جیو نیوز کے صحافی صحافی علی عمران سید لاپتہ ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے نجی نیوز چینل 'جیو' سے منسلک صحافی علی عمران سید گذشتہ روز کراچی میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے رات گئے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ہمارا رپورٹر علی عمران سید چھ گھنٹوں سے لاپتہ ہے۔

’ان کی اہلیہ کے مطابق علی پیدل قریبی بیکری پر گئے لیکن اب تک نہیں لوٹے۔ جیو اور ان کے خاندان نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے ہم ان کی جلد اور بحفاظت بازیابی کی امید کرتے ہیں۔

کراچی میں جیو نیوز کے بیورو چیف فہیم صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے واقعے کی درخواست وصول کی ہے ابھی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ علی عمران سید کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ’وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی سندھ سے بات کی ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ آپ کو پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔‘

علی عمران کی اہلیہ کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ’ گھر سے کہہ کر گئے تھے کہ میں آدھے گھنٹے میں آ رہا ہوں۔ اس کے بعد سے ابھی تک نہیں آئے۔ ان کا موبائل گھر پہ ہے گاڑی بھی گھر کے باہر کھڑی ہے۔’

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ کیا کہہ کر نکلے تھے آپ سے تو انھوں نے بتایا کہ علی نے مجھے کہا کہ میں ابھی آرہا ہوں بسکٹ لے کر۔

خاتون کہتی ہیں کہ بیکری سڑک کے کونے پر ہے وہاں سے جو رستہ ہے وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ کا نہیں ہے۔

علی عمران کو واپس لاؤ

علی عمران سید کی گمشدگی کی اطلاع ٹویٹر پر شیئر کی جا رہی ہے جب کہ اس وقت ان کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ ایک ہیش ٹیگ #BringBackAliImran بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

علی عمران وہی صحافی ہیں جنھوں نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو جاری کی تھی۔

زیادہ تر صارفین ان کی اہلیہ کی ویڈیو ری ٹویٹ کر رہے ہیں۔

صحافی نسیم زہرہ نے ان کی گمشدگی کی مذمت کی اور لکھا کہ کیا آپ انھیں اغوا کیے بغیر ان سے سوال نہیں کر سکتے تھے؟ کیا اغوا پہلے سے معلوم حقائق کو دوبارہ بنانے میں مدد دے گا۔‘

خیال رہے کہ نجی ہوٹل سے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر سندھ میں اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں جن کی رپورٹس آنا ابھی باقی ہے۔

صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ علی عمران نے فلسطین اور برما جا کر رپورٹنگ کی لیکن اسرائیلی فوج نے انھیں اغوا نہیں کیا اور برما سے بھی وہ بچ نکلے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے شہر میں رپورٹنگ کی سزا یہ ملی کہ پیشہ ور اغوا کاروں نے اغوا کر لیا۔‘

صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی نے ٹوئٹ کی کہ بہتر ہے پاکستان کا نام اغوانستان رکھ لیں۔ یاد رکہیے اناؤں کی تسکین کے لیے اغواؤں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس ملک کو خانہ جنگی سے کوئی نہی روک سکے گا۔

ان کی ٹویٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ایک اور سینئیر صحافی فہد حسین نے اس خبر پر حیرت اور صدمے کا اظہار کیا اور ان کی رہائی پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ صحافت جرم نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16691 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp