کووڈ 19: بیٹی کی موت کے بعد باپ نے اینٹی باڈیز کا عطیہ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایلن میک اور ربیکا میک
Family photograph
ایلن میک اور ربیکا میک ایک ہی وقت میں کوروناوائرس کا شکار ہوئے
ایک باپ جسے کووڈ 19 اپنی بیٹی سے لاحق ہوا، جو بعد میں چل بسی، اب اس وائرس کے شکار مریضوں کو بلڈ پلازما یا ذرّات کے بغیر مائعِ خون عطیہ کر رہا ہے۔

ایلن میک، جن کی بیٹی ربیکا اپریل میں انتقال کر گئی تھیں، اب ایک طبّی آزمائش کا حصہ ہیں جس میں صحتیابی کے بعد متاثرہ شخص کے خون کا پلازما کہلانے والا جُز نئے مریضوں کو دیا جاتا ہے تاکہ ان کے جسم میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت بڑھائی جا سکے۔

صحتیاب ہونے والے مریضوں میں اسی مرض کے اینٹی باڈیز یا ضد جراثیم مادے پیدا ہو جاتے ہیں اور خیال ہے کہ یہ مادے اگر نئے مریضوں میں منتقل کر دیے جائیں تو ان کے جسم میں وائرس کے خلاف مدافعت بڑھائی جا سکتی ہے اور اس طرح وہ جلد شفایاب ہو سکتے ہیں۔

ایلن میک کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں چاہتا کہ ممکنہ حد تک کوئی بھی اس صورتحال سے گزرے جس سے ہمیں گزرنا پڑا ہے۔

’بہت سے لوگ ہیں جو سوچتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا، مگر ہو سکتا ہے۔‘

ایلن میک کی جانب سے پلازما کا عطیہ

NHS Blood and Transplant
ایلن میک اب تک آٹھ مرتبہ اپنے پلازما کا عطیہ دے چکے ہیں

ان کی بیٹی، انتیس سالہ ربیکا، نیو کاسل کے ایک ہسپتال میں بچوں کے کینسر کے وارڈ میں کام کرتی تھیں، اور کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد سیلف آئسولیشن میں تھیں۔

حالت خراب ہونے پر انھوں نے ایمبولینس بلائی مگر اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ریبکا نے دم توڑ دیا۔

ایلن اور ان کی بیوی میریون کا خیال ہے کہ انھیں اپنی بیٹی سے اس وقت وائرس لگا جب لاک ڈاؤن سے پہلے ایک تربیتی کورس کے بعد وہ اسے اپنی کار میں گھر چھوڑنے گئے تاکہ ان کی بیٹی کو عام سواری میں نہ جانا پڑے۔

اس وقت ریبکا میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی، مگر بعد میں دونوں باپ بیٹی شدید بیمار پڑ گئے۔ میریون بھی بیمار پڑیں مگر ان پر مرض کا حملہ اتنا شدید نہیں تھا۔

ایلن کہتے ہیں، ’یہ نہایت ہی ہولناک تھا۔‘

بیمار پڑنے سے پہلے ربیکا کا اپنا بھی یہ ہی خیال تھا کہ یہ زکامی جرثومہ ہے جسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

’بہت سے لوگ ایسا سوچتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے، یہ بہت ہی بھیانک ہے۔‘

ایلن اب تک آٹھ مرتبہ پلازما عطیہ کر چکے ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک ایسا کر سکتے ہیں جب تک ان کے جسم میں وافر مقدار میں اینٹی باڈیز یا ضدجراثیم مادہ موجود ہے۔

برطانیہ میں صحت کی سہولیت فراہم کرنے والے ادارے این ایچ ایس کے مطابق اب تک صرف 20 افراد نے اتنی بار پلازما کا عطیہ دیا ہے۔

ایلن میک اور ان کی بیوی اپنی بیٹی کی یاد میں بچوں کے ایک ہسپتال کے لیے چندہ اکٹھا کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16002 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp