انڈیا کا اپنے چار قیدیوں کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ہائیکورٹ
AFP
انڈین حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسے چار انڈین شہریوں کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی ہے جنھیں پاکستان میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئی تھیں اور وہ یہ سزا پوری کر چکے ہیں۔

پاکستانی وکیل ملک شاہنواز نون کے توسط سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ انڈین شہری برجو ڈونگ ڈونگ عرف برچھو، وگیان کمار، ستیش بھوگ اور سونو سنگھ کو پاکستانی فوج نے گرفتار کیا تھا اور انھیں پاکستان آرمی ایکٹ کی شق 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئی تھیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ برجو ڈونگ کی سزا سنہ 2007 میں، سونو سنگھ کی 2012 میں، وگیان کمار کی 2014 میں جبکہ ستیش بھوگ کی 2015 میں مکمل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل شاہنواز نون کا دعویٰ ہے کہ جن افراد کی رہائی کی درخواست کی گئی ہے وہ دراصل ماہی گیر ہیں اور فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزا کے بعد ان میں سے تین قیدیوں کو لاہورکی جیل میں جبکہ ایک قیدی کو کراچی کی جیل میں رکھا گیا ہے۔

درخواست میں ان انڈین قیدیوں کے رشتہ داروں کے ناموں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے اپنے عزیزوں کی رہائی کے لیے انڈین ہائی کمیشن سے رابطہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کو فریق بنانے والی اس درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ان انڈین شہریوں کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ سنہ 1954 اور نیشنل سیکرٹ ایکٹ سنہ 1923 کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے گئے جن کے نتیجے میں چار یا پانچ سال تک کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

ماہی گیر

BBC

درخواست میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان افراد کی رہائی کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کو بارہا یاد دہانی کروائی گئی کہ یہ چاروں قیدی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں لہذا ان کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ان افراد کو انڈین حکومت کے حوالے کردیا جائے۔

انڈین ہائی کمیشن نے موقف اپنایا ہے کہ یاد دہانی کے باوجود وزارت داخلہ نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی ابھی تک ان افراد کو انڈین حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین کا ارٹیکل ’فری اینڈ فیئر ٹرائل‘ پر زور دیتا ہے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ ان انڈین قیدیوں نے قانونی معاونت طلب کرنا چاہی تھی لیکن جیل کے حکام نے انھیں وکلا سے ملتے نہیں دیا گیا اور نہ ہی قانونی کارروائی کے لیے کسی کو اٹارنی مقرر کرنے کی اجازت دی گئی۔

درخواست میں یہ قانونی نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی قیدی اپنی سزا مکمل کر لے تو پھر اسے کس قانون کے تحت حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ماضی میں بھی ایسے فیصلے موجود ہیں جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان انڈین قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کیے جو اپنی سزا کاٹ چکے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے ماہی گیروں اور غلطی سے سرحد عبور کرنے والے افراد کی گرفتاریاں عام معمول رہا ہے اور ایسے افراد سزائیں مکمل ہونے کے بعد بھی اس وقت تک رہائی حاصل نہیں کرتے جب تک دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات بہتر ہوں اور جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے طور پر انھیں آزادی کا پروانہ نہیں مل جاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15977 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp