینٹ ہیلینا سکول میں گئے اور پھر علاقے کے ایک اچھے سکول آرچ میئر اکیڈمی میں انھیں داخلہ مل گیا۔

جو بائیڈن

Getty Images
ہکلا بچہ

جو بائیڈن بچپن میں ہکلاتے تھے۔ بات کرتے وقت وہ اپنا نام بتاتے ہوئے جو کہنے کے بعد بائیڈن کہنے میں ہکلاتے ہوئے ‘بائی’ ‘بائی’ کی تکرار کرتے تھے جس کی وجہ سے دوسرے لڑکوں نے ان کا نام ہی ‘بائی بائی’ رکھ دیا تھا۔

ان کا مذاق اڑانے کے لیے انھیں کوئی ’ڈیش’ کہتا اور کوئی ‘جو اِمپیڈیمینٹا’ کہتا۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر اپنی ہکلانے کی عادت پر قابو پانے کے لیے وہ شیشے کی گولیاں اپنے منہ میں ڈال کر بات کرتے اور لمبی لمبی نظمیں یاد کرکے انھیں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پڑھتے۔

آرچ میئر اکیڈمی میں بائیڈن ایک اچھے طالب علم تھے، دراز قد نہ ہونے کے باوجود وہ سکول کی فٹ بال ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ جو نے اس سکول سے سنہ 1961 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔

جو بائیڈن

Getty Images

وکالت کی تعلیم اور شادی

جو بائیڈن نے اپنے گھر کے قریب ہی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کا نام یونیورسٹی آف ڈِلاوئیر ہے، جہاں انھوں نے تاریخ اور سیاسیات میں بی اے کیا۔ لیکن فٹ بال کھیلنا جاری رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ میں اس وقت کے ایک ‘جوان’ صدر جان ایف کینیڈی نے نئی نسل کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔ جو بھی اسی نسل کا حصہ تھے۔

اپنی تعلیم کے دوران وہ بہاما کے جزائر پر سیر کرنے گئے تھے جہاں سرے کیوز یونیورسٹی کی طالبہ نیلیہ ہنٹر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات پہلی نظر کی محبت میں تبدیل ہوگئی۔ اس لڑکی سے ملنے کے لیے انھوں نے محنت کی اور سرےکیوز میں قانون کے شعبہ میں داخلہ حاصل کر لیا۔

انھوں نے سنہ 1965 میں قانون کی تعلیم شروع کی اور ایک برس بعد نیلیہ سے شادی کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے جب وہ نیلیہ کے والدین سے ملنے گئے تو انھوں نے پوچھا کہ وہ کس طرح کمائیں گے، مستقبل میں کیا کریں گے۔ کہتے ہیں کہ جو نے جواب دیا کہ میں امریکہ کا صدر بنوں گا۔

حالانکہ اس وقت جو بائیڈن ایک اوسط درجے کے قانون کے طالب علم تھے۔ سرےکیوز میں اپنی تعلیم کے دوران ایک بار صرف اپنے ایک مقالے کے لیے ایک مناسب حوالہ نہ دینے کی وجہ سے وہ اپنی کلاس میں حاضر نہیں ہوئے۔ تاہم بعد میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اتفاقیہ سرزد ہونے والی ایک غلطی تھی۔ لیکن اس واقعے نے ان کا کئی برس تک پیچھا کیا۔

بائیڈن

Reuters

سیاسی زندگی کا آغاز

سنہ 1968 میں قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جو بائیڈن ڈیلاوئیر کے ایک اور شہر وِلمنگٹن منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے ایک کمپنی میں وکالت کا آغاز کیا۔ یہیں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک متحرک رکن بن گئے۔

سنہ 1970 میں وہ نیو کاسل کاؤنٹی کونسل (مقامی حکومت) کے رکن منتخب ہوئے۔ کونسلر ہوتے ہوئے بھی انھوں نے وکالت جاری رکھی۔

اسی دور میں ان کے ہاں تین بچے، دو بیٹے اور ایک بیٹی، جوزف بائیڈن تھرڈ، ہنٹر بائیڈن اور نومی بائیڈن پیدا ہوئے۔

سنہ 1972 میں ڈیموکریٹک پارٹی نے انھیں ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار جے کیلِب بوگس کے خلاف امریکی سینیٹ کا انتخاب لڑنے کے لیے آمادہ کیا۔

اگرچہ ان کا اپنے مضبوط حریف کے خلاف جیتنے کا کم امکان تھا لیکن انھوں نے ڈٹ کا مقابلہ کیا جس میں ان کی بہن اور بیوی نے ان کا خوب ساتھ دیا۔ ان کے والدین نے بھی گھر گھر جاکر ان کے لیے انتخابی مہم چلائی۔

اس برس نومبر میں مقابلہ بہت کانٹے دار ہوا اور ووٹر بھی زیادہ تعداد میں پولنگ سٹیشنوں پر آئے۔ نتیجہ جب نکلا تو بہت سارے لوگوں کو بائیڈن کی کامیابی پر حیرت ہوئی۔ اس طرح وہ ملک کی تاریخ کے پانچویں کم سن ترین سینیٹر منتخب ہوئے۔

جو بائیڈن

Getty Images

بیوی اور بچی کی ہلاکت

عین ان دنوں میں جب وہ سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے والے تھے، ان کی بیوی اور بچے کار کے ایک حادثے کا شکار ہوئے۔ ان کی بیوی بچوں کے ہمراہ کرسمس کے موقعے پر کچھ شاپنگ کرنے گئی تھیں کہ راستے میں ایک ٹریکٹر ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔

اس حادثے میں اُن کی بیوی نیلیہ اور بیٹی نومی موقعے پر ہی ہلاک ہو گئيں جبکہ دونوں بچے شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے۔ جو بائیڈن حلف اٹھائے بغیر ہسپتال روانہ ہوئے اور اپنے بچوں کے ساتھ ہسپتال میں رہے اور بعد میں وہیں بچوں کے بیڈ کے ساتھ کھڑے ہو کر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔

اس کے بعد انھوں نے سینیٹ کے جتنے بھی انتحابات لڑے ان سب میں کامیاب ہوئے۔ ان کے حلقے کے لوگوں نے انھیں اس المیے کے بعد غیر رسمی طور پر اپنا ایک مستقل نمائندہ قرار دے دیا۔

جو بائیڈن سینیٹ کی اہم کمیٹیوں کے رکن رہے اور پھر کافی عرصے تک خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ اکثر تجزیہ نگار انھیں خارجہ امور کا ایک ماہر بھی سمجھتے ہیں۔ انھوں نے روس کے ساتھ اسلحے کی دوڑ پر قابو پانے کا بھی معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بعض مبصرین کے مطابق جو بائیڈن نے اکثر موقعوں پر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کی پیروی کی۔ انھوں نے جرائم کے خلاف سخت قوانین بنوانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جرائم کے خلاف سخت قانون سازی اگر اوسط امریکیوں میں ایک مقبول معاملہ ہے تو دوسری جانب بائیں بازو کے طبقوں میں اسے اقلیتوں کے خلاف اقدامات کہا جاتا ہے۔

تاہم جو بائیڈن سینیٹر ٹیڈ کینیڈی کے ہمراہ سینیٹ کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے صدر رونلڈ ریگن کی جانب سے نامزد جج رابرٹ بروک کو جج بننے سے روکا تھا۔ بروک دائیں بازو کے نظریاتی انتہا پسند قانون دان تھے جنھوں نے صدر نکسن کے چند مبینہ غیر قانونی اقدامت کو عملی جامہ پہنایا تھا اور انھیں عورتوں اور سیاہ فام اقلیتوں کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔

اوباما حکومت میں بحیثیت نائب صدر جو بائیڈن نے کئی موقعوں پر کانگریس کے ریپبلکن ارکان سے ٹیکس کی کمی کے لیے کامیاب مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ بعض ناقدین کے مطابق انھوں نے ریپبلکنز کے سامنے ڈیموکریٹس کے موقف پر مصلحت پسندی سے کام لیا۔

جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل

Reuters

دوسری شادی

جو بائیڈن نے سنہ 1977 میں جِل سے دوسری شادی کی۔ ان دونوں کی بیٹی، ایشلی، سنہ 1981 میں پیدا ہوئیں۔

سنہ 2015 میں جو بائیڈبن کے پہلی بیوی سے ہونے والے بیٹے بیؤ بائیڈن کی دماغ میں کینسر کی وجہ سے موت ہو گئی۔ اس موت کے بعد ایک مرتبہ پھر جو بائیڈن کا غم ان کے سیاسی کیریئر میں اضافے کا اہم سبب بنا۔

جو بائیڈن کی نائب صدارت کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے ان پر سخیت تنقید کی اور کہا کہ ٹرمپ کو حکمرانی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر سفید فام انتہا پسندوں کا دفاع کرنے پر سخت تنقید بھی کی۔

کچھ عرصے کی غیر واضح پوزیشن کے بعد جو بائیڈن نے سنہ 2019 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اپنے اس اعلان کے وقت کہا تھا کہ انھیں اندازہ تھا کہ صدر ٹرمپ کی نسل پسندی والی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو ایسا خطرہ ہے جو شاید ان کی زندگی میں کبھی دوبارہ پیدا نہ ہو۔

تاہم جو بائیڈن کو آغاز ہی سے ڈیموکریٹس کے بائیں بازو اور عورتوں کے حامی طبقوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ انھوں نے اسقاطِ حمل سے متعلقہ فنڈنگ بند کرانے کے ایک بل کی حمایت کی تھی لیکن سخت تنقید کے بعد اپنا موقف بدل لیا۔

جو بائیڈن نے عراق جنگ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن بعد میں اسے اپنی غلطی سے تعبیر کیا۔

کملا ہیرِس نے، جو اب ان کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار ہیں، جو بائیڈن پر کڑی تنقید کی تھی۔ انھوں نے بہرحال اگلے مرحلے میں ہونے والے صدارتی مباحثوں میں ایک ‘ماڈریٹ’ (معتدل مزاج) سیاستدان کے طور پر صدر اوباما کی خارجہ پالیسیوں کو اپنی کامیابیاں بتا کر اپنی پوزیشن بہتر بنائی۔

جو بائیڈن

Getty Images

یوکرین سکینڈل

سنہ 2019 میں وائٹ ہاؤس سے کچھ ایسی معلومات کا انکشاف ہوا جن سے یہ پتا چلا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جو بائیڈن کے خلاف کرپشن کی انکوائری کرائے۔ جو بائیڈن نے نائب صدر ہوتے ہوئے یوکرین کی ایک تیل کمپنی ‘بوریزما’ میں اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو ڈائریکٹر بنوایا تھا۔

اسی برس یعنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے بعد یوکرین کی حکومت نے بوریزما کے معاملے کی انکوائری کرائی۔ جس میں یہ پتا چلا کہ پچاس لاکھ ڈالر کی رشوت دی گئی تھی، لیکن یوکرین کی حکومت نے کہا کہ رشوت کے لینے والوں میں بائیڈن کا نام نہیں تھا۔

بائیڈن کا یوکرین سکینڈل میں کیا کردار تھا اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس بات کے بھی کوئی بظاہر شواہد نہیں ہیں کہ انھوں اس کام کے لیے کوئی بد عنوانی کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جریدے ‘پولیٹکو’ کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق، امریکیوں کی اکثریت اپنے بیٹے کو ڈائریکٹر بنوانے کی وجہ سے جو بائیڈن کے کردار کو غیر مناسب سمجھتی ہے۔

جو بائیڈن

Getty Images

جنسی زیادتی کے الزامات

جیسے یہ نظر آنے لگا کہ جو بائیڈن ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے والے ہیں، ڈیموکریٹ کے بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز اپنی مہم ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور اس دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے کے نئے الزامات سامنے آتے ہیں، اس مرتبہ بائیڈن کی ایک پرانی اسسٹنٹ تارا ریڈ کی جانب سے۔

تارا ریڈ نے جو بائیڈن کے ساتھ 30 برس تک کام کیا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بائیڈن نے کانگریس کے کسی ہال میں اُنھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جو بائیڈن پر کئی عورتوں نے ایسے الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ کھل کر ان کے جسم کو غیر مناسب انداز میں چھوتے رہے ہیں۔

تاہم تارا ریڈ کا پہلا الزام ہے جو کھل کر سرِ عام سامنے آیا۔ جو بائیڈن نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا: ‘میں دو ٹوک انداز میں کہہ رہا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں، کبھی نہیں ہوا۔’ تاہم مس ریڈ کے قریبی جاننے والے کہتے ہیں کہ انھوں نے اس مبینہ جنسی زیادتی کی بات اپنے قریبی دوستوں کو پہلے بھی بتائی تھی۔

جو بائیڈن

Getty Images

فیصلہ کن گھڑی

جو بائیڈن کو فی الوقت ایک طاقتور شخصیت کے بجائے ایک معتدل نظریات والی شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو ڈیموکریٹس کے مختلف حلقوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے ایک جگہ جمع کر سکتے ہیں۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں بھی بائیڈن اپنے حریف ٹرمپ کی نسبت زیادہ ووٹ حاصل کرتے نظر آرہے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزے تیار کرنے والے اکثر ادارے کورونا وائرس کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اقدامت کو بنیاد بنا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف ہو رہے ہیں۔ اب جبکہ کہ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، اور ٹرمپ گالف کھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں تو ‘نان کمیٹڈ’ ووٹروں کے ان کے خلاف جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔

لیکن امریکہ کے الیکٹورل کالجز کے منفرد طریقے کی وجہ سے زیادہ ووٹوں کی تعداد صدارتی انتخابات میں کامیابی کی یقینی ضمانت نہیں ہوتی ہے۔ پچھلے 20 برسوں میں ڈیموکریٹ کے دو صدارتی امیدوار، ایلگور اور ہلری کلنٹن نے اپنے اپنے حریفوں کے مقابلے میں بالترتیب پانچ لاکھ اور تیس لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے تھے، لیلن پھر بھی وہ صدارتی کرسی پر نہ بیٹھ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16564 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp