بغاوت اور بقا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بغاوت اور بقا دو ایسے الفاظ ہیں، جن کو بغور دیکھا جائے تو ان کا باہمی ربط واضح ہو جاتا ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کا ایک دوسرے سے بہت گہرا ربط ہے۔ آپ سوچیں گے کیسے؟ آئیے دونوں اصطلاحات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ چارلس ڈارون کے نظریہء ارتقا کے مطابق، جانداروں کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیاں در اصل ان کے وجود کے اندر پیدا ہونے والی بغاوت کا نتیجہ تھی۔ جب باہر کے حالات میں تبدیلی آئی تو جانداروں کی روایتی ضرورت کے مطابق ان کے جسموں کو مناسب تناسب میں خوراک اور باقی کیمیائی اجزا میسر نہیں تھے۔

اس کے نتیجے میں جسم کے اندر موجود کچھ خلیوں نے بغاوت شروع کر دی۔ جانداروں کے جسم کے اندر بھی پورا ایک نظام ہوتا ہے۔ ماحول میں آنے والی تبدیلی کی وجہ سے جسموں کے اندر ہی موجود خلیوں میں ایسی کیمیائی تبدیلی رونما ہوئی، جس نے تبدیل شدہ ماحول کے مطابق ان جانداروں کو ڈھلنے میں مدد دی۔ اور اس طرح یہی روایت کے خلاف بغاوت ان جانداروں کے بقا کی ضامن بنی۔

اب اگر ہم ذرا انسانی سماجی ارتقا کا جائزہ لیں تو تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بادشاہت کے زمانے میں ہمیشہ وہی شہزادہ تخت نشین ہوا، جس میں بغاوت کا عنصر پایا جاتا تھا اور وہ اپنے باقی بھائیوں کو قتل کر کے تاج و تخت پر قابض ہو جاتا تھا، جو ماضی کی روایت سے آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ اقتدار کا مالک بنتا تھا۔ بدلتے حالات کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت ہی اس کی کامیابی کی ضامن بنتی تھی۔

ہم جب انسانی فکری تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ لوگ بقا پا گئے، جو اپنے مروج روایتی نظام کے خلاف بغاوت کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ جنہوں نے مروج روایتوں اور عقیدوں سے بغاوت کی۔ جیسے سقراط نے ایتھنز کے خداؤں سے انکار کیا۔ روایت سے بغاوت کی، زہر کا پیالہ پیا مگر امر ہو گیا۔ کسی شاعر نے کہا ہے:

جرم سقراط پہ پھر وہی سزا دو ہم کو
زہر رکھا ہے تو یہ آب بقا دو ہم کو

یہ ضرور ہے کہ جسمانی طور پہ بقا پانے اور فکری طور پہ بقا پانے میں تھوڑا بہت فرق ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں ارتقا و بقا کا راستہ بغاوت کی گلی ہی سے گزرتا ہے۔

اسی بغاوت و بقا کے تعلق کو ہم جب آج کے دور میں عورت کے مقام اور سماج کے تعلق کے حوالے سے دیکھتے ہیں، تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر معاشرے میں عورت کی بقا کا انحصار اس کے اندر دبی بغاوت کی شدت پر منحصر ہے۔ اگر کسی سماج میں عورت نے کوئی مقام حاصل کیا ہے، تو وہ اس کی مروج روایات و اقدار کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں ملا ہے۔ آج کے ہمارے اس معاشرے میں بھی عورت کی بقا کے لئے بغاوت ہی واحد راستہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ اپنا بحیثیت انسان مقام حاصل کر سکتی ہے۔

آج کی عورت کو کھل کر اور بلند آواز میں چیخ کر یہ بتانا ہو گا کہ وہ کوئی بے جان شے نہیں، جس پر رنگ برنگے کپڑے ٹانگ کر بس دل بہلایا جائے۔ وہ ایک زندہ وجود ہے۔ ایک مکمل شخصیت کی مالک۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سمیرا عادل کی دیگر تحریریں