آن لائن مفت طبی مشورے اور علاج

آج کل سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے تو ایسے میں آن لائن مفت طبی مشورے یا علاج بھی بتائے جاتے ہیں یہ قطعی طور سے عوام کی سہولت کے لئے ڈاکٹر صاحبان کی طرف سے ایک احسن قدم ہے لیکن کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پہ کچھ اس قسم کے سوال عوام کی جانب سے دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ میں اگر ڈاکٹر ہوتی تو موبائل میں گھس کر اس بندے کا سر ضرور توڑ دیتی۔ ۔ ۔ سوالات کی نوعیت دیکھئے۔ ۔ ۔

1: میری بیٹی کی انگلی ٹوٹ کے لٹک گئی ہے خون رس رہا ہے اس پہ کیا لگاؤں۔ ؟

2: یہ میری urine strip پہ پہلے ایک پھر دوبارہ ٹیسٹ پہ دو تیسری دفعہ پہ تین چوتھی دفعہ پہ چار لائنیں آ گئی ہیں، کتنی بار مزید ٹیسٹ کروں کہ انسان کا بچہ پیدا ہو جائے۔ ۔ ۔ ؟

3: میرے بیٹے کی پوٹی مینگنیوں کی طرح آتی ہے ذرا ذرا سی۔ ۔ ۔ ایسا کیا کھلاؤں کہ وہ اپنے باپ کی طرح کموڈ بھر کے پوٹی کرے اور فلش کرنا بھول جائے؟

4: میری ساس کو سانس لینے میں دشواری ہے کوئی دوا بتا دیں تاکہ مکمل سکون پا سکوں؟

5: میری والدہ کو متلی کی سی کیفیت ہو رہی ہے حالانکہ اس عمر میں ہونی تو نہیں چاہیے لیکن پھر بھی کوئی دوا بتا دیں تاکہ ڈکار آ جاٰئے۔ ۔ ۔

6: میرے درد زہ ہو رہا ہے ابھی کتنی دیر بعد ہسپتال جاؤں؟
7: کوئی بتا سکتا ہے کہ میرے میاں کو سوتے میں اتنی کھجلیاں کیوں ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ ؟

عوام سے گزارش ہے کہ سوال کرتے وقت زیادہ نہیں بس چھٹانک بھر عقل ضرور استعمال کر لیا کیجئے ڈاکٹروں کی زندگی بہت مصروف ہوتی ہے ان کی اس سہولت جو کہ صرف آپ کے لئے ہے درد سر نہ بنائیے۔ آخر میں تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کو دعا و سلام

Comments - User is solely responsible for his/her words