یاد کے سنہری ریشے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے سامنے چلتے چلتے کلیم اچانک دائیں طرف مڑ گیا، تو میں رکتے رکتے بھی اس سے ٹکرا گیا۔ میں بھنا کر بولا تھا، ”یار مڑتے وقت کوئی اشارہ تو دے دیا کرو“ ۔ اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص بے نیازی سے کہا تھا کہ غلطی ہمیشہ پیچھے والے کی ہوتی ہے۔ چھوڑو بہت سخت بھوک لگی ہے۔ سارا دن ہو گیا، خیبر بازار میں گھومتے پھرتے۔ چلو آؤ تمہیں قالول کھلاتا ہوں۔ خیبر بازار کے لوبیا فروشوں کے پاس بیٹھ کر پیٹ بھر کے مزیدار لوبیا کھا کے، ہم دوبارہ چل پڑے۔ یہ ہماری ہر دوسرے تیسرے دن کی روٹین تھی۔ یونیورسٹی میں کلاسیں بھگتا کر شام کو خیبر بازار اور صدر کے چکر لگانے نکل کھڑے ہوتے۔ آج بھی یہی ہوا تھا۔ پہلا سٹاپ اکثر صدر بازار ہوتا تھا جہاں رنگ برنگے دوپٹوں کی بہار آئی ہوتی۔ دوپٹوں کے دمکتے رنگوں پر تبصرہ کرتے ونڈو شاپنگ کرتے رہتے، پھر بس میں بیٹھ کے خیبر بازار، وہاں سے قصہ خوانی بازار اور اس سے ملحق چھوٹے چھوٹے بازاروں میں مٹر گشت کرنے کے بعد رات کو واپس یونیورسٹی پہنچ جاتے۔

کبھی کبھی ہم سب دوست، کارخانوں مارکیٹ چلے جاتے اور افغانستان سے سمگل شدہ بدیشی مال سے اٹی ہوئی مارکیٹوں میں گھومتے پھرتے رہتے۔ اس زمانے میں ہمارے پاس بہت زیادہ پیسے نہیں ہوتے تھے اور نا ہی یونیورسٹی میں اتنے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی۔

کلیم کے ساتھ میری دوستی یونیورسٹی میں آنے سے بھی پہلے ہو گئی تھی۔ ہم جب پہلی دفعہ آئی ایس ایس بی سنٹر کوہاٹ میں ملے تھے۔ کبیر اور شاہ میر بھی، ہمیں وہیں پہلی دفعہ ملے تھے۔ وہ دن اور آج کا دن، ہم سب کی دوستی قائم ہے۔ کوہاٹ میں گزرے وہ چار دن ہماری زندگی کے یادگار دن تھے۔ واپسی پر ہم چاروں کا داخلہ پشاور یونیورسٹی کے ایک ہی ڈیپارٹمنٹ میں ہو گیا تھا، جہاں دوستوں کے حلقے میں ہینڈسم قاسم، شاعر صمیم، شادی شدہ کریم، متبسم جاد، پریشان کمال، باڈی بلڈر ضرار، لولی تفضل، رشید اور سب کا بھائی نسیم سمیت ساری کلاس، سینیئر اور دوسرے ڈپارٹمنٹ کے ہاسٹل فیلو بھی شامل ہو گئے تھے۔ ان پیارے دوستوں کی سنگت میں جلد ہی یونیورسٹی کی رنگین زندگی نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا۔

میں یونیورسٹی کے شروع کے دنوں میں عجیب مخمصے کے عالم میں تھا۔ میڈیکل کالج میں چند نمبروں کی وجہ سے داخلہ نہ ملنے کا غم تازہ تھا۔ فارمیسی کے پہلے سال کے دوران ہی میں، میں نے ایڈیشنل میتھس کا امتحان پاس کر کے انجینئرنگ یونیورسٹی کے داخلے کے لیے بھی تیاری شروع کر دی تھی۔ اسی وجہ سے میں یونیورسٹی میں کم ہی ٹکتا تھا۔ حاضریاں کم ہونے کی وجہ سے پہلا سال گزرتے گزرتے میں ڈیپارٹمنٹ سے خارج ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ تب اپنے ایک ہم درد استاد کے مشورے پر میں نے یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں پانچ رعایتی نمبر حاصل کرنے کے لیے اپنا نام درج کروا دیا۔ چار سو میٹر کی دوڑ میں حصہ لینے والے زیادہ تر شرکا میری ہی طرح رعایتی نمبروں کے لیے آئے ہوئے تھے۔ دوڑ میں چھے لوگوں میں سے میرا چھٹا نمبر آیا۔

امتحان کے لئے تیاری کا زمانہ، یونیورسٹی کا سب سے مشکل وقت ہوتا ہے۔ ہر روز مٹر گشت کی عادت ترک کر کے کتابوں اور نوٹس کے انبار میں دفن ہونا پڑتا ہے۔ امتحان کے نزدیک ڈپارٹمنٹ میں کلاسیں ختم اور سب اپنے اپنے کمروں میں بند ہو جاتے تھے۔ یونیورسٹی کے پہلے سال میں نے ہاسٹل میں کمرا نہیں لیا تھا اور اپنے تقریباً ہم عمر اور دوست ماموں کے ساتھ جو سول سیکرٹریٹ میں ملازم تھے رہتا تھا۔

امتحان کے نزدیک میں ہاسٹل میں شاہ میر کے کمرے میں شفٹ ہو گیا تھا۔ شاہ میر ایک فن کار اور شاعر آدمی ہے۔ ہاسٹل میں اکثر رات جب وہ کمرے میں بانسری بجاتا تو لڑکے ہمارے دروازے کے باہر جمع، چپ چاپ سنتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی ہم ہاسٹل کے سامنے واقع کرکٹ گراؤنڈ کے سبزہ زار میں بیٹھ جاتے۔ وہ بانسری کی مدھر تانیں اڑاتا تو سارے میں ایک عجیب سماں چھا جاتا۔ بانسری وہ بجاتا تھا، لیکن ہم سب کے دل میں یہ خواہش ہوتی تھی کہ کاش ہوا کے دوش پر سوار بانسری کی یہ مدھر تانیں ہمارا حال دل سنانے گرلز ہاسٹل تک بھی چلی جائیں۔

پہلا سال بہت مزے میں گزر گیا۔ امتحان کی تیاری کے دنوں میں دوسروں کو دل جمعی سے پڑھتا دیکھ کر کبھی کبھی اختلاج قلب ہونے لگتا۔ کبیر اور کلیم روم میٹ تھے۔ کبیر کے پڑھنے کی غیر متزلزل روٹین دیکھ دیکھ کر کلیم پڑھائی کو ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہہ کر گھر بھاگ گیا۔ اس کو امتحان دینے کے لیے ہم گھر سے بہلا پھسلا کر لائے تھے۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد، سب بہت جلد اپنی اپنی عملی زندگی میں مصروف ہو گئے تھے۔ یونیورسٹی کے سنہرے دن اور سہانی راتیں، چھوٹے چھوٹے جھگڑوں پر قطع تعلق اور بڑی سے بڑی بات کو ایک پل میں بھول کر پھر مل بیٹھنا، بہت سی خوبصورت یادیں لے کر ہم عملی زندگی میں داخل ہو گئے تھے۔ پتا ہی نہیں چلا زندگی کی لہروں میں بہتے بہتے ہم کتنی دور تک آ گئے۔

اس خوبصورت زمانے کی خوبصورت یادوں کو میں نے چھوٹی چھوٹی صندوقچیوں میں بند کر کے اپنے دل کے قیمتی نہاں خانوں میں رکھ چھوڑا ہے۔ ان خانوں کے دروازوں پر رو پہلی تختیاں نصب ہیں۔ جب دوستوں سے کچھ عرصہ ملاقات نہ ہو، تو میں ہر دروازے میں داخل ہوتا ہوں اور وہاں محفوظ صندوقچی کو کھول اس میں سے یاد کے سنہری ریشے نکال کر پھیلا دیتا ہوں۔ میرے سامنے وہی زمانے روشن ہو جاتے ہیں اور میں حال کی تلخیاں بھول کر ماضی کے سنہرے دھندلکوں میں گم ہو جاتا ہوں۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •