نواز شریف کے خلاف اخبارات میں اشتہار شائع کرنے کا حکم: عدالتی فیصلے پرعملدرآمد شروع

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف
Getty Images
پاکستان کی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے بارے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا آغاز کردیا ہے اور اس ضمن میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اشتہار کے لیے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کو ایک خط لکھا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کی طرف سے پرنسپل انفارمیشن آفیسرکے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو فوجداری مقدمات میں طلبی کے باوجود مسلسل غیر حاضری پر فوجداری ایکٹ کی دفعہ87 کی کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کو العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنس میں بذریعہ اشتہار طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف اور عدالتیں

اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کی طلبی کے لیے اشتہار جاری کرنے کا حکم

نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کا معاملہ، نیب اور حکومت خاموش کیوں؟

العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں نواز شریف کی ضمانت منسوخ ہوچکی ہے جبکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں ملنے والی ضمانت کی منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے عدالت نے نواز شریف کا اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اشتہار 19 اکتوبر کو انگریزی اور اردو اخباروں کے لاہور اور لندن ایڈیشن میں شائع کیا جائے۔

خیال رہے کہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا تھا کہ لندن سے شائع ہونے والے اخبار ڈان اور جنگ میں میاں نواز شریف کی طلبی کے اشتہار شایع کروائے جائیں اور اس پر اٹھنے والے تمام اخراجات وفاقی حکومت ادا کرے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

BBC

عدالتی حکم: اشتہار کالی سیاہی سے اخبارات میں شائع کیا جائے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں ہدایات دی گئی ہیں کہ یہ اشتہار بلیک اینڈ وائٹ جاری کیا جائے اور دونوں اخبارات کے بِیک پیج پر کالی سیاہی سے کوارٹر پیج کا اشتہار جاری کیا جائے۔

اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب یہ اشتہار مذکورہ دونوں اخباروں میں شائع ہو جائیں تو ان اداروں کی طرف سے اشتہار کے اخراجات کی رسید فراہم کرنے پر جلد ادائیگی بھی کر دی جائے۔

اس خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اشتہار کے متن میں لکھا جائے کہ نواز شریف عدالتی مفرورہیں اور بذریعہ اشتہار انھیں پیشی کا آخری موقع دیا جاتا ہے اور سزا یافتہ اپیل کنندہ نواز شریف عدالتی کارروائی کا سامنا کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان دونوں اپیلوں میں سابق وزیر اعظم کو 24 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

اس سے قبل عدالت کو بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم یا ان کے بیٹوں میں سے کسی نے بھی ہائی کورٹ کی طرف سے نواز شریف کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری وصول نہیں کیے، جس کے بعد سابق وزیر اعظم کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16021 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp