ہنزہ کے لوگوں کا تاریخ کے روبرو استغاثہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میر آف ہنزہ اور نگر نے 1947 ء میں اپنی ریاستوں کے الحاق کا خط لکھ کر پاکستان کو اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا جواز فراہم نہ کیا ہوتا تو پاکستان اور دنیا کے حالات بھی آج مختلف ہوتے۔ 1963 ء میں پاکستان کا چین کے ساتھ سرحدی معاہدے پر میر آف ہنزہ کی رضامندی شامل نہ ہوتی تو نہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر ہوتی اور نہ آج پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راہداری المعروف سی پیک کا وجود ہوتا۔

مگر حالیہ برسوں میں ہنزہ کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک المیہ سے کم نہیں۔ مسلم لیگ نون کے گزشتہ دور میں ہنزہ گلگت بلتستان کی بے اختیار اسمبلی میں بھی نمایندگی سے بھی محروم رہا۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سانحہ عطا آباد پر احتجاج کرنے والوں پر نہ صرف گولیاں برسائی گئیں بلکہ احتجاج کرنے والوں کو ہی جیلوں میں ڈال کر وہ سزائیں دی گئیں جن کا جواز اس قانون میں بھی نہیں جس کا اصولی طور پر اس علاقے پر اطلاق بھی نہیں ہوتا ہے۔ جیلوں میں بند بے گناہ سیاسی کارکنان کی ماؤں اور بہنوں نے پاکستان سے سیر و سیاحت کے لئے اس علاقے میں آ کر ہوا خوری کرنے والے ہر بادشاہ اور منصف کے پیر پکڑے مگر کسی نے ان کی داد فریاد نہیں سنی۔

آج کئی دنوں سے ہنزہ کے عوام بشمول خواتین اور بچے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی کئی برسوں سے بلا جوازاور نا جائز نظر بندی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ کرونا کی وبا کا پاکستان سے خاتمے کا اعلان تو کیا گیا ہے مگر گلگت بلتستان میں اس کی شدت عروج پر ہے۔ ہنزہ میں خزاں کا موسم شروع ہو چکا ہے سردی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں ہزاروں لوگوں کے اس اجتماع میں کوئی انسانی المیہ رونما ہوا تو اس کو نہ تاریخ معاف کرے گی اور نہ ہی ہنزہ اور گلگت بلتستان کے عوام۔

گلگت بلتستان کے جیلوں میں بند ہنزہ کے نوجوانوں کا ایسا کیا جرم ہے جو اس قدر سخت سزا کی وجہ بن گیا ہے۔ یہ ایسا مذاق ہے جس پر نہ صرف اس وقت دنیا انگشت بدندان ہے بلکہ آنے والے وقت میں لوگ اس کو ریاستی جبر، حکومتی ظلم اور عدالتی نا انصافی کی ایک بد ترین مثال کے طور پر یاد رکھیں گے۔ ایسی سزا دینے والے بھی اس کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر ”اپنی مجبوری“ کہہ کر بری الزمہ ہونا چاہتے ہیں لیکن تاریخ ان کے ہاتھوں وقوع پذیر ظلم و جرائم کو کبھی نہیں بھول پائے گی۔

گزشتہ کئی برسوں سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک اور دنیا بھر کے لوگوں نے ایک طرف ہنزہ کے ان نوجوانوں کے حق میں آواز اٹھاکر ان کو تاریخ کی نظر میں سرخ رو کر دیا ہے تو دوسری طرف ان نوجوانوں پر الزام لگانے والے اور سزا دینے والے دنیا کی نظروں میں ظالم و جابر ٹھہرے ہیں۔ اب کیا اپنی غلطی کا احساس کر کے ان نوجوانوں سے معافی مانگنا بہتر ہے یا اپنی ایک غلطی کے اوپر اور غلطیاں کر کے تاریخ کی نظروں میں اپنے جرائم میں اضافہ کرنا ہے یہ فیصلہ ارباب اختیار کو کرنا ہے۔

پاکستان کا میڈیا جو ہنزہ کے دلکش مناظر اور وہاں کے کھیل کود اور سماجی تقریبات ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا دکھاتا رہا ہے اس کو بھی ہنزہ کے لوگوں کا احتجاج نظر نہیں آیا۔ سوائے چند صحافیوں کی ذاتی دلچسپی کے تمام ٹی وی چینلز نے اس تاریخی احتجاج کا بلیک آؤٹ کر رکھا ہے۔ ایک بڑے چینل نے اس خبر کو نشر کرتے ہوئے کہا کہ کہ لوگ اپیلیٹ کورٹ کے ججوں کی تعینیاتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسا آدھا سچ نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ اپنے سامعین، ناظرین و قارئین کے ساتھ بھی سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔

غیر سرکاری ادارے سوائے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے اس تاریخی جبر پرمجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے جیل جاکر قیدی بابا جان سے ملاقات کی اور اس نا انصافی کو دنیا کے سامنے لے آئی جس کے لئے وہ اور اس کا ادارہ لائق تحسین ہے۔ اب بھی انسانی حقوق کمیشن پاکستان نہ صرف اسیران ہنزہ کا مقدمہ عوامی اور بین الاقوامی سطح پر لڑ رہا ہے بلکہ گلگت بلتستان میں ہونے والی تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ارباب اختیار کے سامنے بھی لاتا رہا ہے۔ اس تاریخی جبر پردوسرے نام نہاد غیر سرکاری اداروں اور دیگر کاروباری و تجارتی اداروں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔

سیاسی جماعتوں نے بھی وہ تاریخی کردار ادا نہیں کیا جو تاریخ نے ان کو تفویض کیا تھا۔ پیپلز پارٹی احتجاج کرنے والوں پر گولیا چلا کر اور مسلم لیگ ہنزہ کو اسمبلی میں نمائندگی سے محروم رکھ کر تاریخ میں حق و باطل کے درمیان کھینچی لکیر کی دوسری طرف کھڑی ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی جو اس مقدمے میں قید بابا جان کو اپنا کارکن و راہنما مانتی ہے باقی 14 دیگر افراد کو چھوڑ کر صرف اسی ایک کی کافی تشہیر کرتی رہی ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اسی بابا جان کے لئے عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام منعقد ایک سمینار میں اس جماعت کے سربراہ عابد حسین منٹو صاحب کے غداری کے مقدمات میں تاریخی کردارکے بزبان خویش ذکر واذکار کے بعد خاکسار نے اس خاص مقدمہ کے بارے میں ان کی رائے پوچھنے کی جسارت کی تو انھوں نے فرمایا ”میں نے فائل نہیں پڑھی“ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے لئے بھی صرف باباجان ہی ایک برانڈ کے تشہیری مواد کے علاوہ کچھ نہیں۔

اب ہنزہ کے عوام نے خود ہی اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام پیر و جوان، مرد و خواتین شاہراہ قراقرم پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ دھرنا کسی ایک سیاسی جماعت کے زیر اہتمام نہیں بلکہ یہ خالصتاً عوامی تحریک ہے جہاں لوگ صرف ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے بیٹوں کو رہا کیا جائے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ رہائی کیسے ہوگی مگر وہ ایک بات نہ صرف جانتے ہیں بلکہ ان کو اس پر کامل یقین ہے کہ ان کے بیٹے بے گناہ ہیں کیونکہ وہ سب اس احتجاج میں خود موجود تھے جس پر پولیس نے گولیاں چلانے کے بعد اس کا الزام ان 14 بے گناہ لوگوں پر لگایا اور عمر بھر کے لئے جیل میں ڈال دیا۔

ہنزہ کے لوگ یہ مقدمہ کسی عدالت یا دربار میں نہیں بلکہ تاریخ کے روبرو لڑ رہے ہیں جس میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق، وفاداری اور خدمات کے عوض ان کو کیا صلہ ملا۔ یہ مقدمہ وہ اس سڑک پر لڑ رہے ہیں جس کی تعمیر کے لئے ان لوگوں نے اپنی زمین بھی پاکستان کے کہنے پر چین کے حوالے کی تھی۔ آج جب اس سڑک پر بننے والے پاکستان اور چین کے مابین تجاراتی راہداری کے منصوبے سے ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہونے جا رہا ہے تو ایسے میں ہنزہ کے لوگ اپنے بے گناہ بیٹوں کی رہائی کے لئے دوہائی دے رہے ہیں اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے۔

حکومت پاکستان گلگت بلتستان کی نوآموز عبوری حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے خود پہل کر کے اس مسئلے کو فوری طور حل کرنے کی کوشش کرے۔ گلگت بلتستان کے اپیلیٹ کورٹ میں ججوں کی تعینیاتی کا انتظار کرنے کے بجائے سپریم کورٹ اور چاروں صوبوں کے ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک خصوصی ٹریبیونل بنا کر اس مقدمے کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ ہنزہ کے لوگوں نے تاریخ کے روبروجو استغاثہ دائر کیا ہے اس میں مدعا علیہ کوئی اور نہیں صرف ریاست پاکستان ہے کیونکہ وہی ان کی کفیل اور محافط قرار پائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 233 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan