فرانسیسی صدر کے اسلام سے متعلق بیانات: وزیر اعظم عمران خان کا میکخواں کے بیان پر ردعمل اور سوشل میڈیا پر بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں انتہا پسندوں کو موقع فراہم کرنے کے بجائے مرہم رکھ سکتے تھے، یہ بدقسمتی ہے کہ انھوں نے اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کا انتخاب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں پر فرانسیسی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سلسلہ وار ٹویٹس کی ہیں۔

اپنی ٹوئٹس میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میکخواں نے تشدد کی راہ اپنانے والے دہشت گردوں، چاہے وہ مسلمان ہوں، سفید فام نسل پرست، یا نازی نظریات کے حامی، اُن پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام پر حملہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ صدر میکخواں نے دانستہ طور پر مسلمانوں بشمول اپنے شہریوں کو اشتعال دلایا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ایک اچھے رہنما کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرتا ہے جیسا کہ [نیلسن] منڈیلا نے کیا۔

یہ بھی پڑھیے

اردوغان کا میکخواں کو ’دماغی علاج‘ کا مشورہ، فرانس نے ترکی سے سفیر واپس بلا لیا

فرانس: قتل ہونے والے ٹیچر سے متعلق ویڈیوز پر مسجد کو بند کرنے کا حکم

کیا ترکی سلطنت عثمانیہ کی تاریخ دہرانے کی کوشش کر رہا ہے؟

واضح رہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے رواں ہفتے کے اوائل میں پیغمبرِ اسلام کے متنازع کارٹون کے حوالے سے فرانس کے مؤقف کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ فرانس ’ان سے دستبردار نہیں ہو گا۔‘

انھوں نے یہ بیان فرانس میں ایک ٹیچر کے قتل کے بعد دیا تھا جنھیں مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکے کلاس میں دکھانے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

فرانسیسی صدر میکخواں نے اپنے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ اسلام پوری دنیا میں ‘بحران کا مذہب’ بن گیا ہے اور ان کی حکومت دسمبر میں مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے 1905 کے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی۔

عمران خان سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی فرانسیسی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں ایسے رہنما کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں سے ایسا برتاؤ کرتا ہے۔ وہ پہلے دماغی علاج کروائیں۔’

انھوں نے سوال کیا کہ ‘میکخواں نامی اس شخص کو اسلام اور مسلمانوں سے مسئلہ کیا ہے؟’ صدر اردوغان کے اس بیان کے بعد فرانس نے ترکی سے اپنا سفیر واپس بُلوا لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ٹویٹس کے بعد اتوار کے روز شیم آن یو میکخواں اور بائیکاٹ فرانس کے ہیش ٹیگز کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث جاری رہی۔

ایک ٹوئٹر صارف حسنین رضا نے لکھا کہ صدر اردوغان ایک مرتبہ پھر آگے بڑھ کر امتِ مسلمہ کی قیادت کر رہے ہیں اور معمول کے مطابق عرب ممالک اس حساس مسئلے پر خاموش ہیں۔

ایک اور مسرور بدوی نامی ٹوئٹر صارف نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’محترم وزیر اعظم فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کا وقت ہے، کم از کم اس وقت تک جب تک فرانس ایک دنیا کے ایک عرب سے زیادہ مسلمانوں سے معافی نہیں مانگتا۔‘

سوشل میڈیا صارف ہاشم رضا غدیری نے سوال کیا کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ پر ’سعودی عرب، امارات، ایران اور مصر کے سربراہوں کی جانب سے کیا بیان اور ردِعمل سامنے آیا ہے؟‘

ٹوئٹر پر ردعمل دینے والوں میں عام صارفین کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، اس ضمن میں پاکستان کی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے کراچی کے امیر نعیم الرحمان نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں صدر میخکواں کے اس قابل شرم اقدام کی پرزور مذمت کرتا ہوں جنھوں نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس پر صدر اروغان کی طرح کے اقدامات اٹھانے چاہیں۔‘

سن فلاور نامی ایک اور ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’فرانسیسی نظام عدل میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک واضح ہے۔ فرانس میں امتیازی قوانین اسلامی عقائد اور طریقوں کو معاشرے میں ایک مثبت شراکت کے طور پر تنوع کو قابل بنانے کی طاقت کے طور پر غور کرنے میں ملک کی نا اہلیت کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

جہاں سوشل میڈیا صارفین فرانسیسی صدر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں بہت سے صارفین فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں بھی ٹوئٹس کرتے نظر آئے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور فرانس کے مابین کاروباری اتحاد کی ایک تنظیم (پی ایف بی اے) کے مطابق پاکستان نے فرانس سے سال 2019 کے دوران 419.96 ملین امریکی ڈالر کی اشیا درآمد کی تھیں۔ ان میں ادویات، مشینری، کیمیکل، ڈیری، ہوابازی کا سامان، الیکٹرانکس، پلاسٹک اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق سنہ 2019 میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت 1.3 ارب یورو رہی۔ پاکستان نے 914 ملین یورو مالیت کی اشیا فرانس برآمد کیں جبکہ تقریباً 400 ملین یورو کی اشیاد فرانس سے درآمد کیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16630 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp