ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے دن دیگر مساجد کو بھی نقصان پہنچایا گیا؟

سمیر آتماج مشر - صحافی، لکھنؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی شمالی ریاست کے تاریخی شہر ایودھیا قصبے کے دواہی کنواں علاقے میں جب ہم 80 سالہ سید اخلاق احمد سے ملنے گئے تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ عصر کی نماز کے لیے تیار تھے۔

ہم نے اپنا تعارف کرایا اور آنے کا مقصد بتایا تو بڑی مایوسی میں، تھوڑی بے رخی اور غصے میں کہا ‘اب کیا بات کریں گے؟ کیا بچا ہے؟ براہ کرم ہمیں معاف کردیں، ہم کچھ بھی نہیں کہنا چاہتے ہیں۔’

بہر حال وہ نماز ادا کر کے آئے اور ہماری درخواست پر بات کرنے کے لیے راضی ہوگئے۔ سید اخلاق احمد کو فیض آباد ضلعی انتظامیہ نے سنہ 1993 میں ان مساجد اور گھروں کی مرمت کی نگرانی کے لیے مقرر کیا تھا جو چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد پیش آنے والے فسادات میں نقصان پہنچا، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں یا پھر نذر آتش کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

بابری مسجد انہدام کیس میں تمام 32 ملزمان بری: ’یہ ہندو مذہب اور قوم کی فتح ہے‘

‘رام کے نام پر بہت سارے لوگوں کی دکانیں چل رہی ہیں’

سید اخلاق احمد نے کہا ‘چھ دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد پورے ایودھیا شہر میں تقریبا 18 سے 20 مساجد کو منہدم کردیا گیا۔ ایک مسجد کو توڑنے کے بعد وہاں مورتی رکھ دی گئی۔ مساجد توڑے جانے کے بعد وہاں کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے ان تمام کی مرمت کرائی گئی۔ اس مرمت کی نگرانی مجھے ہی سونپی گئی تھی۔ پی ڈبلیو ڈی کے اہلکار اے ڈی ایم کی نگرانی میں مرمت کا کام کر رہے تھے۔’

‘مسجد مسمار کردی گئی، مکان بھی جلا دیے گئے’

سید اخلاق احمد کے علاقے میں بھی ایک بڑی مسجد تھی اور قریب ہی ایک مدرسہ تھا۔ اس مسجد کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا تھا اور ان کا مکان بھی جلا دیا گیا تھا۔ اخلاق احمد نے اپنے نئے گھر میں اب بھی مسجد کے ٹوٹے ہوئے گنبدوں کے ٹکڑے رکھے ہوئے ہیں۔ اس نئے مکان میں وہ ایک مدرسہ بھی چلاتے ہیں۔ اور انھوں نے قریب میں ہی کچھ دوسرے لوگوں کی مدد سے ایک مسجد تعمیر کروائی ہے۔

ان کے مطابق بیشتر مساجد کی تعمیر ہوچکی ہے لیکن کچھ مساجد باقی رہ گئی تھیں جو اب بھی ویسی ہی ہیں۔ ان میں سے ایک مسجد دوراہی کنویں پر ہے اور دوسری مسجد راج گھاٹ کے قریب جہانگیر بخش علاقے میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوراہی کنواں والی مسجد ڈھائی سو سال پرانی ہے اور اس کی دیواریں لکھوڑی اینٹوں سے بنی ہیں۔ اس مسجد کے سامنے والے دونوں مینار جوں کے توں ہیں، جبکہ ٹوٹی ہوئی دیوار دوبارہ بنائی گئی ہے لیکن ابھی تک چھت نہیں بنی ہے۔ یہ مسجد حاصل شدہ رام جنم بھومی کمپلیکس کے بالکل پیچھے کی جانب ہے۔

چھ دسمبر 1992 کے بعد ملک بھر میں بہت ساری جگہوں پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے اور کئی دنوں تک ایودھیا میں کرفیو رہا۔ ایودھیا کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چھ دسمبر سے پہلے فضا بنائی جا رہی تھی اور ہزاروں لوگ وہاں جمع ہو رہے تھے۔

خدشات کے پیشن نظر سبھی مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے مقامات پر منتقل ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق باہر سے آنے والے لوگوں نے مسلم علاقوں کے تمام مکانات اور ایودھیا کی تمام مساجد کو بھی نقصان پہنچایا۔

بابری مسجد کے آخری امام مولانا عبد الغفار کی ایودھیا کی مرکزی سڑک پر آرا مشین (لکڑی کاٹنے والی) تھی اور اس کے پیچھے ان کا مکان بھی تھا۔ آرا مشین اور مکان اب بھی اس حادثے کی گواہی دے رہے ہیں کہ انھیں کیسے تباہ کیا گیا۔ مولانا عبد الغفار کے پوتے شاہد رکشہ چلااتے ہیں۔

وہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ‘چھ دسمبر کی صبح مسجد پر حملہ ہوا اور پھر شہر کے بہت سے مسلم علاقوں پر لوگوں نے حملہ کر دیا۔ ہمارا مکان سڑک پر تھا۔ بھیڑ اچانک داخل ہو گئی۔ میرے والد کو لوگوں نے مار ڈالا۔ ہم بھاگ کر پولیس سٹیشن گئے تو جان بچ گئی۔ مشین پوری طرح سے توڑ دی گئی جو آج بھی ویسی ہی پڑی ہے۔’

معاوضہ

شاہد کا کہنا ہے کہ کچھ اداروں سے معاوضہ بھی ملا تھا لیکن وہ اتنا نہیں تھا کہ مرمت بھی ہو سکے۔

ان کے بقول حکومت سے کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ جو کچھ بھی ملا وہ اداروں سے ملا۔ تاہم، حاجی اخلاق احمد کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی نقصان ہوا حکومت نے اس کا تخمینہ لگا کر اس کا معاوضہ دیا تھا۔

انھوں نے کہا ‘معاوضہ بہت کم تھا لیکن دیا گیا تھا۔ تقریباً 300 مکانات کو نقصان پہنچا یا جلایا گیا۔ سب کو معاوضہ دیا گیا۔’

ایودھیا میں مرکزی سڑک پر کٹیالہ مسجد بھی توڑ پھوڑ کا شکار ہوئی۔ مرمت کے لیے موصول ہونے والی رقم سے صرف دیواریں بنی تھیں، چھت نہیں۔ چھت پر ابھی بھی ٹن کا شیڈ ہے۔ ایودھیا ریلوے سٹیشن کی طرف جانے والی مرکزی سڑک پر کوٹھیا محلے میں ایک بڑی مسجد بھی ہے۔

مساجد اور مزاروں کی تعمیر نو

بابری مسجد کی اراضی کے معاملے میں ایک فریق اقبال انصاری کا گھر اس مسجد سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ اقبال انصاری کہتے ہیں ‘بجلی شہید کے مزار پر تو ایودھیا میں مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہندو آتے ہیں۔ اب بھی آتے ہیں۔ لیکن تخریب کاری کار سیوک باہر سے آئے تھے۔ انھیں یہ سب کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہ مسجد سٹیشن اور بازار کے قریب ہوا تھا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد لوگ یہاں سے بھاگ گئے اور انھوں نے سب سے پہلے اس کو نقصان پہنچایا۔ ہم اس دن ایودھیا میں نہیں تھے، لہذا اور کیا ہوا اس کے بارے میں زیادہ پتا نہیں چل سکا۔’

اقبال انصاری نے وضاحت کی کہ سرکاری امداد اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ساتھ کچھ مسلم رضاکار تنظیموں کی مدد سے مساجد اور مزار دوبارہ بنائے گئے۔ اس وقت بجلی شہید کا مزار اور اس کے قریب واقع مسجد کی حالت بہتر ہے اور یہاں لوگوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق ہے۔

ایودھیا کے رام جنم بھومی پولیس سٹیشن میں چھ دسمبر 1992 کے واقعے کے بعد کرفیو کے دوران تشدد اور تخریب کاری کی 200 سے زائد ایف آئی آر درج کی گئیں۔

رام جنم بھومی تھانے کے پولیس آفیسر راہل کمار کا کہنا ہے کہ ‘یہ سارے معاملات گھروں میں توڑ پھوڑ، ان کو جلانے، دکانیں جلانے اور کچھ قتل کے واقعات کے متعلق ہیں۔ سبھی میں حتمی رپورٹ لگا دی گئی ہے کیونکہ تمام معاملات نامعلوم افراد کے خلاف درج کیے گئے تھے۔ بابری مسجد کے علاوہ کسی مسجد کو نقصان پہنچانے کا کوئی دوسرا مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔’

اس بارے میں ایودھیا کے میئر ریشکیش اپادھیائے واضح طور پر کہتے ہیں ‘بابری مسجد کے علاوہ ایودھیا میں کسی دوسری مسجد کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔ ایسا ہوا ہوتا تو ہمیں معلوم ہوتا۔ حالانکہ اس وقت میں پڑھ رہا تھا اور میرا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔ البتہ کچھ مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا تھا جس کی تلافی بھی کی گئی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16112 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp