کھیلوں کی دنیا میں غلط شناخت کے چند دلچسپ اور مزاحیہ واقعات، دوسرے کے نام پر مزے بھی اور پریشانی بھی

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ

BBC
انڈتین کرکٹ ٹیم کے 2004 میں دورہ پاکستان کے موقع پر لی گئی تصویر جہاں کلدیپ لعل درمیان میں نیلی شرٹ میں موجود ہیں

صرف چہروں سے ہی دھوکہ نہیں ہوتا بلکہ ایک جیسے نام بھی غلط فہمی کا سبب بن جاتے ہیں۔

سپورٹس کے صحافیوں کے ساتھ ایسے کئی دلچسپ اتفاقات ہوچکے ہیں جن میں سے چند بی بی سی اردو کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں۔

کلدیپ صاحب، لیکن کون سے والے؟

یہ سنہ 2004 کی بات ہے جب انڈیا کے سینئیر سپورٹس صحافی کلدیپ لعل ملتان کے گیسٹ ہاؤس سے ہالیڈے ان ہوٹل جانے کے لیے باہر نکلے جہاں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے کپتانوں کی پریس کانفرنس ہونے والی تھی۔

گیسٹ ہاؤس کے باہر سکیورٹی اہلکاروں نے ان سے کہا کہ سر! آپ پیدل نہ جائیں بلکہ گاڑی استعمال کر لیں تو انھوں نے ان اہلکاروں سے کہا کہ ٹیم ہوٹل بالکل سامنے ہے لیکن اہلکاروں کا اصرار تھا کہ وہ پیدل نہ جائیں۔

 

کلدیپ لعل ان بھارتی صحافیوں میں شامل تھے جو انڈین ٹیم کے تاریخی دورہ پاکستان میں ٹیم کے ہمراہ کوریج کے لیے آئے ہوئے تھے ۔

کلدیپ لعل نے سوچا کہ ملتان چونکہ کراچی اور لاہور کے مقابلے میں چھوٹا شہر ہے لہذا یہاں سکیورٹی زیادہ ہو سکتی ہے اس لیے انھیں اس طرح کی ہدایت دی جارہی ہے کہ آپ کہیں بھی جائیں تو سکیورٹی حکام کو بتا کر جائیں ۔

کلدیپ لعل کے لیے پاکستان نئی جگہ نہیں تھی وہ اس سے قبل بھی پاک بھارت کرکٹ سیریز اور ہاکی ورلڈ کپ کی کوریج کے لیے بھی پاکستان آ چکے تھے تاہم اگلے پانچ دنوں میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔

آج طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کلدیپ لعل وہ واقعات یاد کرتے ہیں تو خود بھی قہقہے لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

‘پریس کانفرنس کے اگلے دن دونوں ٹیموں کی ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں پریکٹس تھی۔ میں نے رینٹ اے کار حاصل کر رکھی تھی۔ اسی گیسٹ ہاؤس میں میرے ساتھ میرے دو پاکستانی صحافی دوست بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔

کرکٹ

ہم تینوں جیسے ہی سٹیڈیم جانے کے لیے کار میں بیٹھنے لگے تو ایک پولیس موبائل آ گئی اور کہا گیا کہ یہ آپ کے ساتھ جائے گی۔ اس پولیس موبائل کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ڈیوٹی پر مامور خواتین سپاہی تھیں جو رائفلوں سے لیس تھیں۔’

کلدیپ لعل بتاتے ہیں: ‘پولیس موبائل سائرن بجاتی ہوئی اسٹیڈیم کی طرف رواں تھی اور پیچھے ہماری گاڑی تھی۔ آدھے گھنٹے کا راستہ صرف پندرہ منٹ میں طے ہوگیا۔ اسی طرح واپسی ہوگئی۔

اگلے پانچ دن تک یہی صورتحال رہی کہ ٹیسٹ میچ میں جانا اور کام ختم کر کے گیسٹ ہاؤس واپس آنا اسی پولیس موبائل کی سکیورٹی کے ساتھ ہوتا رہا اور مجھے بالکل سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کیا ماجرا ہے کیونکہ انڈیا کے دوسرے صحافی بھی ملتان میں موجود تھے لیکن ان کے لیے اس طرح کا کوئی پروٹوکول نہیں تھا۔ انڈین صحافیوں اور کرکٹرز کو جب یہ پتہ چلا تو وہ کہتے تھے کہ بڑے مزے آرہے ہیں۔’

کلدیپ لعل کہتے ہیں کہ اس حیران کن پروٹوکول کا راز اُس وقت کھلا جب وہ گیسٹ ہاؤس سے چیک آؤٹ کر رہے تھے تو ملتان پولیس کے ایک افسر ان سے ملنے آئے۔

‘پولیس افسر مجھ سے بڑے تپاک سے ملے اور کہنے لگے کلدیپ جی! آپ کو یہاں کسی قسم کی پریشانی تو نہیں ہوئی۔ پھر کہنے لگے میں آپ کے مضامین بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔

میں نے سوچا کہ میری اے ایف پی کی خبریں دنیا بھر میں جاتی ہیں وہ انھی کی بات کر رہے ہونگے لیکن جب پولیس افسر نے کہا کہ آپ کے سیاسی مضامین اور تجزیے بہت اچھے ہوتے ہیں اور آپ نے ہمارے وزرائے اعظم کے بھی بہت عمدہ انٹرویوز کیے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوگئی ہے جس پر وہ بولے نہیں جی، کلدیپ نائر کو کون نہیں جانتا۔

اب مجھے سمجھ میں آگیا کہ پچھلے چھ دنوں میں مجھے جو پروٹوکول دیا گیا تھا اس کا سبب کیا تھا۔ حقیقت معلوم ہونے پر وہ پولیس افسر کو بھی یکدم جھٹکا لگا وہ یقیناً شرمندہ ہوگئے تھے لیکن انھوں نے اسے ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔’

کرکٹ
ہرپال سنگھ بیدی معروف سپنر بشن سنگھ بیدی کے ہمراہ

برصغیر کے دو عظیم سپنرز

بھارتی کرکٹ ٹیم کے 2004 کے اسی دورۂ پاکستان میں ایک اور بھارتی صحافی ہرپال سنگھ بیدی کے ساتھ بھی ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جسے انھوں نے بی بی سی اردو کے ساتھ شئیر کیا۔

‘ملتان ٹیسٹ کے دوران میری ملاقات پاکستان کے سابق لیگ سپنر اور کپتان انتخاب عالم سے ہوئی ان سے خوب گپ شپ رہی۔ اگلے دن ایک صاحب پریس باکس میں آئے اور مجھے ایک اخبار دیتے ہوئے کہا کہ بیدی صاحب آپ کی تصویر شائع ہوئی ہے اور یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگے۔

میں نے پوچھا کہ خیر تو ہے؟ انھوں نے پوچھا کہ آپ کو اردو آتی ہے میں نے جواب دیا تھوڑی بہت پڑھ لیتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ آپ تصویر کا کیپشن پڑھیں۔ جب میں نے پڑھا تو ہنسی ضبط کرنا مشکل ہوگئی کیونکہ اس میں لکھا ہوا تھا ‘برصغیر کے دو عظیم سپنرز انتخاب عالم اور بشن سنگھ بیدی۔’

ہرپال سنگھ بیدی کہتے ہیں کہ جس رپورٹر نے یہ تصویر اپنے اخبار کو بھیجی تھی اس نے بعد میں مجھ سے معذرت کی کہ میں نے ڈیسک والوں کو صرف بیدی نام بتایا تھا جس پر میں نے کہا کہ اس طرح کی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔

ہرپال سنگھ بیدی کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جب لوگوں نے انھیں بشن سنگھ بیدی سمجھ لیا۔

وہ بشن سنگھ بیدی کو یہ واقعات جب بھی بتاتے تو وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کہتے تھے کہ تم میرے نام پر بڑے مزے لے رہے ہو۔

ہرپال سنگھ بیدی کہتے ہیں ‘میں 1986ء میں دیگر انڈین صحافیوں کے ساتھ کویت اور دبئی میں ایک ٹورنامنٹ کی کوریج کے لیے گیا تھا۔ جب کویت پہنچے تو ہوائی اڈے پر ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ بیدی صاحب آپ میرے ساتھ چلیں آپ کو ایک پارٹی میں شرکت کرنی ہے۔

اس نے مجھے پروٹوکول دیتے ہوئے مرسڈیز میں بٹھادیا۔ زندگی میں پہلی بار مرسڈیز میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ابھی کار زیادہ دور نہیں گئی تھی کہ اس نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بیدی صاحب آپ نے ریٹائرمنٹ لینے میں اتنی جلدی کیوں کی ؟ آپ ابھی بھی کھیل سکتے تھے؟ میں حیران تھا کہ یہ کس ریٹائرمنٹ کی بات کررہا ہے لیکن مجھے سمجھ میں آ گئی بات کہ ہوا کیا ہے۔

کرکٹ

میں نے اس شخص سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ مجھے بشن سنگھ بیدی سمجھ رہے ہیں میں ہرپال سنگھ بیدی ہوں۔ یہ سننا تھا کہ اس شخص کا رویہ میرے ساتھ بالکل تبدیل ہوگیا اور اس کے بعد اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ مجھے راستے ہی سے واپس میرے ہوٹل پہنچانے کے بجائے وہ مجھے اس ہوٹل میں لےگیا جہاں کسی پارٹی میں بشن سنگھ بیدی کو شرکت کرنی تھی وہاں پہنچ کر اس نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ ان صاحب کو ان کے ہوٹل لے جاؤ ۔

ہرپال سنگھ بیدی کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ پیش آنے والا سب سے دلچسپ واقعہ وہ ہے جب وہ انگلینڈ میں لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کے باہر سینئیر صحافی پردیپ میگزین کے ساتھ ایک بار میں بیٹھے تھے اور گفتگو جاری تھی کہ بار کے مالک کے کانوں میں پردیپ میگزین کی آواز جارہی تھی بیدی، بیدی۔

‘یہ سننا تھا کہ اس بار کے مالک نے اپنے بیٹے سے بیٹ اور گیند منگوالی اور میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ آپ باہر گلی میں تشریف لے آئیں۔ میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی کہ بیدی صاحب مجھے گیند کرائیں۔

پردیپ میگزین نے مجھ سے کہا کہ یہاں سے نکل چلو کوئی گڑبڑ ہونے والی ہے۔ میں اس قدر نروس ہوگیا تھا کہ میں نے اسے بولنگ کی لیکن میری گیند اس تک نہیں پہنچی اور میں شرمندہ ہوگیا۔

اس موقع پر پردیپ میگزین کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ آپ انھیں بشن سنگھ بیدی سمجھ رہے ہیں لیکن یہ وہ نہیں ہیں ۔ اس سے قبل کہ اس شخض کا ردعمل سامنے آتا ہم دونوں فوراً وہاں سے نکل گئے۔’

ہاکی

’پُتر تُسی مینوں اجیت پال سمجھ رئے سی؟

اسی طرح سنہ 2004 میں پاک بھارت ہاکی سیریز کے موقع پر چار سابق انڈین اولمپیئنز بھی مہمانوں کے طور پاکستان آئے تھے جن میں 1975ء کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اجیت پال سنگھ بھی شامل تھے۔

پاکستانی صحافی احسان قریشی نے اجیت پال سنگھ کے انٹرویو کا ارادہ ظاہر کیا اور ان سے ہوٹل کی لابی میں انٹرویو کا وقت طے کر لیا۔

انٹرویو شروع ہوا اور پہلے دو تین سوالات کے جواب انھیں ملتے رہے لیکن ایک سوال پر انٹرویو دینے والے صاحب چونکے اور احسان قریشی سے کہنے لگے ”پتر ُتسی مینوں اجیت پال سنگھ سمجھ رہے سی۔ میں اجیت پال سنگھ نہیں۔’

احسان قریشی حیران تھے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے کہ اجیت پال سنگھ کی جگہ دوسرے ایک اور سکھ برادری کے شخص تھے اور کسی تعارف کے بغیر ان کا انٹرویو کیسے شروع ہوگیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16044 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp