انڈیا، چین سرحدی تنازع: فوجی کی ہلاکت کے بعد انڈین آرمی میں تبت کے پناہ گزینوں پر مشتمل خفیہ فورس کا انکشاف

عامر پیرزاده - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

tibet
BBC
انڈیا کئی دہائیوں سے تبت سے آنے والے پناہ گزینوں کو اپنی فوج کے ایک خفیہ یونٹ میں بھرتی کر رہا ہے جس کا مقصد بلند محاذوں پر ہونے والی لڑائی میں حصہ لینا ہے۔ حال ہی میں ایک سپاہی کی موت کے بعد اس خفیہ یونٹ کے بارے میں معلومات سامنے آنا شروع ہوئی ہیں۔

نائمہ تینزن کی تصویر ان کے گھر کے ایک کونے میں رکھی ہوئی ہے جس کے اردگرد مٹی کے دیے جلائے گئے ہیں۔ اس خاص جگہ پر ان کے خاندان کے افراد، رشتہ دار اور بدھ مت کے راہب ورد کر رہے ہیں۔

کچھ روز قبل 51 سالہ نائمہ تینزن لداخ کے علاقے میں واقع پینگونگ سو جھیل کے پاس ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں حالیہ عرصے میں انڈیا اور چین کی افواج میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔

انڈین فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بارودی سرنگ انڈیا اور چین کے درمیان 1962 میں ہونے والی جنگ کے دنوں میں نصب کی گئی تھی جسے بارودی مواد سے پاک نہیں کیا جا سکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا انڈیا نے تبت کے معاملے میں غلطی کی؟

چین اور انڈیا کے سرحدی تنازع میں تبت کا کیا کردار ہے؟

کیا انڈیا کے تبت کارڈ استعمال نہ کرنے کی وجہ بہتری کی امید ہے؟

نائمہ تینزن کے بھائی نامداخ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں 30 اگست کی رات ساڑھے دس بجے کسی نے فون پر ان کے بھائی کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

’لیکن انھوں نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔‘ ان کے مطابق یہ بات انھیں بعد میں کسی دوست نے بتائی۔

manayma

BBC

نائمہ تینزن کے اہل خانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ انڈین فوج کی سپیشل فرنٹیئر فورس کا حصہ تھے۔ اس خفیہ یونٹ میں زیادہ تعداد تبت کے پناہ گزینوں کی ہے اور یونٹ میں 3500 کے قریب سپاہی ہیں۔

تینزن بھی ایک پناہ گزین تھے اور ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈین فوج میں 30 سال نوکری کی۔

اس سپیشل فورس کے بارے میں بہت ہی کم معلومات دستیاب ہیں اور انڈیا نے آج تک اس دستے کی موجودگی کا باقاعدہ طور پر اعتراف نہیں کیا۔

army

Getty Images

عسکری حکام، امور خارجہ کے ماہرین اور اس مقامی صحافیوں کے لیے یہ خفیہ یونٹ ایک کھلے راز کی مانند ہے تاہم انڈیا کی طرف سے نائمہ تینزین کی موت کے بعد پہلی بار اس یونٹ کی موجودگی کے بارے میں اعتراف کیا گیا۔

لداخ کے دارالحکومت لیہہ کے رہائشی اور اس علاقے میں بسنے والے تبتی نژاد افراد نے مل کر نائمہ تینزن کی آخری رسومات اور جنازے میں شرکت کی۔ یہ رسومات مکمل عسکری اعزاز کے ساتھ منعقد کی گئیں، جن میں 21 توپوں کی سلامی بھی شامل تھی۔

انڈیا کی حکمران جماعت بے جے پی کے ایک سینیئر رہنما رام مادھو نے بھی نائمہ تینزین کے جنازے میں شرکت کی اور ان کے تابوت پر گلدستہ رکھا جو انڈیا اور تبت کے جھنڈے میں لپٹا تھا اور ان کی میت کو ایک فوجی ٹرک میں رکھ کر ان کے گھر پہنچایا گیا۔

رام مادھو نے ایک ٹویٹ بھی کی جس میں انھوں نے نائمہ تینزین کو ایس ایف ایف کے سپاہی اور ایک ایسے تبتی کے باشندے کے طور پر متعارف کرایا جس نے لداخ میں انڈیا کی سرحد کے تحفظ کے لیے اپنی جان کی قربانی دے دی۔

اس ٹویٹ میں انھوں نے انڈیا، چین سرحد کے بجائے انڈیا اور تبت کی سرحد کا ذکر کر دیا تاہم بعد میں انھوں نے اپنی یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔

اگرچہ انڈین حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تاہم نائمہ تینزین کا جنازہ بڑے پیمانے پر میڈیا پر دکھایا گیا جو بظاہر بیجنگ کے لیے ایک واضح اور سخت پیغام تھا۔

نامداخ تینزین کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ یونٹ ایک راز ہی تھا لیکن اب اس کے بارے میں اعتراف کر لیا گیا ہے اور اس سے وہ بہت خوش ہیں۔

ان کے مطابق جو بھی قربانیاں دیتا ہے ،اس کا نام لے کر اعتراف کرنا چائیے اور اس کی مکمل حمایت کی جانی چائیے۔

’ہم 1971 میں بھی لڑے ہیں، جسے ایک راز رکھا گیا۔ پھر ہم نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا، وہ بھی ایک راز ہی رکھا گیا۔ لیکن اب پہلی بار یہ تسلیم کیا جا رہا ہے، اس پر مجھے بہت خوشی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس ایف ایف 1962 میں انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد وجود میں آئی تھی۔

India

Getty Images

تبت نژاد صحافی اور فلم ساز کالسنگ رنچن، جنھوں نے ایس ایف ایف کے بارے میں کئی انٹرویوز پر مشتمل ایک دستاویزی فلم بنائی ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کی فوج میں اس فورس کا مقصد تبت سے انڈیا آنے والے ان شہریوں کو اس میں شامل کرنا تھا جن کا گوریلا جنگ کا تجربہ تھا یا پھر وہ جو اُس گوریلا فوج کا حصہ رہے جس نے 1960 کی دہائی کے آغاز میں چین کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔

سنہ 1959 میں چین کے خلاف ایک ناکام شورش کے بعد چودھویں دالائی لامہ نے انڈیا آ کر جلا وطنی میں حکومت قائم کر لی تھی اور آج بھی وہ یہیں رہتے ہیں۔

تبت کے ہزاروں شہریوں نے ان کی دیکھا دیکھی انڈیا کا رخ کیا اور انڈیا میں پناہ کی درخواست دے دی۔

دالائی لامہ اور تبت سے آئے پناہ گزینوں کی انڈیا کی حمایت کی وجہ سے نئی دہلی بیجنگ کے درمیان تلخی بڑھی اور سنہ 1962 کی جنگ میں انڈیا کو جو حزیمت اٹھانا پڑی اس کے بعد اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

بی این ملک، جو اُس وقت انڈین انٹیلیجنس کے سربراہ تھے، کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ سی آئی اے سے مل کر ایس ایف ایف کا قیام عمل میں لائے۔ تاہم اس بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صرف انڈیا کا اپنا فیصلہ تھا، جسے امریکہ کی بھی مکمل حمایت حاصل رہی۔

تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ 12 ہزار تبت کے شہریوں کو امریکی سپیشل فورسز نے تربیت دی جس کے لیے امریکی حکومت نے کسی حد تک مالی امداد بھی فراہم کی۔

انڈیا میں مقیم تبت سے آنے والے جامپا 1962 میں اس فورس میں شامل ہوئے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں زیادہ تر تربیت امریکی اہلکاروں سے ملی۔

ان کے مطابق سی آئی اے میں ایک اہلکار تھے جو ٹوٹی پھوٹی ہندی بولتے تھے۔ انھوں نے چار ایسے لوگوں کو تربیت دی جو ہندی سمجھتے تھے۔ پھر ان چار لوگوں نے مزید لوگوں کو ٹرین کیا۔

ان کے مطابق شروع میں اس فورس میں صرف تبت کے شہریوں کو بھرتی کیا جاتا تھا مگر بعد میں دیگر افراد کو بھی بھرتی کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فورس براہ راست وفاقی کابینہ کو رپورٹ کرتی ہے اور اس کی سربراہی فوج کے ایک اعلی عہدیدار کرتے ہیں۔

رنچن کے مطابق اس فورس کا بنیادی مقصد چین کے خلاف خفیہ طور پر لڑنا اور اس کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہے۔

مزید پڑھیے

سنکیانگ کی طرح تبت میں بھی چین وسیع پیمانے پر لوگوں کو ’تربیتی‘ کیمپ میں ڈال رہا ہے

چین کا مارشل آرٹ ٹرینرز کو تبت بھیجنے کا فیصلہ، انڈیا بھی ’جواب دینے کے لیے تیار‘

کشمیر میں تبتی اور تبت میں کشمیری

تاہم چین نے ایس ایف ایف کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات سے انکار کیا ہے اور ترجمان ہوا چون ینگ نے اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ انڈیا کی فوج میں تبت کے باشندوں پر مشتمل کسی فورس کے بارے میں نہیں جانتے۔ انھوں نے سوال کرنے والے صحافی سے کہا کہ وہ یہ سوال انڈیا سے پوچھ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق چین کا موقف بہت واضح ہے: ’ہم کسی بھی ملک کی ایسی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں جو تبت کے علیحدگی پسندوں کو کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہو۔‘

بیجنگ ابھی بھی تبت کو ایک خود مختار علاقے کے طور پر چلا رہا ہے۔ جون سے چین اور انڈیا کے تعلقات اس وقت مزید بگڑ گئے جب سرحد پر جھڑپوں میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے۔

انڈیا کے مطابق ان جھڑپوں میں چین کے فوجی بھی ہلاک ہوئے تاہم بیجنگ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

lake

Getty Images

ان جھڑپوں کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر واضح تقسیم کا نہ ہونا ہے اور پہاڑی سلسلوں میں واقع یہ بنجر سرحد کئی میل طویل ہے۔

یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر میں شعبہ سوشل سائنسز کے سربراہ دبیش آنند کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کے لیے ایک عجیب صورتحال ہے۔ ان کے مطابق انڈیا نے چین کو یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف تبت کے شہریوں کو استعمال کریں گے تاہم انھوں نے سرکاری طور پر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

ایس ایف ایف کے سابق اہلکار جامپا کا کہنا ہے کہ ہم وہ سب کرتے ہیں جو انڈیا کی فوج کرتی ہے، لیکن ہمیں عام طور پر ان اعزازات سے نہیں نوازا جاتا جن کا ہمیں دکھ ہے۔‘

یہ کہنا مشکل ہے کہ اب انڈیا کی طرف سے ایس ایف ایف کی موجودگی کا اشارہ دونوں ممالک کے تعلقات پر کیسے اثر انداز ہو گا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انڈیا میں بسنے والے 90 ہزار سے زائد تبت کے شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ضرور ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی اپنے ملک واپس جانے کے لیے پرامید ہیں۔

لیکن اب انڈیا بھی ان کو اپنے گھر جیسا ہی لگتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16002 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp