کوئٹہ میں پی ڈی ایم کا حکومت مخالف جلسہ شروع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تیسرا جلسہ آج کوئٹہ میں منعقد ہو رہا ہے اور اس وقت اپوزیشن کے رہنماؤں کا خطاب شروع ہو چکا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں میں سے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنما جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ آج کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔

جلسے میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار حسین، مولانا عبدالغفور حیدری، پروفیسر ساجد میر اور دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔ جمعیت علما پاکستان کے سیکریٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا مقصد عوام کو حقِ حکمرانی دلوانا ہے۔ انھوں نے پاکستان میں جاری احتساب کے عمل کے بارے میں بات کرتے ہویے کہا کہ اگر احتساب کرنا ہو تو بانی پاکستان کی ایمبولینس میں پیٹرول ختم ہونے کے مبینہ واقعے سے شروع کیا جائے ورنہ احتساب کے تمام عمل کو وہ مسترد کرتے ہیں۔ شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ آنے والا سال الیکشن کا سال ہوگا۔

خیال رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو اس جلسے میں مدعو کیا گیا تھا تاہم حکام کی جانب سے انھیں ایم پی او کے تحت کوئٹہ داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

وہ گذشتہ روز کوئٹہ ائیر پورٹ پر پہنچے تھے جہاں سے انھیں پولیس اور ضلعی انتطامیہ نے ضلع ڈیرہ مراد جمالی کے گیسٹ ہاؤس منتقل کیا اور اب انھیں براستہ سکھر اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔

پی ڈی ایم کے جلسے میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور موبائل سروس بھی معطل ہے۔

اس سے پہلے اپوزیشن کا یہ 11 جماعتی اتحاد گجرانوالہ اور کراچی میں بھی جلسے منعقد کر چکی ہے۔

مریم نواز بھی گذشتہ روز کوئٹہ پہنچی تھیں۔ انھوں نے شہر میں کارکنان سے خطاب بھی کیا اور کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو بھی کی۔

پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے جب یہ اعلان کیا گیا کہ سات اکتوبر کو پہلا جلسہ عام کوئٹہ میں ہوگا تو بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان جماعتوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں اس لیے انھوں نے سب سے پہلے کوئٹہ کا انتخاب کیا۔

تاہم جب بعد میں پی ڈی ایم نے جلسوں کی شیڈول میں تبدیلی کی اور کوئٹہ کے جلسہ عام کو گوجرانوالہ اور کراچی کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا تو سکیورٹی خدشات کا جواز پیش کر کے بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی اور منسوخ کرنے کی درخواست کی۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ عام شیڈول کے مطابق کوئٹہ میں بھرپور انداز سے منعقد ہونے جارہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تھریٹ الرٹس کے نام سے حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں جلسہ عام کو ناکام بنانے کے لیے ایک پروپیگینڈا شروع کیا گیا ہے۔

حکام کی جانب سے اس سے قبل سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر جلسہ ملتوی کرنے کا کہا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16606 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp