ناسا خلائی سٹیشن کے لیے دو کروڑ 30 لاکھ کی لاگت سے بنایا گیا نیا ٹوائلٹ لانچ کر رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی خلائی ادارہ ناسا چاند پر مستقبل کے مشن کے دوران ممکنہ استعمال سے قبل، انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس) میں ٹیسٹنگ کی غرض سے ایک نیا زیرو گریوٹی (کششِ ثقل) ٹوائلٹ لانچ کرنے والا ہے۔

دو کروڑ 30 لاکھ کی لاگت سے بنایا گیا یہ ٹوائلٹ جو جسم سے فضلہ کھینچ لیتا ہے، کو کارگو جہاز پر سپیس سٹیشن بھیج دیا جائے گا۔

ناسا نے بتایا کہ پچھلے ماڈلز کے برعکس ٹوائلٹ کا نیا ’ویکیوم سسٹم‘ خواتین خلابازوں کے آرام کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس ٹوائلٹ کو لیجانے والے راکٹ کو جمعرات کے روز ورجینیا کے والپس آئلینڈ سے بھیجا جانا تھا لیکن تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے مشن کو لفٹ آف سے تین منٹ قبل ہی روک دیا گیا تھا۔

اگر انجینئرز ان معاملات کو ٹھیک کر سکیں جو جمعرات کو لانچ کی تاخیر کا سبب بنے تو جمعہ کی شام کو لانچ کی ایک اور کوشش ہونے والی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خلاباز خلا میں کیا اور کیسے کھاتے ہیں؟

اپالو مشن کی آٹھ چیزیں جنھوں نے ہماری زندگی بدل دی

اپالو 11: وہ 13 منٹ جنھوں نے ایک صدی کی قسمت لکھ دی

ناسا کے بنائے گئے اس نئے ٹائٹینیم خلائی ٹوائلٹ میں یونیورسل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم (یو ڈبلیو ایم ایس) ہوگا، جس کے بارے میں ناسا کا کہنا ہے کہ یہ اہم خلائی مشنوں کے دوران خلائی مسافروں کے لیے مددگار ثابت ہو گا۔

یہ ٹوائلٹ، زیرو گریوٹی (کششِ ثقل) کے ماحول میں جسم سے فضلہ کھینچنے کے لیے ویکیوم سسٹم کا استعمال کرتا ہے۔ پرائیویسی کے لیے ٹوائلٹ کو ایک کیوبیکل کے اندر رکھا گیا ہے – بالکل اسی طرح جیسے آپ زمین پر کسی پبلک ٹوائلٹ میں بیٹھے ہوں۔

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ ٹوائلٹ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس) کے امریکی حصے میں موجود سہولیات میں اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

45 کلوگرام وزن اور 28 انچ لمبا یہ ٹوائلٹ، اس وقت زیرِ استعمال ٹوائلٹ سے 65 فیصد چھوٹا اور 40 فیصد ہلکا ہے۔

ڈیزائنرز نے خواتین خلابازوں کے آرام پر بھی زیادہ توجہ دی ہے۔

ناسا کی پروجیکٹ مینیجر میلیسا میک کینلی نے بی بی سی کے امریکی شریک سی بی ایس نیوز کو بتایا ’ہمارے منصوبے کا بڑا حصہ خواتین عملے کے لیے ٹوائلٹ کے استعمال کو بہتر بنانا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’ناسا نے کموڈ سیٹ اور فضلے کے فنل کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے عملے کے افراد کے ساتھ بہت سارا وقت گزارا تاکہ عملے میں شامل خواتین کے لیے مزید آسانی پیدا کی جا سکے۔‘

خلابازوں کو چاند تک لیجانے والے اورین کیپسول میں نصب کیے جانے سے قبل ٹوائلٹ کے ڈیزائن میں ہونے والی تبدیلیوں کو انٹرنیشنل سپیس سٹیشن میں ٹیسٹ لیا جائے گا۔

خلابازوں کو امید ہے کہ یہ ٹوائلٹ ٹیسٹ پاس کر جائے گا۔

میک کینلی نے ایسوسی ایٹ پریس نیوز ایجنسی کو بتایا ’گندگی کو صاف کرنا ایک بہت اہم کام ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ کسی بھی قسم کی کمی بیشی رہ جائے۔‘

نارتروپ گرومین کا انٹارس راکٹ اس نئے ٹوائلٹ کو سپیس سٹیشن تک لے کر جائے گا جس میں سائنسی سامان ، عملے کے لیے سپلائیز اور سپیئر پارٹس شامل ہوں گے۔

خلائی ٹوائلٹ کیسے کام کرتے ہیں؟

ناسا کے مطابق خلائی ٹوائلٹ ہوا کے بہاؤ کا استعمال کرتے ہوئے جسم سے پیشاب اور دیگر مادے کھینچ لیتے ہیں۔‘

ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ناسا خلاباز جیسکا میئر نے ٹوائلٹ کو ’ویکیوم سسٹم‘ کے طور پر بیان کیا۔

انھوں نے کہا ’تصور کریں کہ آپ کے پاس ایک ویکیوم کلینر ہے اور آپ چیزوں کو نیچے کی جانب سے کھینچ رہے ہیں۔ آپ ایک بہت بڑا پنکھا لگاتے ہیں جس سے وہ ٹوائلٹ اندر سے سب کچھ کھینچ رہا ہے۔‘

https://twitter.com/NASA/status/1311713262002552832

پیشاب کے لیے ایک خاص شکل کی چمنی اور آنتوں کی حرکت کے لیے ایک نشست موجود ہے جو بیک وقت استعمال ہوسکتی ہے۔

ناسا کا کہنا ہے ’یو ڈبلیو ایم ایس کی نشست دیکھنے میں غیر آرام دہ اور چھوٹی لگ سکتی ہے لیکن میکروگریوٹی کے لحاظ سے یہ بے مثال ہے۔ اس میں آپ کے جسم کے ساتھ مثالی رابطہ قائم ہوتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ جس چیز کو جہاں موجود ہونا چاہیے وہ وہیں ہے۔‘

جب خلاباز اس ٹوائلٹ پر بیٹھتا ہے تو پیروں کو باندٹنے اور ہینڈ ہولڈس کا استعمال کرتے ہوئے خود کو ایک جگہ پر روکے رکھ سکتا ہے۔

یہ ٹوائلٹ خلابازوں کے پیشاب کو ریسائیکل کرکے پینے کے پانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کہ میر نے کہا ’انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر آج کی کافی بھی دراصل آپ کی کل کی کافی ہے۔‘

لیکن فضلے کے ساتھ یہی سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ تاہم ناسا کا کہنا ہے کہ وہ اس پر تحقیق کر رہے ہیں۔

’بالکل دوسری چیزوں کی طرح، خلا میں باتھ روم جانا بھی ایک ایسی چیز ہے جس کی آپ کو عادت ڈالنی ہوگی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15933 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp