آج مریخ زمین سے اتنا قریب ہے کہ اسے دیکھا جا سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریخ

Getty Images
سنہ 2003 میں مریخ زمین سے 34.8 ملین میل کے فاصلے پر آ گیا تھا جو تقریباً 60 ہزار برس میں قریب ترین فاصلہ تھا

امریکہ کے ادارے ناسا کے مطابق 6 اکتوبر کو مریخ زمین کے اتنا قریب ہوگا کہ اسے رات کی تاریکی میں کسی آلے کے سہارے کے بغیر دیکھا جا سکتا ہے۔

ناسا کے مطابق باہر جائیں اور اوپر دیکھیں اور آپ کو مریخ نظر آنا چاہیے لیکن اس کا احصار آپ کے مقامی موسم اور روشنی کی صورتحال پر ہوگا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ مریخ اور زمین کے قریب آنے کا فلکیاتی عمل ہر دو سال یا تقریباً 26 مہینے میں ایک بار ہوتا ہے۔ لہذا اگلی بار مریخ اور زمین دونوں دسمبر 2022 سے پہلے ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آئیں گے۔

تاہم قریب آنے کے باوجود زمین سے مریخ کا فاصلہ 38.6 ملین میل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

مریخ پر میتھین گیس زندگی کی علامت ہو سکتی ہے

سیارہ وینس کی فضا میں موجود گیس جو وہاں زندگی کی موجودگی کا امکان ظاہر کرتی ہے

مریخ پر بہنے والا کیچڑ یا ابلتا ہوا ٹوتھ پیسٹ

سنہ 2003 میں مریخ زمین سے 34.8 ملین میل کے فاصلے پر آ گیا تھا جو تقریباً 60 ہزار برس میں قریب ترین فاصلہ تھا۔ اب سنہ 2287 تک یہ دوبارہ زمین کے اتنا قریب نہیں آئے گا۔

اس عمل کو علمِ فلکیات میں ‘مارس کلوز اپروچ’ کہا جاتا ہے۔ جب بھی مریخ کے زمین کے قریب آنے کا عمل پیش آتا ہے تو اکثر یہ افواہیں پھیل جاتی ہیں کہ مریخ رات میں چاند جتنا بڑا دکھائی دیتا ہے جبکہ یہ سچ نہیں ہے۔

آپ اسے یقینی طور پر ٹیلی سکوپ کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ اسے بہتر طریقے سے دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ اسے اپنے قریبی تارہ گھر یا فلکیات کے مرکز سے دیکھ سکتے ہیں۔

ہر دو سال بعد ہونے والے اس فلکیاتی عمل کی وجہ سے مریخ پر جانے والا مشن عام طور پر دو سال کے وقفے سے بھیجا جاتا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ ناسا کا مریخ ’مشن 2020‘ اگلے سال 2021 میں لینڈ کرے گا۔ یہ 30 جولائی 2020 کو لانچ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل ‘مارس کلوز اپروچ’ کا عمل 31 جولائی 2018 کو پیش آیا تھا۔ مئی 2018 میں ناسا نے مریخ مشن کا آغاز کیا تھا۔

زمین اور مریخ کے درمیان فاصلے میں یہ تبدیلی کرہ ارض کے بیضوی مدار کی وجہ سے واقع ہوتی ہے۔ دوسرے سیاروں کی کشش ثقل کی وجہ سے سیارے کے مدار میں بار بار تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔

مریخ کو سرخ سیارے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اس کی سطح پر بڑے پیمانے پر آئرن آکسائڈ موجود ہے جس کی وجہ سے وہ سرخ نظر آتا ہے۔

مریخ نظامِ شمسی میں دوسرے نمبر کا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ زمین کی طرح ہی مریخ پر شمالی اور جنوبی قطب موجود ہیں جو برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ وہاں کا درجہ حرارت منفی 140 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

مریخ پر سب سے زیادہ درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

مریخ پر دن 25 گھنٹوں سے تھوڑا طویل ہے لیکن وہاں کا سال زمین کے سال سے تقریباً دگنا ہے کیونکہ مریخ کو سورج کے گرد گھومنے میں 687 دن لگتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16074 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp