نیو شیپرڈ: جیف بیزوس کے نئے راکٹ سے چاند پر جانے کی نئی ٹیکنالوجی کا تجربہ

پال رنکون - سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز ویب سائٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن نے ایک راکٹ کا تجربہ کیا ہے جس میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جو انسانی خلا بازوں کو 2024 میں چاند پر دوبارہ جانے میں مدد دے سکے گی۔

نیو شیپرڈ نام کا یہ راکٹ چاند کی سطح سے واپسی کے بعد زمین پر عمودی طریقے سے اتر سکے گا۔

18 میٹر لمبا نیو شیپرڈ راکٹ ٹیکساس میں بلیو اوریجن کی تجربہ گاہ سے لانچ کیا گیا اور اس ٹیسٹ میں وہ زمینی سطح سے 105 کلو میٹر اوپر گیا۔

اس راکٹ میں سینسر لگے ہوئے تھے اور اس کے ساتھ کمپیوٹر اور ایسا سافٹ وئیر تھا جس کی مدد سے اس راکٹ کو مختلف مقامات پر بالکل درست طریقے اور مخصوص مقام پر اترنے میں مدد مل سکے گی۔

یہ بھی پڑھیے

’ستاروں سے آگے جہاں‘ کی تلاش میں تاریخ کا عظیم ترین سائنسی مشن

چاند پر لے جانے والے نئے راکٹ کا پہلا مرحلہ مکمل

سپیس ایکس سیاحوں کو چاند کے گرد چکر لگوائے گی

چاند کے سفر کے پہلے نجی امیدوار کا اعلان

امریکہ کی سرکاری ایجنسی ناسا کی خواہش تھی کہ اس راکٹ کو چاند پر بھیجنے سے قبل زمین پر تجربہ ہو۔ منگل کو اس راکٹ کا ٹیسٹ لانچ ہوا تھا جو کہ بلیو اوریجن کے نیو شیپیرڈ راکٹوں کا ساتواں تجربہ تھا۔

اس راکٹ کو اس خیال سے تیار کیا گیا ہے کہ اس کی مدد سے خلائی سیاحوں کو زمین کے مدار سے باہر مختصر مدت کے لیے سیر پر لے جایا جائے۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ وہ سیاحوں کو زمین کی سطح سے 100 کلو میٹر اوپر لے جائیں۔

منگل کو ہونے والے ٹیسٹ میں کیا ہوا؟

منگل کو کمپنی کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹ کو این ایس 13 کا نام دیا گیا۔ اس ٹیسٹ میں راکٹ کا کیپسول پیراشوٹ کی مدد سے زمین پر اترا اور راکٹ بالکل عمودی حالات میں تھا۔

اس راکٹ میں ‘سپلائس’ نام کا پے لوڈ تھا جس کی مدد سے راکٹ کو مخصوص مقام پر محفوظ اور درست طریقے سے اترنے کے لیے معلومات دی جاتیں اور اس کی سمت درست کی جاتی۔

اس ٹیکنالوجی میں دو سینسر، کمپیوٹر اور جدید الگورتھم تھے۔ اس پے لوڈ کو نیو شیپرڈ پر بھیجنے کا مقصد تھا کہ یہ جانچا جا سکے کہ مختلف نوعیت کے پے لوڈ کیسے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔

سپلائس سینسر سسٹم کو سب سے پہلے ڈریپر نامی کمپنی نے تیار کیا تھا جو کہ امریکی ریاست میساچیوسٹس میں مقیم ہے۔

اس ڈیزائن کی مدد سے اترنے والی سطح کے بارے میں معلومات لی جاتی ہیں اور پہلے سے طے شدہ مقام کی تصاویر سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اترنے والا مقام درست ہے یا نہیں۔

جب ناسا نے نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن کو اپالو 11 پر چاند پر بھیجا تو ان کے پاس صرف 1960 کی دہائی میں لیے گئے پرانے نقشے اور تصاویر تھیں جو کہ اتنی واضح نہیں تھیں۔ جب اپالو 11 چاند پر اترنے والا تھا تو وہ ایک چٹان سے ٹکرانے سے بال بال بچ گیا تھا۔

ناسا نہیں چاہتا کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ پیش آئے اور اس نوعیت کے سینسر سسٹم اس خدشہ کو دور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نیو شیپرڈ پر لگے دوسرے سینسر سسٹم کو ناسا نے خود تیار کیا ہے اور اس کا مقصد بھی سطح پر مخصوص اور درست طریقے سے اترنے میں مدد دینا ہے۔ لیکن ناسا کے سینسر میں لیزر کی شعاعیں سطح پر ڈالی جاتی ہیں جس کی مدد سے راکٹ کی لینڈنگ میں مدد ملتی ہے۔

بلیو اوریجن اس ٹیم کا حصہ ہے جسے ناسا کی جانب سے ٹھیکہ ملا ہے کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی اور راکٹ تیار کریں جن کی مدد سے انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجا جا سکے۔

ناسا نے آرٹیمس نامی پروگرام شروع کیا ہے جس کی مدد سے ان کا ارادہ ہے کہ چاند کے قطب جنوبی پر وہ ایک مرد اور ایک عورت کو بھیجیں اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ان کا ارادہ ہو کہ چاند پر طویل مدت کے لیے انسانی موجودگی کا اہتمام کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16075 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp