ڈرائیو ان شادی: کورونا کے دنوں میں انوکھی شادی، دلہا دلہن بڑی سکرین پر، مہمانوں کا کھانا گاڑیوں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کے دور میں جہاں مختلف تقریبات کو محدود رکھنے کے لیے متعدد طریقے اپنائے جا رہے ہیں وہیں برطانیہ میں ایک جوڑے نے 'ڈرائیو ان شادی' رچائی اور مہمانوں کو گاڑیوں تک ہی محدود رکھا۔

روما پوپٹ اور وینال پٹیل نے ایسیکس میں شہر چیلمزفرڈ کے ایک پارک میں شادی کی تقریب منعقد کی جس مدعو کیے گئے مہمانوں نے اپنی گاڑیوں سے ہی بڑی سکرینز پر دیکھا۔

اس کے بعد اس 30 سالہ جوڑے نے گالف کارٹ میں بیٹھ کر پارک کا چکر لگایا اور اپنے دوستوں اور دیگر مہمانوں کو ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہا۔

اس دوران مہمانوں کو ہلکی پھلکی کھانے پینے کی اشیا فراہم کی گئیں اور ساتھ ہینڈ سیناٹائزر بھی دیا گیا۔ مہمانوں کے پاس یہ آپشن موجود تھی کہ وہ ویب سائٹ کے ذریعے کھانا آرڈر کریں اور پھر ویٹر انھیں وہ کھانا ان کی گاڑیوں میں فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کے پیش نظر اسلام آباد کے جوڑے کی شادی کیسے ہوئی؟

لاک ڈاؤن میں شادی: دولہا سمیت مہمان گرفتاری کے بعد قرنطینہ میں

خواب پرتعیش شادی کے لیکن بارات میں گنتی کے چار لوگ

‘اللہ کی موجودگی میں شادی ضروری ہے، لوگوں کی موجودگی ضروری نہیں’

جوڑے کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہترین دن تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانا کہ یہ اس سے ‘تھوڑا سا مختلف تھا’ جس کے بارے میں انھوں نے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

انگلینڈ میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر شادی کی تقریبات میں مدعو کیے جانے والے مہمانوں کی تعداد 30 سے گھٹا کر 15 کر دی گئی ہے۔

یہ تقریبات اب صرف ‘کووڈ سے محفوظ’ مقامات پر ہی کی جا سکتی ہیں۔ حالانکہ انگلینڈ میں زیادہ تر موقعوں پر قواعد کے مطابق چھ سے زیادہ افراد کے اجتماعات پر پابندی ہے لیکن شادی کی تقریبات کے لیے رعایت دی گئی ہے۔

شادی کی تقریب پلان کرنے والی سہیلی میرپوری کا کہنا تھا کہ ‘ایشیائی شادیوں کی پلاننگ کرنے کے باعث ہم بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے عادی ہیں اس لیے یہ وقت انتہائی مشکل رہا ہے۔ تاہم آپ کو اس دوران تخلیقی سوچ اختیار کرنی پڑتی ہے اور ذرا ہٹ کر سوچنا ہوتا ہے۔

‘اس جوڑے کی جانب سے ڈرائیو ان شادی کا آئیڈیا مذاق کے طور پر دیا گیا تھا۔ یہ یقیناً سننے میں بھی بہت عجیب لگتا ہے لیکن ہم نے اسے کے بارے میں جتنی بات کی اتنا ہی اس کے ممکن ہونے کا یقین ہونے لگا۔’

انھوں نے بتایا کہ ‘ہمیں اب تک اس حوالے سے متعدد کالز وصول ہو چکی ہیں جس میں جوڑے ہم سے اسی طرز پر شادیاں کروانے کے لیے کہہ رہے ہیں تو شاید اب یہ ایک نیا ٹرینڈ بن جائے۔

جوڑے کی جانب سے ڈرائیو ان شادی سے متعلق کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں کے لیے یہ ایک بہترین دن تھا اور اس کے بعد سے ہمیں مہمانوں کی جانب سے کالز اور پیغامات کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اس تجربے سے کتنے محظوظ ہوئے۔

‘ہمارے لیے تمام افراد کی شرکت بہت اہمیت رکھتی ہے، یہ سب ہماری سوچ سے تھوڑا مختلف تھا لیکن یہ ایک ایسا دن ہے جسے ہم کبھی بھی نہیں بھلائیں گے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16002 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp