رؤف حسن: فواد حسن فواد کے بھائی وزیر اعظم عمران خان کے اعزازی معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رکن رؤف حسن کو اعزازی حیثیت میں اپنا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جمعے کی شام کو ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

یاد رہے حال ہی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وفاقی کابینہ سے استعفی دیا تھا۔ انھوں نے سی پیک اتھارٹی کے تحت ملک میں چلنے والے منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کے عزم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا۔

عاصم سلیم باجوہ کے پاس وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے ساتھ ساتھ سی پیک اتھارٹی کے چیرمین کا عہدہ بھی ہے۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر رؤف حسن نے کہا کہ ان کی تعیناتی کا نوٹیفکشن ہو گیا ہے اور وہ آج وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بھی کر رہے ہیں۔ میڈیا سے متعلق ترجیحات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے چارج سنبھالنے کے بعد وہ اس معاملے پر بات کریں گے۔

رؤف حسن سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کے قریب تر سمجھے جانے والے بیوروکریٹ فواد حسن فواد کے بڑے بھائی ہیں۔ فواد حسن فواد کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت قومی احتساب بیورو (نیب) میں بہت سی انکوائریاں اور تحقیقات جاری ہیں جبکہ چند کیسز میں ان کے خلاف ریفرنس بھی فائل ہو چکے ہیں۔

فواد حسن فواد ان مقدمات کے تحت زیر حراست بھی رہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

میری حکومت این آر او نہیں دے گی: وزیر اعظم عمران خان

’عمران اپنی حکومت کے بڑے سکینڈل کا نوٹس لیں اور قوم کو جواب دیں‘

عاصم باجوہ: معاونِ خصوصی کا عہدہ چھوڑنے کی درخواست وزیراعظم نے منظور کر لی

تجزیہ نگار اور صحافی حامد میر کے مطابق رؤف حسن ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے عمران خان کے ساتھ ہیں اور پاکستان تحریک انصاف نے جو تھینک ٹینک بنایا تھا وہ اس کی سربراہ بھی رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ رؤف حسن پاکستان تحریک انصاف کے ان لوگوں میں سے ہیں جنھیں ’نظریاتی‘ کہا جاتا ہے اور وہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ’بہت سے موقع پرستوں کے‘ اس جماعت میں شامل ہونے کے مخالف تھے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ رؤف حسن جہانگیر ترین سمیت پیسے کے زور پر پارٹی کے معاملات پر اثر انداز ہونے والے رہنماؤں کے خلاف تھے۔ اُنھوں نے بتایا کہ رؤف حسن کا شمار نظریاتی گروپ کی قیادت کرنے والے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل پاکستان تحریک انصاف نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پارٹی کی تنظیم سازی کے موقع پر جو جلسہ کیا تھا اس میں پارٹی کارکنوں کی تعداد انتہائی مایوس کن تھی، جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے فیصلہ کیا کہ جماعت کے نظریاتی گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کو سامنے لایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے حکومت کے خلاف جو تحریک شروع کی گئی ہے تو ایسے حالات میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ایسے ورکرز کی ضرورت ہے جو ہر قسم کی حالات میں پارٹی کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16649 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp