کیا ایودھیا کی طرح کاشی متھورا میں بھی ہندوؤں کے حق میں فیصلہ ہو سکتا ہے؟

اننت پرکاش - نمائندہ بی بی سی ہندی، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی تاریخ میں 30 ستمبر کا دن ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا ہے کیونکہ اس دن لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس کے تمام ملزمان کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا اور اس کے فیصلے میں یہ تسلیم کیا گیا کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔

عدالت کے اس فیصلے پر بہت سارے رد عمل آئے تاہم اس فیصلے کے ساتھ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری مسجد مندر تنازع ختم ہوتا دکھائی دے رہا تھا لیکن اسی روز یعنی 30 ستمبر کو ہی اترپردیش کی ایک دوسری عدالت میں متھورا کی شاہی عیدگاہ مسجد کا تنازع اٹھایا گیا۔

’کاشی متھورا باقی ہے‘

رام جنم بھومی معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتنا واضح ہو گیا ہے کہ اب انڈیا میں کسی اور مذہبی مقام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی ہے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں سنہ 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ (عبادت گاہوں کے قانون) کا حوالہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد: عدالتی فیصلے کے ہندو، مسلم ہم آہنگی پر کیا اثرات ہوں گے؟

بابری مسجد انہدام کیس میں تمام 32 ملزمان بری: ’یہ ہندو مذہب اور قوم کی فتح ہے‘

بابری مسجد گرائے جانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے چہرے کون؟

لیکن رام جنم بھومی معاملے میں فیصلہ آنے کے باوجود ایک بار پھر سے ’کاشی متھورا باقی ہے‘ کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔

شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس نے 11 اگست کو متھورا میں کہا تھا کہ ایودھیا کے بعد اب متھورا کا نمبر ہے۔

اسی دوران دیوموراری باپو نے بھی کہا: ’مندر بنانے کے لیے مسجد کو ہٹانا پڑے گا۔‘ پولیس نے دیو موراری باپو کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔

لیکن گذشتہ دنوں متھورا میں مساجد کو ہٹائے جانے کا مطالبہ جو صرف زبانی ہوا کرتا تھا وہ اب بیانات تک محدود نہ رہ کر عدالت پہنچ چکا ہے۔

رنجنا اگنی ہوتری، وشنو شنکر جین، ہریشنکر جین اور تین دیگر افراد نے متھورا کی ایک عدالت میں دیوانی مقدمہ دائر کیا۔

عدالت میں درخواست گزاروں نے اس معاملے میں شاہی عیدگاہ والی مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس اراضی پر شاہی عیدگاہ کی مسجد تعمیر ہے، اس کے نیچے کرشن جنم بھومی ہے یعنی ہندوؤں کے بھگوان کرشن کی جائے پیدائش ہے۔

اسی معاملے میں بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مسلم حملہ آوروں نے مندر توڑ کر مسجد تعمیر کرائی تھی۔ اس معاملے میں مغل بادشاہ اورنگزیب کا نام لیا جا رہا ہے کہ انھوں نے مجسد تعمیر کروائی۔

لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے اس کیس کو منسوخ کر دیا کہ یہ قابل سماعت نہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سنہ 1991 میں منظور کیے جانے والے مقامات عبادت کے قانون کا بھی حوالہ دیا۔

کاشی کی گیان واپی مسجد کا مندر سے منظر

BBC
کاشی کی گیان واپی مسجد کا مندر سے منظر

آخر یہ قانون کیا ہے؟

سنہ 1991 میں وزیراعظم نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس حکومت نے عبادت کے مقامات کے متعلق (خصوصی دفعات) کا قانون منظور کیا۔

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں 15 اگست 1947 کو جو مذہبی مقام جس شکل میں تھا وہ اسی حیثیت میں رہے گا۔ اس معاملے میں ایودھیا تنازع کو استثنیٰ حاصل تھا۔

لیکن اس قانون کا اطلاق بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھورا کی شاہی مسجد سمیت ملک کے تمام مذہبی مقامات پر ہے۔

اس قانون کے سیکشن (3)) میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص یا گروہ کسی مذہب یا اس کے کسی فرقے کی عبادت گاہ کو اسی مذہب کے کسی دوسرے فرقے یا کسی دوسرے مذہب یا اس کے کسی فرقے کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کرے گا۔

اس قانون کے سیکشن 4 میں لکھا ہے: ’یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15 اگست 1947 کو موجود عبادت گاہ کی مذہبی شکل ویسے ہی رہے گی جیسی کہ وہ اس دن موجود تھی۔‘

اسی قانون کے سیکشن 4 (2) میں درج ہے: ’اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد اگر 15 اگست 1947 کو کسی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی اور کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیر التوا ہے تو وہ منسوخ ہو جائے گی۔ اور اس طرح کے معاملے میں کوئی مقدمہ، اپیل، یا دیگر کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے یا اس کے بعد نہیں ہوگی۔

کاشی کی گیان واپی مسجد اور مندر کا منظر

BBC
وارانسی (بنارس) کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد پر بھی تنازع جاری ہے لیکن مقامی مسلم کمیونٹی ’مقامات عبادت ایکٹ‘ اور سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن نظر آتی ہے

بنارس میں بھی تنازع جاری

وارانسی (بنارس) کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد پر بھی تنازع جاری ہے لیکن مقامی مسلم کمیونٹی ’مقامات عبادت ایکٹ‘ اور سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن نظر آتی ہے۔

گیان واپی مسجد تحفظ کمیٹی کے جنرل سکریٹری ایس ایم یاسین نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کی۔

انھوں نے کہا: ’یہ سچ ہے کہ یہ نعرے لگائے جارہے ہیں اور نعرے پہلے بھی استعمال کیے جاتے تھے۔ لیکن بنارس کے بارے میں کچھ اور بات ہے۔ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین بہت اتحاد ہے۔ جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جو بھی عبادت گاہیں 15 اگست 1947 کو جس صورتحال میں تھیں وہ اسی حالت میں رہیں گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دعویٰ تو گیان واپی مسجد پر بھی ہے اور اس طرح کی مزید کوششیں جاری رہیں کیونکہ کچھ عناصر کی سیاست انھی مسائل پر چلتی ہے۔‘

بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں عدالت نے سب کو بری کردیا ہے لیکن فیصلہ آنے سے پہلے ہی لوگ کھل کر یہ کہہ رہے تھے کہ انھوں نے جو بھی کیا وہ رام کے لیے کیا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا کرشن جنم بھومی کے لیے بھی حکومتیں شرپسند عناصر کو وہ سب کرنے دیں گی جو انھوں نے بابری مسجد کے ساتھ کیا تھا۔

یا حکومت گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ والی مسجد کا دفاع اسی طرح کرے گی جس طرح ایس ایم یاسین مستقبل کے بارے میں پراعتماد نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15937 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp