وزیراعظم عمران خان کا نجی ٹی وی کو انٹرویو: ’میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو اسے فارغ کر دیتا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ماضی سے یہ سیکھا ہے کہ فوج کا کام ملک چلانا نہیں ہوتا اور یہ کہ اگر جمہوری نظام ٹھیک نہ چل رہا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی جگہ مارشل لا آ جائے۔

نجی ٹی سما نیوز کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی سیکھنے کے لیے ہوتا ہے اور ہم نے ماضی سے یہ سیکھا ہے کہ فوج کا کام ملک چلانا نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر جمہوریت نقصان پہنچا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی جگہ مارشل لا آ جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے جمہوریت کو ٹھیک کرنا ہے۔‘

سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کبھی جمہوری نہیں تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو فوجی جرنیلوں نے ہی سیاستدان بنایا۔

’ان کو پہلے فوج نے پالا، جنرل جیلانی سے شروع ہوئے جنرل ضیاالحق تک نے، ان کو ہاتھ پکڑ کر، منہ میں چوسنی لگا کر سیاستدان بنایا گیا۔

’پہلے ان کا مسئلہ غلام اسحٰق سے ہوا، پھر جنرل آصف جنجوعہ، نواز شریف نے خود مشرف کو ترقی دی لیکن ان کے ساتھ بھی مسئلہ ہوا، جنرل راحیل کو لے کر آئے ان کے ساتھ مسئلہ آیا، پھر جنرل باجوہ کا انتخاب بھی خود کیا لیکن ان سے بھی مسئلہ ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’فوج میرے ساتھ کھڑی ہے، کیونکہ میں کرپٹ نہیں ہوں‘

وزیر اعظم عمران خان نے نجی چینلز کے نیوز ڈائریکٹرز سے کیا کہا؟

’فوج کی سیاست میں دلچسپی نہیں تو یہ ملاقاتیں کیوں؟‘

عمران خان نے ن لیگ اور فوج کے درمیان خراب تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا ’یہ چوری کرنے کے لیے آتے ہیں اور ہماری ایجنسیوں کو ان کی چوریوں کا پتا چل جاتا ہے۔ یہ سول اداروں کو کنٹرول کر لیتے ہیں، نواز شریف عدلیہ کو بھی کنٹرول کر لیتے ہیں، ان کا مسئلہ یہ تھا کہ باقی ادارے کنٹرول میں تھے لیکن فوج کنٹرول میں نہیں تھی، ان کی فوج سے لڑائی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فوج کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔‘

عمران خان نے مزید کہا کہ جب فوج ان (نواز شریف) کے کنٹرول میں نہیں ہوتی تھی تو یہ جمہوری بن جاتے تھے۔

’نواز شریف کہتے ہیں کہ مجھے جنرل ظہیر السلام نے آ کر کہا کہ استعفیٰ دو، بھئی آپ وزیراعظم ہیں کیا ان کی جرات تھی آپ کو یہ کہنے کی، آپ کو انھیں جواب دینا چاہیے تھا۔‘

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا ’میں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہوں اور اگر کوئی مجھ سے ایسا کہے تو میں اس سے فوری طور پر استعفے کا مطالبہ کروں گا۔ میں ملک کا وزیراعظم ہوں اور کس کی جرات کہ مجھے آ کر ایسا کہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو میں اسے فارغ کرتا۔‘

عمران خان

Getty Images
عمران خان نے کہا کہ ’ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر ماضی میں کسی آرمی چیف سے غلطی ہوئی تو کیا ہمیشہ کے لیے پوری آرمی کو برا بھلا کہنا ہے؟ اگر جسٹس منیر نے غلط فیصلہ کیا تو کیا ساری زندگی ہم نے عدلیہ کو برا بھلا کہنا ہے۔ اگر سیاست دان ملک کا پیسہ چوری کر کے باہر لے کر جاتے ہیں تو کیا سارے سیاست دان ہی برے ہیں؟‘

موجودہ سول ملٹری تعلقات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوج اور حکومت میں جو آج ہم آہنگی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے دائرے میں کام کر رہے ہیں۔

’موجودہ سول ملٹری تعلقات پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہتر تعلق ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی فوج ایک مکمل جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے۔

’جمہوری حکومت اپنے منشور کے مطابق کام کر رہی ہے اور فوج اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ میری ہمیشہ سے پالیسی واضح رہی ہے اور آج پاکستانی فوج میری اس پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

’فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہو جاتے‘

وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی کام الطاف حسین نے کیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد انڈیا ہے کیونکہ پاکستان کی فوج کمزور کرنے میں ہمارے دشمنوں کی دلچسپی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولیں اور لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں لگی آگ دیکھیں اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہو جاتے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’انڈیا کے تھنک ٹینک باقاعدہ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور ہم اسی فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔‘

نواز شریف

Reuters

’جنرل باجوہ نے پوچھ کر ملاقات کی تھی‘

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’جنرل باجوہ نے مجھ سے پوچھ کر ملاقات کی تھی۔‘

عمران خان کا کہنا تھا ’گلگت بلتستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہوں اور ایک کشمکش میں ہیں، انڈیا اس کا استعمال کر رہا تھا اس لیے جنرل باجوہ نے سکیورٹی کے مسئلے سے آگاہ کیا جو ہمارا دشمن آگے جا کر مسئلہ اٹھا رہا ہے۔’

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا نے ملک میں شیعہ سنی انتشار کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہماری ایجنسیوں نے ناکام بنایا اور اسلام آباد میں لوگوں کو پکڑا، بی جے پی کی موجودہ حکومت جیسی انڈیا میں پاکستان مخالف کوئی حکومت نہیں آئی۔‘

’مجھے اپوزیشن کی کوئی فکر نہیں‘

اپوزیشن کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو مرضی چاہے کر لیں، مجھے ان کی کوئی فکر نہیں، باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ دباؤ بڑھا کر کسی نہ کسی طرح بیٹھ کر مشرف کی طرح این آر او مل جائے۔‘

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کیے گئے استعفے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گا اور باقیوں سے یہ ڈیل کریں گے جو نہیں ہو گا، ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے لیے حکومتی منصوبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے فوری منصوبہ بنایا ہے، برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ انھیں واپس بھیج دیں، ایک جھوٹ بول کر مجرم باہر گیا، کسی مجرم کو ایسی چھوٹ نہیں دی جاتی لیکن ہم نے انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دی۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف باہر کے لوگوں سے باقاعدہ مل رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہیں ہیں، ہم ان کو واپس بلا رہے ہیں۔’

’اگر کسی نے سوال کیا تو عاصم سلیم باجوہ سے تفتیش کریں گے‘

جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دینے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے قانون میں فرق کیا تو ہمارا ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھے گا، اگر کسی نے کوئی مزید سوال کیا تو ہم ان سے تفتیش کریں گے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں اپنے اور دوسروں کے چوروں اور کرپٹ لوگوں میں فرق کرتے ہیں تو احتساب ختم ہو جاتا ہے، اگر جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے حوالے سے کسی نے سوال کیا تو تفتیش کریں گے اور ضرورت پڑی تو ایف آئی اے کے حوالے کریں گے۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمے پر وزیراعظم نے کہا کہ ’ایسٹ ریکوری یونٹ میں ایک چیز آئی ہم نے عدلیہ کو بھیج دی، یا تو کہیں اس ملک میں کوئی مقدس گائے ہے، ایسا ہوا تو احتساب نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایسٹ ریکوری یونٹ میں چیزیں آئیں تو شہباز شریف کے خلاف کیسز بنے اسی طرح یہاں بھی بات آئی لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا بلکہ عدلیہ کو بھیج دیا کہ آپ فیصلہ کریں۔‘

’مطیع اللہ جان کے معاملے میں ہماری حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا‘

صحافیوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’مطیع اللہ جان کے معاملے پر ہماری حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور وہ ہمیں کیا نقصان پہنچا رہے تھے کہ ہم اغوا کرتے یا کسی اور کو اغوا کریں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15977 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp