سنگاپور: غریب گھریلو ملازمہ جس نے چار برس کی قانونی جنگ کے بعد کروڑ پتی مالک کے خلاف مقدمہ جیتا

یویٹ ٹین - بی بی سی نیوز سنگاپور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پارتی لیانی انڈونیشیا کی ایک گھریلو ملازمہ تھیں جو سنگاپور کے ایک انتہائی دولت مند خاندان کے لیے کام کرتی تھیں اور ماہانہ 345 پاؤنڈ کماتی تھیں۔

جس خاندان کے لیے وہ کام کرتی تھیں وہ سنگاپور کا ایک امیر کاروباری خاندان تھا اور خاندان کے سربراہ سنگاپور کی کئی مشہور کمپنیوں کے چیئرمین تھے۔

ایک دن اس خاندان نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی کہ اُن کی ملازمہ نے گھریلو اشیا چرائی ہیں اور پھر اس مقدمے نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

لیو خاندان نے پارتی لیانی پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے لگژری بیگز، قیمتی گھڑی اور ایک ڈی وی ڈی پلیئر چوری کیا ہے۔

رواں ماہ کے اوئل میں سنگاپور کی ہائی کورٹ نے پارتی لیانی کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ یہ بریت حاصل کرنے کے لیے پارتی کو چار برس لگے۔

یہ بھی پڑھیے

’زندہ رہنے کے لیے کتے کا کھانا کھایا‘

غلاموں کی آن لائن منڈی میں ملازماؤں کی خرید و فروخت

ملائیشیا:’کتے کے ساتھ رہنے پر مجبور‘ گھریلو ملازمہ ہلاک

اس مقدمے نے سنگاپور میں پائی جانے والی معاشرتی ناہمواری، پولیس اور قانون کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پارتی لیانی چار برس کی مشکلات کے بعد بالآخر فیصلہ اپنے حق میں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں لیکن لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پہلے مرحلے میں ڈسٹرکٹ جج نے انھیں کیسے سزا سنائی تھی۔

Pioneer DVD player

HOME
لیو خاندان نے گھریلو ملازمہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے گھر سے ڈی وی ڈی پلیئر چوری کیا، مگر بعد میں پولیس نے تسلیم کیا کہ ڈی وی ڈی پلیئر ناکارہ تھا

مقدمہ کیسے شروع ہوا؟

پارتی لیانی نے سنہ 2007 میں لیو من لیونگ نامی تاجر کے گھر کام کرنا شروع کیا جہاں ان کے بیٹے کارل لیو اور خاندان کے کئی دوسرے افراد بھی رہائش پذیر تھے۔

کارل لیو سنہ 2016 میں اپنے خاندان کو علیحدہ گھر میں لے گئے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کارل لیو نے ملکی قوانین کے برعکس پارتی لیانی سے کئی بار اپنے گھر اور دفتر کی صفائی کروائی۔ پارتی لیانی نے اس کی شکایت بھی کی۔

کچھ ماہ بعد لیو خاندان نے پارتی لیانی کو بتایا کہ ان کی ملازمت ختم کر دی گئی کیونکہ انھیں خدشہ کہ وہ گھر سے قیمتی اشیا چرا رہی ہیں۔

پارتی لیونی نے جواب میں کہا کہ چونکہ انھوں نے کارل لیو کا ٹوائلٹ صاف کرنے سے انکار کیا تھا اسی لیے وہ اس سے ناراض تھے۔

لیو خاندان نے پارتی لیونی کو دو گھنٹوں کے اندر اپنا سامان پیک کر کے گھر سے نکل جانے کا حکم دیا۔ انھیں کہا گیا کہ وہ اپنا سامان پیک کریں جسے انڈونیشیا بھجوا دیا جائے گا۔

پارتی لیانی اپنا سامان پیک کر کے اُسی روز واپس انڈونیشیا چلی گئیں۔

جب وہ اپنا سامان پیک کر رہی تھیں اس دوران پارتی لیانی نے دھمکی دی کہ وہ سنگاپور کے حکام کو شکایت کریں گی کہ ان سے کارل لیو کے گھر میں بھی کام کرنے کا کہا جاتا تھا۔

جب پارتی لیانی واپس انڈونیشیا چلی گئیں تو لیو خاندان نے اس کا سامان چیک کیا اور دعویٰ کیا کہ انھیں ایسی چیزیں ملی ہیں جو چوری کی گئی تھیں۔

خاندان کے سربراہ لیو من لیونگ اور ان کے بیٹے کارل لیو نے پولیس کو چوری کی رپورٹ درج کروا دی۔ اس سب کا پارتی لیانی کو کچھ علم نہ تھا۔

جب وہ پانچ ہفتے انڈونیشیا میں گزارنے کے بعد کام کی تلاش کے دوبارہ سنگاپور آئیں تو انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس رپورٹ کے درج ہونے کی وجہ سے وہ کہیں کام نہیں کر سکتی تھیں۔ اس دوران انھیں غیر ملکی ورکرز کے بنائی گئی عارضی رہائش گاہوں میں ٹھہرنا اوراپنا گزارا کرنے کے لیے مالی مدد حاصل کرنی پڑی۔

مقدمے نے سنگاپور کی عوام کو اپنی جانب متوجہ کیا

جب مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو پارتی لیانی پر استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ اس نے لیو خاندان کے گھر سے 115 قیمتی اشیا چوری کی ہی جن میں کچھ کپڑے، ہینڈ بیگز، ایک ڈی وی ڈی پلیئر اور ایک قیمتی گھڑی بھی شامل ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ چوری شدہ سامان کی مجموعی مالیت 34 ہزار سنگاپوری ڈالر بنتی ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران پارتی لیانی نے عدالت کو بتایا کہ ان پر جن اشیا کی چوری کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ یا تو ان کی اپنی ملکیت ہیں اور کچھ ایسی ناکارہ چیزیں ہیں جسے خاندان نے بیکار سمجھ کر پھینک دیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی غیر موجودگی میں لیو خاندان نے کچھ ایسی چیزیں بھی سامان میں ڈال دیں جو اس نے خود پیک نہیں کی تھیں۔

سنہ 2019 میں ایک ڈسٹرکٹ جج نے لیو خاندان کے الزامات کو صحیح مانتے ہوئے پارتی لیانی کو دو سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی۔

پارتی لیانی نے ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جہاں انھیں رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس چن نے اپنے فیصلے میں استغاثہ اور ڈسٹرکٹ جج کے رویے کے حوالے سے کچھ پہلوؤں کی نشاندہی کی۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے شواہد ملتے ہیں کہ لیو خاندان نے اپنی سابقہ ملازمہ کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی حکام کو شکایت کرنے سے روکنے کے لیے اس کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔

جج نے لکھا کہ پارتی لیانی پر جن اشیا کی چوری کا الزام عائد کیا اُن میں بعض تو پہلے ہی بیکار ہو چکی تھیں۔ جج نے لکھا کہ پارتی پر جس قیمتی گھڑی چوری کا الزام عائد کیا گیا اس کے بٹن ہی ٹوٹ چکے ہیں اور جن دو آئی فونز چوری کا الزام عائد کیا گیا وہ دونوں کام نہیں کرتے تھے۔

اسی طرح جس ڈی وی ڈی پلیئر کو چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا اسے لیو خاندان نے بیکار سمجھ کر پھینک دیا تھا۔

جج نے سوال کیا کہ ناکارہ چیزوں کو کوئی کیوں چوری کرے گا؟

استغاثہ نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ انھیں معلوم تھا کہ ڈی وی ڈی کام نہیں کرتا ہے اور جانتے بوجھتے اسے مال مقدمہ کے طور پر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کیا۔

ہائی کورٹ جج جسٹس چن نے استغاثہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہائی کورٹ کے جج نے کہا درخواست گزار کارل لیو کی گواہی کو نہیں مانا جا سکتا۔

Anil and Parti

Home/Grace Baey
وکیل انیل بالچندانی نے کئی برسوں تک پارتی لیانی کا کیس بغیر فیس کے لڑا

کارل لیو نے عدالت میں کہا کہ پارتی لیانی ان کا ایک چاقو چوری کیا ہے جو وہ برطانیہ سے لائے تھے۔ بعد میں انھوں نے خود ہی تسلیم کیا کہ انھوں نے یہ سنہ 2002 میں نہیں خریدا تھا۔ اسی طرح کارل لیو نے پارتی پر الزام عائد کیے کہ اس نے کچھ عورتوں کے کپڑے چوری کیے ہیں جو وہ خود پہنتے تھے۔

ہائی کورٹ کے جج نے پولیس کے رویے پر بھی سوالات اٹھائے۔ پولیس رپورٹ درج ہونے کے پانچ ہفتوں تک جائے وقوعہ پر نہیں گئی۔

پولیس نے جب تحقیق شروع کی تو اس نے پارتی لیانی کو انڈونیشیائی زبان کو سمجھنے والا مترجم بھی مہیا نہیں کیا۔

سنگاپور مینیجمینٹ یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر یوجین ٹان نے کہا ہے کہ پولیس نے اس مقدمے میں جس طرح سے تحقیق کی ہے وہ بہت پریشان کُن ہے۔

’نہ صرف پولیس نے بلکہ استغاثہ اور ڈسٹرکٹ جج نے امیر خاندان کی جانب سے ایک گھریلو ملازمہ پر لگائے گئے الزامات کو من و عن تسلیم کر لیا۔‘

کمزور اور طاقتور کی لڑائی

اس مقدمے نے سنگاپور کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ لوگوں نے اس مقدمے کو امیر اور غریب کی لڑائی کے طور پر دیکھا۔

لوگوں کی اکثریت سنگاپور کے اس امیر خاندان کے خلاف تھی جس نے ایک ملازمہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ دائر کیا جس سے بری ہونے میں انھیں چار برس تک قانونی کارروائی کرنی پڑی۔

لوگوں نے اس مقدمے کو مراعات یافتہ طبقے کی غریبوں کو دھمکانے کے تناظر میں دیکھا۔

اس حقیقت کے باوجود کہ گھریلو ملازمہ کو بالآخر انصاف ملا لیکن اس مقدمے نے عوام کے ذہنوں میں پولیس اور عدلیہ کی غیر جانبداری کے حوالے کئی سوالات کو جنم دیا۔

پروفیسر تان کے مطابق ان کی یادداشت میں ایسا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ ’اس مقدمے میں جس طرح ادارے ناکام ہوئے اس نے لوگوں میں بے چینی پیدا کی۔‘پروفیسر تان نے کہا کہ لوگوں کے ذہن میں ایسے سوال ابھرے کہ اگر وہ اس ملازمہ کی جگہ ہوتے تو ان کے ساتھ کیا ہوتا۔

جس طرح پولیس اور ماتحت عدلیہ نے لیو خاندان کے جھوٹے الزامات کو مانا اس سے یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ اداروں میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام ناکافی ہے۔

عوام کے غم و غصے کے بعد لیو من لیونک نے اعلان کیا کہ وہ متعدد کمپنیوں کی چیئرمین شپ سے مستعفیٰ ہو رہے ہیں۔

لیو من لیونگ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی جھوٹے الزامات پر پولیس رپورٹ درج کرانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد پولیس اور استغاثہ کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا گیا ہے۔ وزیر قانون شنمگم نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں غلطی سرزد ہوئی ہے۔

یہاں لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔ اگر حکومت سنگاپوری عوام کی طرف سے شفاف اور جواب دہ نظام کے مطالبے کو نہیں مانتی تو اس سے معاشرے میں یہ خیال تقویت پائے گا کہ یہاں اشرافیہ کے مفادات کو معاشرے کے مفاد سے زیادہ ترجیج دی جاتی ہے۔

غیر ملکی ورکروں کی انصاف تک رسائی

اس مقدمے نے سنگاپور میں کام کرنے والے بیرون ملک سے آئے ورکرز کی انصاف تک رسائی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پارتی لیانی اس لیے اپنا مقدمہ لڑنے میں کامیاب ہوئی کہ کچھ غیر حکومتی اداروں نے ان کی مدد کی ہے۔ وکیل انیل بالچندانی نے کئی برسوں تک پارتی کا مفت میں مقدمہ لڑا ہے۔

انیل بالچندانی کا اندازہ ہے کہ اگر وہ فیس لے کر یہ مقدمہ لڑتے تو موکل کو ڈیڑھ لاکھ سنگارپوی ڈالر ادا کرنے پڑتے۔

سنگاپور غیر ملکی ورکرز کو قانونی مدد فراہم کرتا ہے لیکن چونکہ ان میں سے اکثریت گھر کے واحد کمانے والے ہوتے ہیں اور وہ کئی مہینوں تک بے روزگار رہ کر مقدمہ لڑنے کی سکت نہیں رکھتے لہذا وہ قانونی کارروائی سے کتراتے ہیں۔

پارتی لیانی کے وکیل نے جس ہمت سے حکومتی اداروں کے خلاف مقدمہ لڑا اور جیتا اس نے کئی لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔

پروفیسر ٹان کہتے ہیں کہ یہ ڈیوڈ اور گوالئتھ کی لڑائی تھی جس میں ڈیوڈ فاتح رہا۔

پارتی لیانی کہتی ہیں کہ اب وہ واپس انڈونیشیا لوٹ جائیں گی۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اب یہاں میرے مسائل ختم ہو گئے ہیں اور میں گھر لوٹ جاؤں گی۔‘

پارتی نے کہا کہ میں اپنے آجر کو اس امید پر معاف کر رہی ہوں کہ انھوں نے جو کچھ میرے ساتھ کیا وہ دوسرے ورکرز کے ساتھ نہیں کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16608 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp