یوجین چیو: امتحانات کے منفرد نوٹس فروخت کر کے اضافی کمائی کرنے والا ذہین طالب علم

پابلو اوچوا - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوجین چیو مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں اپنے پورے نصاب کو ذہن نشین رکھ سکتا ہوں۔‘

اور یہی وہ تعارف ہے جو 24 سالہ یوجین چیؤ زوم پر اپنے حوالے سے کرواتے ہیں۔ یوجین سنگاپور مینیجمنٹ یونیورسٹی میں بزنس مینیجمنٹ کے طالب علم ہیں۔

سنگاپور سے ایک زوم کال پر انھوں نے کاروبار، تعلیم اور زندگی میں اپنے تجربات کے بارے میں بات کی ہے۔ بی بی سی نے ان سے جنوب مشرقی ایشیا سے میکسیکو سٹی کے ان کے سفر سے متعلق بھی بات کی ہے۔

لیکن پہلے ہم ان کی وجہ شہرت کے متعلق بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا میں سب سے مہنگی تعلیم کہاں؟

’ہائی ٹیک‘ نقل کرانے والا استاد پکڑا گیا

سنگاپور تعلیمی درجہ بندی میں سرِ فہرست

انھوں نے حال ہی میں سنگاپور میں دو امتحانات میں کامیابی حاصل کی اور ریئل سٹیٹ ایجنٹ بن گئے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے امتحانات کے نوٹش آن لائن فروخت کرنے کے لیے پیش کیے اور ان کے مطابق یہ نوٹس ’مائنڈ میپس‘ یعنی ’ذہنی نقشے‘ ہیں۔

وہ پہلے شحص نہیں ہیں جنھوں نے اس طرح اپنی کامیابی سے پیسہ کمانے کی کوشش کی ہو یا پیسہ کمانے میں کامیاب بھی رہے ہوں، لیکن ان کے نوٹس کی غیر متوقع طور پر بہت زیادہ مانگ ہے۔

سنگاپور

Getty Images

نوٹس کی مانگ

انھوں نے اب تک تقریبا 1500 ’دماغی نقشے‘ فروخت کیے ہیں۔ کبھی کبھی ایک ہفتہ میں انھوں نے اپنے نوٹس سے ایک ہزار امریکی ڈالر بھی کمائے ہیں۔ انھوں نے اپنے اس تعلیمی مواد کو اب ایک کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔

سنگاپور میں ریئل سٹیٹ بزنس میں ایجنٹ بننے کے لیے کم از کم 60 گھنٹے کا کورس کرنا ہوتا ہے اور پھر دو حصوں پر مشتمل امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس امتحان کو ’آر ای ایس‘ کا امتحان کہا جاتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چیؤ نے بتایا کہ ’یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سنگاپور میں قواعد پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہاں تعلیم کے فوری اور تیز طریقہ کار کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔

صارفین فیس دے کر ان ’16 دماغی نقشوں‘ کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ان کا استعمال چیؤ نے اپنے امتحانات کے دوران کیا تھا۔

دماغی نقشے واقعتاً تصورات اور نظریات کی تصویری عکاسی ہیں۔ اس سے تصورات کو آسانی سے سمجھنے اور ان کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں مدد ملتی ہے۔

چیؤ کے مائنڈ میپس میں قانونی اور مارکیٹنگ کے تصورات کے علاوہ ریاضی کے فارمولے، میزان اور بہت ساری نصاب کی اشیا شامل ہیں۔

چیؤ اس کی تفصیل سے وضاحت کرتے ہیں کہ ’نقشہ جات آپ کو سیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ وہ کسی مضمون کی موٹی موٹی سمجھ فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو اسے باریکی سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کسی مضمون کے متعلق سوال ہے تو آپ اس کے لیے درسی کتاب کی مدد لینے اور پورا باب تلاش کرنے کی بجائے اسے مائنڈ میپ میں ڈھونڈ سکتے ہیں۔‘

چیؤ کا کہنا ہے کہ انھوں نے بہت دنوں تک سکوبا ڈائیونگ کرتے ہوئے کچھ کہے بغیر اپنی بات کہنے کی صلاحیت کو پروان چڑھایا ہے۔

کسی زبان کی ضرورت نہیں

وہ 14 سال کی عمر سے ہی اس کے متعلق مشق کر رہے ہیں اور وہ تین سال قبل سکوبا ڈائیونگ کے ماسٹر بنے ہیں۔ وہ سکوبا ڈائیونگ کے شعبے میں انسٹرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ لوگوں کو گروپس میں سمندر کی سیر پر لے جاتے اور انھیں اکثر فلپائن، انڈونیشیا اور ملائشیا کے خوبصورت مقامات پر غوطہ خوری کرواتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ڈائیونگ انسٹرکٹر کی حیثیت سے آپ کو احساس ہو گا کہ زبان ابلاغ اور ترسیل کے لیے اہم تو ہے لیکن لازمی نہیں ہے۔‘

’آپ پانی کے اندر بات کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔ آپ پانی کے اندر ’ہیلو‘ یا ’میرا ماسک لیک کر رہا ہے‘ جیسی معمولی بات بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ آپ چہرے کے تاثرات اور ہاتھ کے اشاروں سے ہر چیز کی وضاحت کرنی ہو گی۔’

چیؤ کا کہنا ہے کہ ڈائیونگ کی وجہ سے انھیں سیکھنے کی دو اضافی مہارتیں حاصل ہوئی ہیں۔ پہلی دوسری ثقافتوں کے ایسے طلبا سے رابطہ قائم کرنا جن کی ڈائیونگ میں دلچسپی ہو اور دوسری بات یہ کہ انھوں نے ایڈونچر سے لطف اندوز ہونا سیکھا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سنگاپور جیسے پرسکون ماحول میں پروان چڑھنے والے بچوں کے لیے یہ بہت اہم ہے۔

چیؤ میکسیکو سٹی کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر تک پہنچنے کی اپنی کہانی سنانا پسند کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بیرون ممالک کے طلبا کے لیے ورلڈ ٹریڈ سینٹر تک پہنچنا ایک کارنامہ ہے اور میں اس کے لیے بے قرار تھا۔‘

میکسیکو کا خواب

چیؤ گذشتہ سال میکسیکو کے شہر پیوبلا میں ’سٹوڈینٹ ایکسچینج پروگرام‘ کے تحت گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ پیوبلا ایک ’خوبصورت اور پرسکون‘ جگہ ہے اور میکسیکو کے لوگ کافی ’دوستی پسند‘ ہیں۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں انھیں کوئی ملازمت تو نہیں ملی لیکن 27 ویں منزل پر مختصر قیام کے دوران انھیں بولنے کا موقع ملا۔ انھیں احساس ہوا کہ ان کا خواب پورا ہو گیا ہے۔

وہاں موجود کیوبا کے منیجر پہلے تو انھیں دیکھ کر حیران ہوئے پھر انھوں نے سنگاپور کے تعلیمی نظام کو سمجھنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔

میکسیکو سے واپسی سے قبل چیؤ ایک بار پھر ورلڈ ٹریڈ سینٹر گئے۔ کیوبائی منیجر اور ان کی ٹیم نے وہاں ان کا استقبال کیا۔

ایچ آر کے ماہرین نے ان کی شخصیت کا امتحان لیا تو ان کو اپنی بات کی ترسیل کے انداز پر بہت اچھے نمبر ملے۔

چیؤ کی کمپنی آر ای ایس ٹیوٹر آر ای ایس امتحانات کی تیاری میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس امتحان کو پاس کرنے کے بعد طلبا سنگاپور میں ریئل سٹیٹ شعبے میں ایجنٹ بن جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا کاروبار آئی ٹی سرٹیفیکیشن کے بازار تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ وہ یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ ان کا ماڈل کتنا مؤثر ہو گا۔

چیؤ خود ریئل سٹیٹ شخصیت نہیں بننا چاہتے، وہ صرف اپنی والدہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو 30 برسوں سے ریئل سٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16002 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp