آشیانۂ غربت اور وسعتِ تمنا کا سفر۔۔۔ (آخری قسط)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اُس زمانے میں روزنامہ تعمیر ایک مقبول اخبار تھا، اُس کے مدیر محمد فاضل تھے جو راولپنڈی کے نواحی علاقے ساگری کے رہنے والے تھے۔ تینوں دوست منوبھائی، شفقت تنویر مرزا اور فتح محمد ملک اب ایک بار پھر یکجا ہو گئے تھے، لیکن یہ کیمبل پور والے بے فکری کے دن نہیں تھے، اب عملی زندگی کا آغاز ہو چکا تھا جب رزق کی تلاش میں آرام اور آسائش کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ فتح محمد ملک کو اپنے والد کی نصیحت یاد تھی، جنہوں نے کہا تھا: بیٹا درس و تدریس پیشۂ پیغمبری ہے، زندگی میں یہی تمہارا خواب ہونا چاہیے۔

اخبار کی ملازمت کے دوران انہیں والد کی بات بھولی نہیں۔ اُس زمانے میں راولپنڈی کے معروف گورڈن کالج میں شام کو ایم اے کی کلاسز ہوتی تھیں۔ ملک صاحب نے ایم اے اردو میں داخلہ لے لیا۔ اب ایک طرف کلاسز میں حاضری اوردوسری طرف اخبار میں کام کا دباؤ، لیکن انہیں اپنے والد کے خواب میں رنگ بھرنے تھے۔ اور ان کے والد کا خواب تھا کہ وہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔

دونوں کاموں کو بیک وقت لے کر چلنا اب ممکن نہیں رہا تھا، انہیں کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ایک طرف نوکری تھی جس کی انہیں سخت ضرورت تھی، دوسری طرف اپنے والد کا خواب تھاجو انہیں ایک استاد کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ملک صاحب نے خواب کے حق میں فیصلہ کیا اور ”تعمیر“ سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ ایک آسان فیصلہ نہ تھا، انہیں گھر کے کرائے کے ساتھ کھانے پینے کے لیے بھی رقم کی ضرورت تھی۔ انہیں یوں لگا کہ راولپنڈی شہر میں تنہا ہو گئے ہیں۔

ایسے میں دو مہربان ہستیوں نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ یہ اپنے زمانے کے معرو ف ادیب مختار صدیقی اور باقی صدیقی تھے، جو اُن دنوں ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھے۔ انہوں نے ملک صاحب کو ریڈیو کے لیے لکھنے کو کہا، یوں رزق کا سامان پھر سے فراہم ہونے لگا۔ کھانے کے لیے وہ دوستوں کے ہمراہ راولپنڈی کے نشاط سینما کے سامنے پہلوان کے کھوکھے پر جاتے۔ کھانا کیا تھا چائے کے ساتھ بن کباب جسے پہلوان بند کباب کہتا تھا، کھا کر پیٹ بھر لیتے تھے۔

یہ آوارگی، تنگ دستی لیکن خوش دلی کے دن تھے۔ ایک روز ملک صاحب اور منو بھائی صدر سے ریلوے کے پُل کی طرف آرہے تھے کہ منو بھائی کے قدم رکنے لگے، ملک صاحب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو منو بھائی ایک جگہ کھڑے تھے، اُن کے بائیں جانب ایک عام سا ہوٹل تھا جہاں سے کھانے کی اشتہا انگیز مہک آرہی تھی، اتفاق سے اس دن ملک صاحب کو ریڈیو سے ایک معمولی سی رقم کا چیک ملا تھا۔ ملک صاحب کی جیب میں پیسے تھے وہ واپس پلٹے اور منو بھائی کو لے کر ہوٹل کے اندر چلے گئے۔

آج ایک طویل عرصے کے بعد انہوں نے پیٹ بھر کر اپنی پسند کا کھانا کھایا۔ اُس کے بعد وہ پہلوان کے کھوکھے کے بجائے برف خانے میں اپنے گھر کے قریب ہوٹل پر ماہانہ ادائیگی کی بنیاد پر کھانا کھانے لگے۔ اب ان کی زندگی ریڈیو اور گورڈن کالج کے درمیان آتے جاتے کٹ رہی تھی۔ پھر ان کی زندگی میں ایک خوش کُن دن آیا، یہ اُن کے ایم اے کے نتیجے کا دن تھا، جب انہیں پتا چلا کہ وہ ایم اے اردو میں پنجاب یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے ہیں۔

ملک صاحب بتاتے ہیں کہ یہ خبر سُن کر میری آنکھیں فرطِ جذبات سے نم ہو گئیں، دفعتاً مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے والد محترم کے خواب کی تعبیر کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔ اب وہ گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں لیکچرر تعینات ہو گئے تھے، ان کے والد کا خواب پورا ہو گیا تھا۔ بیٹا ان کے نقشِ قدم پر چلتا ہوا مدرس کے منصب پر فائز ہو گیا تھا۔ درس وتدریس کی دنیا میں سانس لینا بھی ایک خاص طرح کی مسرت تھی، یہاں ان کی کتب بینی کے شوق کو مہمیز لگی۔

انہی دنوں ان کی ملاقات کنیز یوسف سے ہوئی، وہ ویمن کالج سکستھ روڈ کی پرنسپل تھیں اور شام کی کلاسز پڑھانے کے لئے گورنمنٹ کالج اصغر مال آیا کرتی تھیں۔ ملک صاحب کو یوں لگا کہ کنیز یوسف کی صورت میں کوئی ہم خیال مل گیا ہے۔ اب کہانی کا دلچسپ موڑ آتا ہے۔ راولپنڈی کالج میں تعیناتی سے پہلے کنیز یوسف کوئٹہ کے ایک ویمن کالج کی پرنسپل تھیں۔ حنیف رامے کی بیگم بھی اُسی کالج میں پڑھاتی تھیں۔ اُن دنوں حنیف رامے ابھی سیاست میں نہیں آئے تھے، ان کا شوق شعر و ادب اور آرٹ تک محدود تھا۔

کتابوں اور رسالوں کی اشاعت ان کی خاندانی روایت تھی۔ ان دنوں وہ کوئٹہ کی پُر سکون فضاؤں میں قرآن حکیم کی تعلیمات کی تفہیم پر غور کر رہے تھے۔ لا ہور سے ان کا دوماہی ادبی رسالہ نصرت شائع ہو رہا تھا۔ بعد میں اسی رسالے کو ہفت روزہ کر دیا گیا اور اس کا روپ سیاسی ہو گیا۔ 70 ء کے الیکشن کی آمد آمد تھی، پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان ہو چکا تھا، حنیف رامے بھٹو صاحب کے ابتدائی ساتھیوں میں شامل تھے۔ فیصلہ کیا گیاکہ اردو کا ایک ایسا اخبا رشروع کیا جائے جو پیپلز پارٹی کی ترجمانی کر سکے۔ ملک صاحب حنیف رامے کے کہنے پر ”مساوات“ کے اجرا کے لئے لاہور چلے گئے اور اس کے کامیاب اجرا کے بعد دوبارہ درس وتدریس کے شبستان میں آگئے۔ وہ مطمئن تھے کہ ”مساوات“ میں احمد ندیم قاسمی جیسی تجربہ کار اور نظریاتی شخصیت موجود ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت میں حنیف رامے کو وزارتِ اعلیٰ ملی تو ملک صاحب کو تعلیم اور اطلاعات کا مشیر بنا دیا گیا۔ پھر وہ قائداعظم یونیورسٹی میں پاکستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے چیئر مین بن گئے۔ وہیں سے ان کا انتخاب ہائیڈل برگ جرمنی میں اقبال چیئر پر ہوا۔ واپس آئے تو لینگویج اتھارٹی کے مہتمم ِ اعلیٰ بن گئے اور پھر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ یہ سب کامیابیاں اپنی جگہ، اصل شناخت ادب میں ان کا وقیع کردار ہے۔

 انہوں نے تنقید میں اپنی الگ پہچان بنائی، تحسین و تردید، اندازِ نظر اور تعصبات ان کے تنقیدی مجموعے ہیں۔ منٹو، قاسمی، فیض اور اقبال پر ان کی کتابیں ان شخصیات کو نئے رنگوں میں دیکھنے کی کوشش ہے۔ پاکستان اور پاکستانیت ان کی شخصیت کا جوہر ہے۔ وہ آج کل اسلام آباد میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اب بھی وہ ہمیشہ کی طرح صبح سویرے تیار ہوتے ہیں، شیو کرتے ہیں، اُجلے کپڑے پہنتے ہیں اور اپنی لکھنے کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں۔

ان کا بیٹا طاہر ملک اور ان کی بہو ماریہ مصطفی مقامی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں۔ طاہر، ماریہ اور ان کی بیٹی رانیہ ملک صاحب کا جذباتی سہارا ہیں۔ دوسرا بیٹا عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور سب سے بڑا بیٹا طارق ملک امریکہ میں ہوتا ہے۔ گھر میں ان کا بیٹا اور بہو جب صبح سویرے اپنے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں، رانیہ اپنے سکول روانہ ہو جاتی ہے اور ان کا دیرینہ ملازم فتح شیر گھر کے کام کاج میں مصروف ہو جاتا ہے تو ملک صاحب بھی لکھنے پڑھنے کا کام شروع کر دیتے ہیں۔

جب اپنی میز پر لکھتے لکھتے تھک جاتے ہیں تو کچھ لمحوں کے لئے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں، تب انہیں تلہ گنگ میں اپنے آبائی گھر آشیانۂ غربت سے اب تک کے سارے منظر یاد آنے لگتے ہیں۔ کیمبلپور کالج، تعمیر اخبار، گورڈن کالج، گورنمنٹ کالج، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سے بطورِ مشیر وابستگی، قائداعظم یونیورسٹی، ہائیڈل برگ میں اقبال چیئر پر تعیناتی، لینگویج اتھارٹی کی قیادت اور پھر اسلامی یونیورسٹی کی سربراہی۔ ان کی آنکھوں میں اپنے نیک والدین کے اُجلے چہرے روشن ہو جاتے ہیں جن کی انگلی پکڑ کر انہوں نے زندگی کی شاہراہ پر چلنا شروع کیا تھا اور پھر زندگی کتنے ہی پُر پیچ راستوں سے گزرتی ہوئی انہیں یہاں تک لے آئی۔ ملک صاحب کو یاد آتا ہے کہ ان کے والدِ محترم کہا کرتے تھے: زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں کی بے ترتیبی میں دراصل ایک خفیہ ترتیب چھپی ہوتی ہے جس کا احساس ہمیں منزل پر پہنچ کر ہوتا ہے۔ آج انہیں اس کا یقین آ گیا تھا۔

Latest posts by ڈاکٹر شاہد صدیقی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 241 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui