ضلع خیبر میں افغانستان جانے والے سامان کی گاڑیوں پر حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے ضلع خیبر میں فرنٹیئر روڈ پر افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹرالروں پر حملہ ہوا ہے جس سے ٹرالر اور ان پر لدی ہوئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

یہ واقعہ جمعے کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق لگ بھگ تین بجے پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دو بڑے ٹرالروں پر دو دو فوجی گاڑیاں لادی گئی تھیں۔ یہ آرمرڈ گاڑیاں تھیں اور افغانستان کی جانب لے جائی جا رہی تھیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

گوادر اور شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 21 ہلاک

طالبان کمانڈر شہریار محسود دھماکے میں ہلاک

پشاور: خودکش حملے میں میجر سمیت دو اہلکار ہلاک

مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ باڑہ کے قریب فرنٹیئر روڈ پر اچانک موٹر سائیکلوں پر سوار درجن بھر مسلح افراد آئے اور انھوں نے ان ٹرالرز کو روک کر ڈرائیوروں اور عملے کے افراد کو اتار دیا اور اس کے بعد ان گاڑیوں پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس موقع پر مسلح افراد نے ان گاڑیوں پر فائرنگ کی جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ مسلح افراد اس کارروائی کے بعد موٹر سائکلوں پر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مقامی سطح پر ریسکیو ورکرز نے بتایا کہ انھیں جب اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ کو بجھانے کا کام شروع کر دیا تھا۔

ریسکیو 1122 کے اہلکارروں نے بتایا کہ ٹرالروں اور اس پر لادی گئی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی تھی جسے فوری کارروائی کرتے ہوئے بجھا دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق گاڑیاں افغانستان کی جانب جا رہی تھیں جب ان پر حملہ ہوا۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ٹرالر اور ان پر لادی گئی فوجی گاڑیاں نیٹو افواج کے لیے تھیں یا امریکہ اور افغان فورسز کے لیے لے جائی جا رہی تھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے راستے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سامان کی رسد کے لیے دو راستے ہیں جن میں ایک کراچی سے بلوچستان اور چمن کے راستے افغانستان اور دوسرا کراچی سے خیبر پختونخوا سے ہو کر طورخم کے راستے افغانستان جاتا ہے۔

افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے سامان رسد پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ان پر حملے ہو چکے ہیں لیکن یہاں ایک بات اہم ہے کہ یہ حملہ ایک طویل عرصے کے بعد ہوا ہے۔

قبائلی علاقوں میں متحرک کالعدم تنظیموں نے متعدد مرتبہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کنٹینرز، ٹرالرز اور ٹینکرز پر حملے کیے اور حملوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ پ

اکستان میں امریکی ڈرون حملے روکنے کے لیے بھی متعدد مرتبہ یہ کہا گیا کہ اگر یہ ڈرون حملے نہ رکے تو پاکستان کے راستے غیر ملی افواج کے لیے سامان رسد پر پابندی عائد کی جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی صوبے میں حکومت کے قیام کے بعد سال 2013 میں طور خم کے راستے نیٹو سپلائی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جب عمران خان نے پاکستان پر امریکی ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت کے قائم ہو نے سے پہلے بھی عمران خان نے پشاور میں نیٹو سپلائی کے راستے پر حیات آباد کے مقام پر دھرنا بھی دیا تھا۔

نیٹو کی گاڑیوں پر حملوں کا سلسلہ سال 2008 سے جاری ہے اور اُس سال کوئی چالیس سے زیادہ گاڑیوں پر حملے ہوئے تھے اور اس کے علاوہ خیبر ضلع میں جہاں نیٹو سپلائی کے کنٹینر، ٹینکرز اور ٹرالرز رکتے ہیں وہاں بھی حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا

اس بارے میں خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات کامران بنگش اور ضلع پولیس افسر سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

کامران بنگش کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ میٹنگ میں مصروف ہیں جبکہ ضلع پولیس افسر کا نمبر بند آ رہا تھا۔

ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس بارے میں ضلع پولیس افسر ہی کچھ بتا سکیں گے۔ تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس انسپکٹر کے موبائل فون نمبر بند تھے۔

پاکستان کے نیٹو کے تعلقات اس وقت کشیدگی اختیار کر گئے تھے جب سال 2011 میں پاک افغان سرحد کے قریب ضلع مہمند میں سلالہ کے مقام پر نیٹو نے پاکستان کے علاقے میں حملہ کیا تھا۔ 26 نومبر کو نیٹو کے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی حفاظتی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان نے اس حملے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس حملے کے بعد نیٹو سپلائی پر پاکستان سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ امریکہ کی جانب سے معافی مانگنے کے بعد سپلائی دوبارہ شتروع کر دی گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16538 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp