آپ کے تصور جاناں میں کون بسا ہوا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر عاشق اور ہر محبوب اس رومانوی حقیقت سے واقف ہے کہ وہ بہانے بہانے سے زندگی کی گہما گہمی میں تخلیے کے وہ لمحے تلاش کرتا رہتا ہے جب وہ تصور جاناں میں محبوبہ سے ملاقات کرے اور وہ سب کچھ کرے جو وہ حقیقی دنیا میں نہیں کر سکتا۔ تنہائی کے ایسے لمحے محبوب کو خیالوں کی جنت میں لے جاتے ہیں۔ وہ خیالی دنیا کی ملاقاتیں اتنی دلفریب ’اتنی دل گداز‘ اتنی دلنشیں اور اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ مرزا غالب بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے

؎ جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

ایک نوجوان شاعر اور میڈیکل کالج کی دختران خوش گل کا مداح ہونے کے ناتے میں تصور جاناں کی رومانوی حقیقت سے تو واقف تھا لیکن اس کی نفسیاتی حقیقت اور رومانوی راز سے اس وقت واقف ہوا جب میں نے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں ماہر جنسیات ڈاکٹر جون ہونگ کا sexology کا کورس لیا۔ انہوں نے sexual fantasies کی کلاس میں ہمیں یہ بتایا کہ کسی انسان کی شخصیت اور نفسیات جاننے کے لیے اس کے جنسی عمل اور رومانوی طرز زندگی سے زیادہ اس کی جنسی فینٹسی کو جاننا ضروری ہے جس کا تعلق اس کی داخلی دنیا سے ہے۔

وہ داخلی دنیا خارجی دنیا سے زیادہ نفسیاتی اہمیت کی حامل ہے۔ اپنے موقف کی وضاحت کے لیے انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک واقعہ سنایا۔ ڈاکٹر ہونگ کو ایک ہائی سکول کے پرنسپل نے بلایا اور کہا کہ انہوں نے دو ٹین ایجر لڑکوں کو واش روم میں جنسی عمل کے دوران پکڑ لیا ہے اور وہ ان کا نفسیاتی تجزیہ کروانا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر ہونگ نے جب اس لڑکے کا انٹرویو لیا تو اس لڑکے نے کہا کہ وہ اپنی کلاس کی ایک حسیں لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا لیکن اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اس لڑکی سے اظہار عشق کرسکے۔

ڈاکٹر ہونگ نے سکول کے پرنسپل کو بتایا کہ وہ لڑکا اگرچہ ایک اور لڑکے کے ساتھ جنسی عمل میں مصروف تھا لیکن وہ آنکھیں بند کر کے تصور جاناں میں اس لڑکی سے مباشرت کر رہا تھا جس کی زلف کا وہ اسیر تھا۔ رومانوی زندگی میں بھی

؎ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا

میں نے اپنے کلینک میں جن مریضوں اور مریضاؤں کی sex therapyکی ہے مٰیں ان کو تصور جاناں اور ان کی سیکسول فینٹسی کے حوالے سے مختلف گروہوں میں بانٹ سکتا ہوں

پہلا گروہ اسی محبوب کے بارے میں تصور کرتا ہے جس کے ساتھ وہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے
دوسرا گروہ موجودہ محبوب یا شریک سفر کی بجائے ماضی کے کسی محبوب یا شریک سفر کے بارے میں تصور کرتا ہے

تیسرا گروہ کسی ایسے محبوب کو اپنے تصور میں بسائے ہوتا ہے جو حقیقی زندگی میں اس کی دسترس سے باہر ہوتا ہے

چوتھا گروہ کسی مشہور فنکار یا اداکار کو خیالوں اور خوابوں کی دنیا میں بسائے ہوتا ہے

پانچواں گروہ اپنے تصور میں اپنے لیے خود ایک ایسا محبوب ترشتا ہے جس کا حقیقی زندگی میں کوئی وجود نہیں ہوتا

میں نے ان گروہوں کی نشاندہی اس لیے کی ہے تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ ہر انسان اپنی داخلی اور خیالی زندگی میں خارجی اور سماجی زندگی سے مختلف ہوتا ہے۔

دنیا میں اتنے ہی رومانوی سچ ہیں جتنے انسان۔

ایک روایتی ماحول میں لوگ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے رومانوی سچ کا اظہار کیا تو ان پر یا توسنگ باری ہوگی اور یا وہ کسی تنگ نظر مولوی کے فتوے کی زد میں آ جائیں گے۔ میں بہت سے ایسے مذہبی لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنے تصور جاناں کی وجہ سے نہ صرف احساس گناہ کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ایک منافقانہ زندگی بھی گزارتے ہیں۔

جب سے میں نے ’ہم سب‘ پر نفسیاتی کالم لکھنے شروع کیے ہیں مجھے نجانے کتنے ایسے مردوں کے پیغام آئے ہیں جو اپنی منافقانہ زندگی کی وجہ سے نامرد ہو چکے ہیں۔ ان کے نفسیاتی مسائل نے ان کی رومانوی زندگی کو برباد کر رکھا ہے۔ بعض تو ان نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اپنی بیویوں سے محبت کرنے کی بجائے نفرت کرنے لگے ہیں کیونکہ ان کی شادیاں ان کو آئینہ دکھاتی رہتی ہیں۔

رومانوی طور پر ایک صحتمند اورمحبت بھری زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تو ہم اپنے سچ کو قبول کریں اور پھر اس کی بنیاد پر چند حقیقت پسندانہ فیصلے کریں۔

آپ یہ جان کر حیران و پریشان ہوں گے کہ مشرق و مغرب میں نجانے کتنے شادی شدہ جوڑے صرف اس وجہ سے loveless and sexless زندگیاں گزار رہے ہیں کہ۔ لوگ کیا کہیں گے۔

مشرق اور مغرب کا ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ مغرب میں بہت سے تعلیم یافتہ اور سماجی شعور رکھنے والے لوگ اب کسی پادری سے دعا کروانے یا کسی فقیر سے گنڈا تعویذکروانے کی بجائے کسی ڈاکٹر یا کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرتے ہیں اور اپنے جنسی ’رومانوی اور ازدواجی مسائل کا طبی اور نفسیاتی علاج کرواتے ہیں اور شفایاب ہو کر اپنے شریک حیات کے ساتھ صحتمند اور خوشحال محبت بھری زندگی گزارتے ہیں۔ اکثر اوقات میاں بیوی دونوں تھیرپی میں شریک ہوتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ مشرق کے سکولوں اور کالجوں میں بھی ایسی کلاسز کی ضرورت ہے جہاں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جنس محبت اور شادی کے بارے میں جدید سائنس طب اور نفسیات کی بنیاد پر لیکچرز کا اہتمام کیا جائے تا کہ وہ رومانوی رشتوں کے راز جان سکیں اور اپنی زندگی کے دامن کو محبت سے بھر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 379 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail