صحافی علی عمران سید لاپتہ:’مرشد ازالہ کیجیے، دعائیں نہ دیجیے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں رات گئے مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید لاپتہ ہوگئے اور سینچر کی سہ پہر تک ان کے حوالے سے مزید کوئی معلومات دستیاب نہیں ہو سکی ہیں کہ انھیں کون لے گیا کیوں لے گیا اور اب وہ کہاں ہیں۔

علی عمران سید وہی صحافی ہیں جنھوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی 19 اکتوبر کو کراچی کے آواری ہوٹل سے گرفتاری کی سی سی ٹی وی ویڈیو جاری کی تھی۔

صوبہ سندھ کے حکام نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے رات گئے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ہمارا رپورٹر علی عمران سید چھ گھنٹوں سے لاپتہ ہے۔

‘ان کی اہلیہ کے مطابق علی پیدل قریبی بیکری پر گئے لیکن اب تک نہیں لوٹے۔ جیو اور ان کے خاندان نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے ہم ان کی جلد اور بحفاظت بازیابی کی امید کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ایجنسیوں کا نام کیوں لیا؟ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی‘

مطیع اللہ کا واپسی کے بعد پہلا پیغام، سوشل میڈیا پر جبری گمشدگی پر بحث

’افسر کو سزا ہوئی تو بیٹے کی واپسی کا یقین تھا، پر ایسا نہ ہو سکا‘

پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی لوگ علی عمران کی واپسی کے حق میں مطالبے کر رہے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد صحافتی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے جو ہیش ٹیگ #journalismIsNotaCrime (صحافت جرم نہیں ہے) کا استعمال کرتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ علی عمران کو کس جرم میں لاپتہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اب تک قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے یا کسی گروہ نے علی عمران سید کی اپنی تحویل میں موجودگی ظاہر نہیں کی ہے جس کی وجہ سے اِس معاملے کو جبری گمشدگی کا معاملہ تصور کیا جا رہا ہے۔

جہاں لوگ اس معاملے پر آواز اٹھا رہے ہیں وہیں پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز اور وفاقی وزیر قانون شیریں مزاری نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

سینیٹر شبلی فراز نے ٹویٹ کی ان کی خلوص کے ساتھ یہ امید اور دعا ہے کہ علی عمران سید جلد اپنے خاندان اور دوستوں سے واپس مل سکیں۔

اسی طرح شیریں مزاری نے شبلی فراز کی ٹویٹ کو ریٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘جمہوریت میں کسی کو ‘لاپتہ’ نہیں ہونا چاہیے، ہمارے پاس مضبوط قوانین بشمول انسدادِ دہشتگردی کے قوانین ہیں جن کا مقصد کسی جرم کے ملزم سے نمٹنا ہے۔ گرفتار کرو اور فردِ جرم عائد کرو!’

مگر شبلی فراز اور شیریں مزاری دونوں کو ہی اپنی ٹویٹس پر آڑھے ہاتھوں لیا گیا اور کئی لوگ یہ سوال کرتے ہوئے دکھائی دیے کہ وفاقی حکومت میں ہوتے ہوئے وزرا اس معاملے پر بظاہر اتنی بے بس ٹویٹس کیوں کر رہے ہیں؟

صارف محمد حنیف نے لکھا کہ ‘ہاں، ہمارے پاس مضبوط قوانین ہیں مگر قانون شکن اُس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ کیا آپ ایک بھی ایسے قانون شکن کا نام لے سکتی ہیں جس کی جانب اتنی شہریوں کے اغوا کے بعد اشارہ بھی کیا جا چکا ہے۔’

شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کو بھی ٹیگ کیا تھا، جس پر ایک صارف حسن چیمہ نے لکھا کہ آپ نے جو کچھ کہا، صحیح کہا، مگر آپ نے غلط لوگوں کو ٹیگ کیا ہے۔ کیا آپ اس شہر میں نئی ہیں؟

ایک اور صارف عاصمہ قمر نے لکھا، ‘جی میڈم منسٹر، کسی کو بھی جمہوریت میں غائب نہیں ہوجانا چاہیے۔ کیا آپ کے پاس ان لوگوں کو ‘غائب’ ہونے کی اس نامعقول حرکت سے روکنے کے لیے کوئی حل ہے؟’

ایک صارف نے تو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک پرانی ویڈیو ہی ٹویٹ کر دی جس میں وہ صحافی حامد میر کے پروگرام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لوگوں کو گمشدہ کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ جب بھی تحریکِ انصاف کی حکومت آئی اور ‘ایجنسیز نے کسی انسان کو اٹھایا’ تو یا وہ انھیں ‘کٹہرے میں کھڑا کریں گے’ یا ‘خود استعفیٰ دینے کے لیے تیار’ ہوجائیں گے۔

وفاقی وزیر شبلی فراز کو بھی لوگوں نے ‘دعا’ اور ‘امید’ کے الفاظ استعمال کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نعمان ندیم نے شبلی فراز کے جواب میں ٹویٹ کی:

مرشد میں جل رہا ہوں، ہوائیں نہ دیجیے

مرشد ازالہ کیجیے، دعائیں نہ دیجیے

ایک صارف مسز وقار احمد نے لکھا، ‘سر آپ حکومت ہیں، لوگ دعائیں خود کر لیں گے، آپ وہ کریں جو حکومت کو کرنا چاہیے۔’

فواد خان نامی صارف نے لکھا کہ ‘بطور وزیر اس کیس میں آپ کی دعائیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔’

شاید اسی ردعمل کے جواب میں اپنی پہلی ٹوئٹ کے دو گھٹنے بعد وزیر اطلاعات نے ایک اور ٹوئٹ کی جس میں لکھا کہ صحافیوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور متعلقہ وفاقی اداروں کو سندھ حکومت سے تعاون کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16693 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp