ہاتھرس کیس: وہ چھ سوال جن کے جواب ملنے اہم ہیں

دلنواز پاشا - نمائندہ بی بی سی ہندی، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے ضلاع ہاتھرس میں 14 ستمبر کو ایک دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ اور موت کی کہانی مزید پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف جہاں اب متاثرہ خاندان پر ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہیں دوسری طرف اس واقعے پر سیاست بھی تیز ہوتی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس کیس کے تحقیاقاتی افسر ایس پی وکرانت ویر کو تحقیقات میں لاپرواہی برتنے اور دیگر کی وجہ سے معطل کر دیا گیا ہے۔

پولیس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے خاندان کی اجازت کے بغیر اور جلد بازی میں متاثرہ لڑکی کی آخری رسومات ادا کر دیں۔ ریپ اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اس واقعے سے متعلق کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں اور ان کے متعلق مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ایک نظر ان سوالات پر جن کے واضح جوابات ابھی نہیں ملے ہیں:

1۔ واقعے کے وقت نوجوان لڑکی کا چھوٹا بھائی کہاں تھا؟

مرکزی ملزم کا نام سندیپ ہے اور متاثرہ لڑکی کے چھوٹے بھائی کا نام بھی سندیپ ہے۔

سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں اس واقعے کے بعد ہلاک ہونے والی لڑکی کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر اس وقت ریکارڈ کی گئی تھی جب متاثرہ کے اہل خانہ حادثے کے بعد اسے تھانے لے کر گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ہاتھرس کے بعد بلرام پور میں بھی مبینہ گینگ ریپ، سوشل میڈیا صارفین کی حکومت پر تنقید

ہاتھرس ’گینگ ریپ‘: متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے راہل اور پرینکا گاندھی حراست میں

ہاتھرس ریپ کیس: بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ کی ویڈیو پر کیا سزا ہو سکتی ہے؟

اس ویڈیو میں متاثرہ لڑکی کہہ رہی ہیں ‘سندیپ نے میرا گلا دبایا ہے۔ ہاتھوں سے گلا دبایا۔ گلا نہیں چھوڑا۔’

جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ گلا کیوں دبایا تو انھوں نے جواب دیا: ‘زبردستی نہ کرنے دی میں نے۔’

اب اس ویڈیو کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ مقتولہ جس کا نام لے رہی تھیں وہ ان کا چھوٹا بھائی ہے۔ تاہم متاثرہ لڑکی کے بھائی سندیپ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس واقعے کے وقت نوئیڈا میں تھے اور دو ہفتے تک وہ اپنی بہن کے ساتھ ہسپتال میں ہی رہے۔ وہ ان کی میت کے ساتھ ہی گاؤں واپس گئے تھے۔

میڈیا میں بیان دیتے ہوئے گاؤں کے بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں مقتولہ جس سندیپ کا نام لے رہی ہیں وہ ان کا چھوٹا بھائی ہی ہے۔ تاہم کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا اس دن انھوں نے اسے گاؤں میں دیکھا تھا یا نہیں۔

اس کہانی میں ایک دوسرا سندیپ ہے جسے متاثرہ کے اہل خانہ کی شکایت پر پولیس گرفتار کر چکی ہے۔

اترپردیش پولیس

BBC

2۔ پہلی ایف آئی آر میں ریپ کا مقدمہ کیوں نہیں ہے؟

مقتولہ کے بڑے بھائی کے ذریعے تھانے میں دی گئی پہلی تحریری درخواست میں ریپ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ مرکزی ملزم سندیپ پر اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ خاندان نے پہلی ایف آئی آر میں ریپ کی بات کیوں نہیں کی؟

جب بی بی سی نے مقتولہ کی والدہ سے بھی یہی سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ اس وقت بیٹی ہوش و حواس میں نہیں تھی، ’اس نے پوری بات نہیں بتائی۔ جب بعد میں اس کے ہوش بحال ہوئے تو اس نے ساری بات بتائی۔’

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں لوگوں اور شرمندگی کا ڈر تھا۔ مقتولہ کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب وہ باجرے کے کھیت میں ملی تو وہ ’نیم برہنہ اور بے ہوش تھی‘۔

3۔ پولیس نے ریپ کا ٹیسٹ فوری کیوں نہیں کرایا؟

جنسی حملے کی جانچ کے لیے متاثرہ لڑکی کا نمونہ پہلی بار 22 ستمبر کو اس وقت لیا گيا جب اس نے پولیس تفتیش میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور چار ملزمان کے اس میں شامل ہونے کے الزامات عائد کیے۔ آگرہ کی فرانزک لیب کو یہ نمونے 25 ستمبر کو موصول ہوئے۔

جب متاثرہ لڑکی پہلی بار تھانے پہنچی تو پولیس نے جنسی زیادتی کی تحقیقات کیوں نہیں کی؟ اس سوال پر اس وقت کے ایس پی (جو اب معطل ہیں) وکرانت ویر نے بی بی سی کو بتایا ‘متاثرہ کے اہل خانہ کی طرف سے دی گئی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعد میں جب اسے ہوش آیا اور اس نے گینگ ریپ کی بات کہی تو 22 ستمبر کو اجتماعی ریپ کی دفعات شامل کر دی گئیں اور ملزمان کو فوری گرفتار کرلیا گیا۔’

لیکن جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ پہلی شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے صحیح کام کیا ہے اور شواہد اکٹھے کرنے کی پوری کوشش کی۔

جب متاثرہ لڑکی پولیس تھانے پہنچی تو ان کی حالت خراب تھی، انھوں نے اپنے بیان میں زبردستی کرنے کی کوشش کا بھی ذکر کیا تھا لیکن پھر بھی پولیس نے ابتدائی طور پر اس معاملے کو جنسی زیادتی کے نقطہ نظر سے کیوں نہیں دیکھا؟ اس کا جواب یوپی پولیس کی جانب سے آنا باقی ہے۔

باجرے کے کھیت

BBC

4۔ پولیس نے اہل خانہ کو میڈیکل رپورٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کیوں نہیں دی؟

متاثرہ کے لواحقین کا الزام ہے کہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ یا پوسٹ مارٹم رپورٹ انھیں نہیں سونپی۔ جب بی بی سی نے اس بارے میں اس وقت کے ایس پی وکرانت ویر سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ابھی بھی خفیہ ہے اور اسے تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔

متاثرہ کے اہل خانہ کو یہ حق حاصل ہے کہ انھیں تمام طبی دستاویزات اور پوسٹ مارٹم رپورٹس دی جائیں۔ پولیس نے خاندان والوں کو رپورٹ کیوں نہیں دی؟ پولیس نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔

اسی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فرانزک شواہد کی بنا پر ریپ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں ’زبردستی دخول‘ کی کوشش کا ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس نے اپنے بیان میں رپورٹ کے اس نکتے کو شامل نہیں کیا تھا۔

جب بی بی سی نے معطل ایس پی سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا ‘تحقیقات کے اس مرحلے پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پورا واقعہ کیا ہے۔ ابھی تحقیقات جاری ہیں۔’

5۔ رات کے وقت متاثرہ کی میت کو کیوں جلایا گیا؟

پولیس اور انتظامیہ کا موقف ہے کہ لاش خراب ہو رہی تھی اور معاملے کے حساس ہونے کی وجہ سے انھیں ماحول خراب ہونے کا خدشہ تھا۔

جبکہ اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کی کوشش کر رہی تھی اور جلد بازی میں ‘لاش کو تباہ کرنا’ اسی کوشش کا حصہ ہوسکتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ کی بھابھی نے پولیس پر ‘لاش کو نذر آتش کر کے شواہد مٹانے’ کے الزامات لگائے تھے۔

بہر حال متاثرہ لڑکی کی آخری رسومات کے بعد اب کسی بھی طبی معائنے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔

میت کو جلانے کی جگہ

BBC

6۔ اس دن رامو کہاں تھا؟

ایک دوسرے ملزم رامو کے اہل خانہ اور ان کی حمایت میں پنچایت کرنے والی ٹھاکر برادری اور اونچی ذات کے افراد کا کہنا ہے کہ واقعے کے رونما ہونے کے وقت رامو ڈیئری پر ڈیوٹی کر رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے سی سی ٹی وی شواہد دستیاب ہوں گے۔ لیکن وہ کسی بھی قسم کا سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔

جب پولیس سے گرفتاری کے بارے میں سوال کیا گیا تو ایس پی نے بتایا کہ ’گرفتاری مقتول کے بیان کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ تکنیکی اور فارنزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ کسی بھی بے گناہ کو سزا نہیں دی جائے گی‘۔

اسی کے ساتھ متاثرہ کے اہل خانہ کا اصرار ہے کہ مقتولہ نے رامو کا نام لیا ہے اور وہ ان کے لیے پھانسی سے کم سزا نہیں چاہتے۔ جس ڈیئری پر رامو کام کرتا تھا اس کے مالک نے بھی اسے بے قصور بتایا ہے لیکن ابھی تک سی سی ٹی وی فوٹیج جاری نہیں کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15933 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp