انڈیا میں مبینہ گینگ ریپ: ایف آئی آر درج نہ ہونے کے بعد متاثرہ خاتون نے ’خود کشی‘ کر لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پورا ضلعے میں تین روز تک مبینہ اجتماعی ریپ کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کے بعد متاثرہ دلت خاتون نے مبینہ طور پر خود کشی کر لی ہے۔

مبینہ اجتماعی ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کی موت کیسے ہوئی، اس کی تصدیق تو نہیں ہوسکی لیکن خاندان کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر انھوں نے خود کشی کر لی ہے۔ اب یہ ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے اور تین گرفتاریوں کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہو رہی ہے۔

بی بی سی ہندی کی شورح نیازی کے مطابق اس واقعے کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ شیو راج چوہان نے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ جبکہ دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان میں سے تین کے خلاف ریپ اور دو کے خلاف ’متاثرہ خاتون کو خود کشی کے لیے ورغلانے‘ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہاتھرس ’گینگ ریپ‘: متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جاتے راہل گاندھی حراست میں

انڈیا میں 86 سالہ خاتون کے ریپ پر غم و غصہ

انڈیا: نربھیا ریپ اور قتل کیس کے چار مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

واقعے کی رپورٹ نہ لکھنے اور معاملے میں لاپرواہی سے کام لینے کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں، انل سنگھ اور مشری لال کڑاپے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھیں حکومت کی جانب سے جمعے کے روز معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دو پولیس اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی سے معطل کر کے بھوپال پولیس کے صدر دفتر میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مبینہ گینگ ریپ میں شامل تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ضلعے کے چچلی تھانے کے علاقے میں ایک گاؤں میں دلت خاتون نے جمعے کے روز گھر میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔

خاتون کے شوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی اہلیہ کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا۔ ’ایف آئی آر درج کرانے کے لیے وہ تین روز سے تھانے کے چکر لگا رہے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور متاثرہ خاتون کے ساتھ ان کے جیٹھ کو جیل میں بند کر دیا۔

ملزمان کی گرفتاری

متاثرہ خاتون کے شوہر نے بتایا کہ ’28 ستمبر کو میری اہلیہ کھیت میں چارا کاٹنے گئی تھی، جہاں اس کے ساتھ گینگ ریپ ہوا۔ گھر لوٹنے پر اس نے پوری بات بتائی۔

’ہم لوگ رات کو ہی گوٹیٹوریا پولیس چوکی پہنچے۔ لیکن وہاں درخواست لینے کے بعد دوسرے روز میڈیکل تفتیش کرانے کی بات کہی گئی۔ اگلے روز بھی شکایت درج نہیں کی گئی۔‘

30 ستمبر کو وہ ایک بار پھر چیچلی تھانے گئے۔ لیکن پولیس نے متاثرہ خاتون اور ان کے شوہر کے بڑے بھائی کو ہی جیل میں بند کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں چھوڑنے کے لیے پیسے بھی لیے گئے، جس کے بعد متاثرہ خاتون نے خود کشی کر لی۔

نر سنگھ پورا کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ‘اس معاملے میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ’میں متاثرہ خاندان سے ملنے گیا تھا اور انھوں نے جو باتیں بتائیں اس کے بعد دو پولیس اہلکاروں کو بھی خودکشی کے لیے مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘

پولیس نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف دفع 166 اے کے تحت کارروائی کی ہے۔ اس میں ایف آئی آر نہ لکھنے کے الزام میں ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔

متاثرہ کی نند نے بتایا کہ ’ہم نے پولیس والوں سے بہت التجا کی کہ وہ ہماری شکایت درج کر لیں۔ لیکن وہ کسی بھی صورت تیار نہیں ہوئے۔ تین پولیس اہلکار تھے جنھوں نے بدسلوکی کی۔ اسی وجہ سے میری بھابھی نے خودکشی کر لی۔‘

پولیس کی تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کسی خاتون نے متاثرہ خاتون پر طعنہ کسا تھا جس کے بعد وہ گھر گئی اور پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی۔

اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے کہا ‘میں بہنوں اور ماؤں کے خلاف کسی بھی طرح کے جرائم برداشت نہیں کروں گا۔ جو اس طرح کے جرائم کریں گے انھیں کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔‘

وہیں حزب اختلاف کے رہنما کمل ناتھ نے حکومت کو ہدف بناتے ہوئے کہا ‘بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بیٹی بچاؤ جیسے نعروں کی یہی حقیقت ہے۔

’اتر پردیش کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش میں بھی خواتین کے خلاف مسلسل جرائم ہو رہے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16537 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp