موسمیاتی تبدیلی: انڈیا کا گنجان آباد شہر بنگلور جہاں دس لاکھ کنویں کھودے جا رہے ہیں

رامیا کوشِک - بی بی سی فیوچر پلینٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سکول انڈین شہر بنگلور کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک دو منزلہ غیر معروف عمارت میں قائم ہے۔ اونچی عمارتوں میں گِھرے ’رینوکا ہائی سکول‘ کے ستونوں کو قومی پرچم کے نارنجی، سفید اور سبز رنگوں سے رنگا گیا ہے۔

انڈیا کے گنجان آباد شہر بنگلور کا یہ حصہ کئی اعتبار سے ملک کے دیگر شہروں کی طرح ہے، مگر ایک لحاظ سے مختلف بھی۔ یہاں مختلف یہ ہے کہ اس پھلتے پھولتے شہر میں صاف پانی کم ہو رہا ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سکول کے میدان میں ایک بڑا کنواں کھودا جا رہا ہے۔ یہ بنگلور میں فراہمی آب کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مستقبل میں شہر بھر میں دس لاکھ کنویں تعمیر کیے جائیں گے۔

سوچنے میں یہ بہت بڑا کام لگتا ہے، مگر فراہمی آب کے اس قدیم طریقے سے شہر موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ کا مقابلہ کر سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

مصر،ایتھوپیا کا تنازع: دریائے نیل پر حق کس کا؟

گھر میں سبزیاں اگانا ہی خوراک کی قلت کا حل ہے؟

لارنس روڈ پراجیکٹ: لاہور کو شہری سیلاب سے بچانے کا منصوبہ کیا ہے؟

تپتا شہر

بنگلور کو ایشیا کا سب سے تیزی سے ترقی کرتا شہر بننے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ اس شہر کے قریب بہتے دریا ’ارکاوتی‘ کو بنگلور اپنے دامن میں سمیٹ چکا ہے۔

بنگلور کی زندگی کا انحصار دریائے کاؤری پر ہے جو شہر کو روزانہ 1,450 لیٹر پانی فراہم کرتا ہے، مگر اس کا قریب ترین بہاؤ بھی شہر سے 100 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

پانی بھرنے کے لیے قطار

Getty Images
بنگلور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روایتی پانی سپلائی کا نظام ناکافی ہے

ایک متبادل زیرِ زمین موجود پانی ہے۔ شہر میں منظورشدہ چار لاکھ برمے نصب ہیں، مگر کثرت استعمال سے اب کئی خشک ہو چکے ہیں۔ یہ برمے سطح زمین سے دو سو فٹ نیچے مسامدار چٹانوں میں جمع پانی کو اوپر کھینچتے ہیں۔

زمین میں پانی کا رساؤ کم ہونے کی وجہ سے ان آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں جو ایک تیزی سے نمو پاتے شہر کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔

بنگلور کے گلی محلوں میں پانی کے ذخائر کی تاریخ پر تحقیق کرنے والی اور شفیلڈ اربن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیٹا اُنیکرشنن کہتی کہ ’بنگلور کی زمین وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کے لیے موزوں نہیں ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہر میں بارش کی کمی مسئلہ نہیں ہے۔ بنگلور میں اپریل سے نومبر تک تقریباً 60 دن ایسے ہیں جن میں بادل خوب برستے ہیں اور 972 ملی میٹر سالانہ بارش ہوتی ہے۔

یہ سارا پانی کہاں جاتا ہے؟ انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس میں سینٹر فار اکالوجیکل سائنسز سے وابستہ محققین کے مطابق سنہ 1973 سے سنہ 2017 تک بنگلور کی سطح کو پختہ کرنے میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شہر کی 93 فیصد سطحیں پختہ یعنی کنکریٹ ہیں۔

وِشواناتھ سریکانتیہ بقائے آب کے ماہر اور ’بایوم انوائرمنٹل ٹرسٹ‘ کے نام سے چلنے والے ایک رفاہی ادارے کے سربراہ ہیں۔ یہی وہ ٹرسٹ ہے جس کی زیر سرپرستی ’ون ملین ویلز فار بنگلور‘ (یعنی بنگلور کے لیے دس لاکھ کنویں) کا منصوبہ زیر عمل ہے۔

ان کہنا ہے کہ ’عام حالات میں بارش کا صرف تین سے 10 فیصد پانی زیر زمین آبی ذخائر تک پہنچتا ہے۔ آپ جب تعمیر کرتے ہیں تو زمین پر ایک تہہ بن جاتی ہے جو اس نیچے جانے والے 10 فیصد پانی کو صفر کر دیتی ہے۔‘

اس طرح بارش کا یہ بیش بہا پانی زیر زمین آبی ذخائر کو تازہ کرنے کی بجائے شہر کی سڑکوں پر بہتا اور نکاسی آب کے نظام کو درہم برہم کرتا نشیبی علاقوں میں جمع ہو جاتا ہے۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدت اختیار کر جائے گا۔

آلودہ پانی

چند سال پہلے تک رینوکا ہائی سکول کو چار کلومیٹر دور سے ٹینکروں کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا تھا۔ ٹینکر ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ ایک ہزار لیٹر پانی قریبی ٹیوب ویل سے لاتے تھے۔

یہ ایک دقت طلب عمل تھا اور حکام ٹینکر کے پانی کے معیار پر بھی اعتراض کرتے تھے۔ بنگلور شہر میں زیر زمین پانی گندگی اور صنعتی فصلے کی وجہ سے آلودہ ہے۔ کائکونڈراہالی جھیل بھی آلائشوں کی وجہ سے آلودہ ہے۔

آبی ذخائر کی آلودگی

Getty Images
جھیلوں اور تالابوں کے کنارے گندگی اور آلودگی کی وجہ سے صاف پانی کا حصول مشکل تر ہوتا جا رہا ہے

ایک حقیقت پسندانہ متبادل موجود تھا۔ سنہ 2013 میں سکول انتظامیہ نے 14 فٹ گہرا کنواں کھودنے کے لیے ’منّو وڈر‘ یعنی روایتی کنویں کھودنے والوں کی خدمات حاصل کیں۔

کنویں کھودنے اور ان کی مرمت کے لیے مخصوص پیشہ ورانہ مہارت درکار ہوتی ہے اور یہ کام خطرات سے خالی نہیں۔ یہ منّو وڈر اپنے بزرگوں کے شانہ بشانہ کام کر کے اس مہارت کو ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتے ہیں۔

سات یا آٹھ کنواں کھودنے والوں کو 30 سے 40 فٹ گہرا کنواں کھودنے میں تین دن لگ جاتے ہیں۔ یہ کاریگر اکثر آپ میں قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ ایک کنویں کی کھدائی پر 30 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک خرچ آ سکتا ہے۔

بنگلور کے نواح میں واقع یلاماپالیہ گاؤں میں کنویں کھودنے والوں کے 75 خاندان آباد ہیں۔ پیدھانہ کا تعلق بھی ان ہی میں سے ایک خاندان سے ہے۔

وہ کہتے ہیں ’میں جو بھی کنواں کھودتا ہوں اس کی کامیابی کی پوری ضمانت دیتا ہوں۔ میں صرف پانی نکلنے کے بعد اپنی مزدوری لیتا ہوں، اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پانی نہ نکلا ہو۔‘

دس لاکھ کنویں

رینوکا ہائی سکول میں کنواں کھدنے کے بعد اب وہاں پانی کی قلت نہیں ہے۔ وہاں سے دن میں دو بار 500 لیٹر پانی نکالا جاتا ہے، یعنی کل 1000 لیٹر روزانہ۔ اور نزدیک واقع جھیل سے پانی رِس کر کنویں کو دو تین گھنٹے میں دوبارہ بھر دیتا ہے۔

سنہ 2009 میں اس جھیل کی اچھی طرح سے صفائی کی گئی تھی اور پھر بارش کے پانی کا رخ بھی اس کی جانب کر دیا گیا تھا۔

جھیل اور کنویں کے درمیان موجود مٹی قدرتی فلٹر کا کام دیتی ہے اور جب جھیل کا پانی اس میں سے رِس کر کنویں میں جمع ہوتا ہے تو ہر طرح کی آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

کنواں

Getty Images

رینوکا ہائی سکول ان متعدد آبادیوں میں سے ایک ہے جو بایوم انوائرمنٹل ٹرسٹ کے زیر اہتمام پانی کے پائیدارا انتظام کے طریقوں پر کاربند ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شہر میں 10 ہزار کنویں پہلے سے موجود ہیں مگر 10 لاکھ کا ٹارگٹ ابھی کوسوں دور ہے۔

سریکانتیہ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے اندازے کے مطابق اگر شہر میں دس لاکھ کنویں بن جائیں تو ہم 50 سے 60 فیصد پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اس طرح شہر کے کم گہرے ذخائر آب سے 14 سو ملین لیٹر پانی حاصل ہو سکے گا۔‘

پانی کے حصول کا یہ طریقہ قابل اعتبار بھی ہے اور سستا بھی۔ ان کنوؤں سے صرف 20 فٹ نیچے سے پانی کھینچنا پڑتا ہے جبکہ دریائے کاؤری کا پانی بینگلور تک لانے کے لیے 984 فٹ اوپر کھینچنا پڑتا ہے۔

لاگت کے لحاظ سے کاؤری کے پانی کے مقابلے میں کنویں کے پانی پر ایک فیصد لاگت آتی ہے۔

شہر میں ان کنوؤں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب بنگلور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے بارش کے پانی کو جمع کرنے اور زیر زمین پانی کے ذخائرہ کو تازہ کرنے کے لیے اقدامات کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ امید ہے کہ اب منّو وڈّر برادری کے لیے کام کی کمی نہیں رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16000 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp