بلوچستان کے لاپتہ افراد: ’جبری گمشدگی کا الزام بے بنیاد نہیں، میری آنکھوں کے سامنے سے لے جایا گیا‘

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شبیر بلوچ، بلوچستان کے لاپتہ افراد

BBC
زرینہ بلوچ ایک مرتبہ پھر چھ سو کلومیٹر طویل مسافت طے کر کے آواران سے کوئٹہ آئیں اور یہاں ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔

یہ مظاہرہ ان کے شوہر شبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے کیا گیا جو کہ 4 اکتوبر 2016 سے لاپتہ ہیں۔

زرینہ کے لیے اتنی دور سے کوئٹہ آ کر یہاں مظاہرے میں شرکت کرنے کا مقصد اپنی بات حکام تک پہنچانا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’ریاست یہ کہے کہ ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے‘

’دالبندین سے برآمد ہونے والی تین سال پرانی لاش حفیظ اللہ حسنی کی ہے‘

بین الاقوامی ماہرین کی جبری گمشدیوں کے کمیشن کو ختم کرنے کی سفارش

بلوچستان کے مڈل کلاس طلبہ جو آزادی کی خاطر لڑ رہے ہیں

انھوں نے ریاستی اداروں پر اپنے شوہر کی جبری گمشدگی کا الزام لگایا ہے تاہم سرکاری حکام ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

شبیر بلوچ کون ہیں؟

شبیر بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران سے ہے۔ وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن (آزاد) کے رہنما ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے سے قبل ہی ان کی شادی ہوگئی تھی۔ اگرچہ ان کا تعلق ضلع آواران سے ہے لیکن ان کی گمشدگی کا واقعہ آواران سے متصل ضلع کیچ میں پیش آیا۔

شبیر بلوچ، بلوچستان کے لاپتہ افراد

BBC
ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ اور شبیر کیچ کے علاقے گورکوپ اپنے رشتہ داروں کے ہاں گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ چار اکتوبر 2016 کو سیکورٹی فورسز کے اہلکار صبح وہاں آئے اور شبیر بلوچ کے علاوہ وہاں سے 20 دیگر افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ’کوئی بے بنیاد الزام نہیں لگا رہیں‘ بلکہ شبیر بلوچ کو ان کی ’آنکھوں کے سامنے سے اٹھایا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ باقی 20 افراد کو تین روز کے بعد چھوڑ دیا گیا لیکن شبیر ابھی تک لاپتہ ہیں۔

زرینہ بلوچ نے بتایا کہ ان کا ایک مطالبہ ہے کہ شبیر بلوچ کو بازیاب کیا جائے اور اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو عدالت میں انھیں پیش کیا جائے۔

شبیر بلوچ کی گمشدگی کا کیس سرکاری کمیشن میں

بلوچستان کے کئی لاپتہ افراد کی طرح شبیر بلوچ کا کیس بھی وفاقی حکومت کی جانب سے قائم جبری گمشدگیوں کی انکوائری کے کمیشن میں درج ہے۔

اگرچہ اس صوبے میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ نے اس کمیشن کا بائیکاٹ کیا ہے تاہم تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے مظاہرے کے موقع پر بتایا کہ شبیر بلوچ کے خاندان کے افراد کمیشن میں متعدد بار پیش ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شبیر بلوچ کی بہن اور ان کی اہلیہ آواران سے آکر اس کمیشن کے سامنے پیش ہوتی رہی ہیں لیکن تاحال ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔

بلوچستان کے لاپتہ افراد

BBC
احتجاج میں شریک لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ شبیر بلوچ کا خاندان گذشتہ چار سال سے ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شبیر کی بہن اور اہلیہ طویل مسافت طے کر کے اپنی درد اور تکلیف سنانے کے لیے کوئٹہ آتی ہیں تاکہ وہ میڈیا کے ذریعے اپنی آواز پہنچا سکیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ شبیر بلوچ سمیت تمام افراد کو منظر عام پر لایا جائے اور اگر انھوں نے کوئی بھی جرم کیا ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

مظاہرے میں دیگر لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی بھی شرکت

شبیر بلوچ کی اہلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دیگر لاپتہ افراد کے رشتہ دار بھی مظاہرے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

ان میں حب چوکی سے تعلق رکھنے والے لاپتہ شخص راشد حسین بلوچ کی والدہ بھی شامل تھیں۔

راشد حسین کی والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا دبئی میں ایک کمپنی کے ساتھ کام کرتا تھا جہاں سے مبینہ گرفتاری کے بعد انھیں پاکستان منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا ان کی گرفتاری اور پاکستان منتقلی کی خبریں یہاں الیکٹرانک میڈیا پر نشر بھی ہوئیں جن کے مطابق ان کو کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

بلوچستان کے لاپتہ افراد

BBC
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کے بارے میں یہ خبر تو چلی لیکن ان کو آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ وہ دبئی سے حوالگی کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا بیٹا کسی جرم میں ملوث ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

سرکاری حکام کا موقف

شبیر بلوچ اور راشد حسین کی جبری گمشدگی سے متعلق بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو سے رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

دوسری طرف حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ ماضی میں حکومت ریاستی اداروں پر جبری گمشدگی کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان اور سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بعض حلقے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے لاپتہ افراد کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگینڈہ کر رہے ہیں ۔

چیف جسٹس کی جانب سے اظہارِ تشویش

بلوچستان میں لوگوں کی جبری گمشدی کا سلسلہ 2000 کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ لیکن ان واقعات پر کئی حلقوں میں آج بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

گذشتہ ہفتے اپنے حالیہ دورہ کوئٹہ کے موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے پاکستان بار کونسل کی جانب سے دیے جانے والے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے مسئلے کو ’گھمبیر‘ اور ’پورے ملک کا مسئلہ‘ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ’ہمارے ہائی کورٹس نے بہت کام کیے ہیں‘ اور اس حوالے سے کمیشن بھی قائم ہوا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا ’عدالتی کاوشوں سے کافی لاپتہ افراد بازیاب ہوئے ہیں اور وہ اپنے گھروں میں پہنچ گئے ہیں۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’لاپتہ افراد کے مسئلے پر عدالت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدالت کسی طرح لوگوں کے حقوق کو غصب نہیں ہونے دے گی۔

’لوگوں کو لاپتہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگر ہوئے تو عدالت اپنا کردار ادا کرے گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16021 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp