پانی بچائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرہء ارض سے پانی ختم ہو گیا، تو ایسا ہی ہو گا، جیسا آپ کے گھر میں پانی ختم ہونے پر ہونے پر ہوتا ہے۔ زندگی رک جاتی ہے۔ نہ پیاس بجھا کے لئے پانی میسر ہوتا ہے، نا ہی ہاتھ دھونے کے لئے اور وہ لمحات ایک عام شہری کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتے، اس کے با وجود پاکستان ان ممالک میں شامل ہے، جہاں پانی کی قلت تو ہے ہی مگر اس کا ضیاع بھی سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ پانی کی بچت اور اس کی ری سائیکلنگ پر نہ انفرادی سطح پر کوئی کوشش نظر آتی ہے، نا ہی حکومتی سطح پر اقدام نظر آتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں سالانہ نو لاکھ باسٹھ ہزار تین سو پینتیس ملین گیلن استعمال شدہ پانی ندی نالوں میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے، جس میں سے صرف ایک اعشاریہ دو فی صد پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمسایہ ممالک چین میں اکہتر فی صد اور بھارت میں بائیس فی صد استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے یہاں استعمال شدہ پانی کو ری سائیکل کرنے کا تصور نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے ہزاروں گیلن صاف پانی لوگ صرف فضلے کی صفائی پر ضائع کر دیتے ہیں۔

پانی کو بچانے کے لئے عوام میں شعور اور ذمہ داری کو بیدار کرنا وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ جب برتن دھوئیں، تو نل کھول کر بھول نہ جائیں بلکہ اگر ممکن ہو تو نل کے بجائے پرانے طریقے کار کو دوبارہ فعال کریں۔ یعنی دو پیالے لیں ایک میں گرم پانی لیں دوسرے میں ٹھنڈا پانی لیں، گرم پانی میں ہم چکنائی نکال دیں اور ٹھنڈے پانی سے نکال کر اس کو صاف کر لیں اور پھر یہی پانی ہم اپنے پھول پودوں کے لئے استعمال کر لیں۔ بظاہر یہ تھوڑا مشکل کام ہے، مگر چھوٹی سی اس کوشش سے ہزاروں گیلن پانی بچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پانی کے شاور کے بجائے بالٹی کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔ کپڑے دھونے کے بعد بچ جانے والے پانی سے گاڑیاں دھوئی جائیں۔

حکومت کا کام ہے کہ پانی آپ کے دروازے تک پہنچائے، اس کے بعد گھر میں پانی کی بچت کی ذمہ داری عام شہری پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے سب سے پہلے اگر گھر کا نل ٹپک رہا ہے، تو اس کو فوری ٹھیک کروائیں۔ کیوں کہ ایک رپورٹ کے مطابق، گھر میں پانی کا ایک لیک نل روزانہ سو گیلن تک پانی کے ضائع ہونے کا باعث بنتا ہے۔

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی سطح پر بھی پانی نہ صرف بچایا جاتا ہے، بلکہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کو صاف کر کے پورے پورے جنگل اگائے جاتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی قسم کے فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، جہاں پانی کی ری سائیکلنگ کے لئے کیمیکل، فزیکل طریقوں اور نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کامیابی سے کیا جا رہا ہے

یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو پانی کے مسائل کا سامنا ہے، جس کے تدارک کے لئے پانی کے استعمال میں احتیاط، نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور استعمال شدہ پانی سے دوبارہ استفادہ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ پانی کا ضیاع روکنے کے لئے حکومتی پالیسی اور قوانین بنائے اور ان پر عمل کروایا جائے۔ جو فیکٹریاں پانی ضائع کر رہی ہیں یا ری سائیکل کرنے کے لئے کچھ نہیں کر رہیں، ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں یا ان کا پانی بند کیا جائے۔ اس کے ساتھ حکومت ایسے اقدامات کرے، جس میں سے ان کی پالیسی نظر آئے۔ مطلب یہ کہ سرکاری دفاتر سے پانی کی بچت کا آغاز کیا جائے اور صرف ری سائیکل پلانٹ لگا کر ذمہ داری سے دست بردار نہ ہوا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں کو اپنا کام کرنا ہے، حکومت کو اپنا کام کرنا ہے، شہریوں نے اپنا کام کرنا ہے، جب تینوں چیز ایک ساتھ ہوں گی، تب پانی کی بچت ممکن ہو گی۔

Latest posts by نصرت زہرہ انصاری (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نصرت زہرہ انصاری کی دیگر تحریریں