کام سے اکتاہت یا بدلی یعنی ’برن آؤٹ‘ سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

burn out
BBC
کریگ فوسٹر ایک ایسے شخص کی مثال ہیں جو برن آؤٹ کا شکار ہیں۔ سنہ 2010 میں ان پر کام کا بہت بوجھ تھا، نیند پوری نہیں ہو پا رہی تھی اور وہ اپنے کام کے جذبے کو کھو چکے تھے۔ ایسا فلم بنانے کے پیشے میں جس سے وہ منسلک ہیں اکثر ہوتا ہے۔ انھیں واقعی ایک تبدیلی کی ضرورت تھی۔

اس لیے فوسٹر بچپن کے کھیل کے میدان کی جانب بڑھ گئے۔ یہ جنوبی افریقہ کے تندو تیز پانیوں ’کیپ آف سٹرومز‘ کہلانے والا علاقہ ہے۔ اوپر تو لہریں اور موجیں ملیں لیکن نیچے فوسٹر کو انوکھے مسکن دکھائی دیے۔

وہ ان مناظر کو نیٹ فلیکس فلم ’مائے آکٹپس ٹیچر‘ سے موازنہ کر رہے تھے۔ وہ سال بھر ان پانیوں میں تیرتے رہے۔ انھوں نے ایکو سسٹم کے بارے میں سمجھا اور اپنے غیر معمولی دوست آکٹپس کے ساتھ ایک تعلق بنایا۔ آکٹپس جس نے انھیں اپنی دنیا میں شامل کیا۔

اب نہ صرف فوسٹر کو زندگی کا نیا مطلب سمجھ آیا بلکہ انھوں نے سمندر کی تہہ میں پوشیدہ قدرتی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بنائی۔ ان کی ’آکٹپس لو سٹوری‘ کو بہت کامیابی ملی۔

اسے انتے زیادہ ایوراڈ مل چکے ہیں کہ اس کے مرکزی کردار کے لیے اسے اپنے بہت سے ہاتھوں میں تھام لینا بھی ممکن نہیں۔

ہم فوسٹر کے تجربات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ کام سے اکتاہٹ حتم کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ اس میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے اور کیا ہمیشہ بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے؟

ایجنسی کی اہمیت

دس سے بھی کم برس پہلے تک برن آؤٹ یا کام سے اکتاہٹ یا بدلی کو ایک دائمی دباؤ کی قسم سمجھا جاتا تھا جس کے نتیجے میں لوگ جسمانی یا جذباتی طور پر تھک جاتے ہیں/ختم ہو جاتے ہیں یہ ایک غیر واضح نفسیاتی تصور تھا جو خبروں سے زیادہ اکڈیمک پیپرز میں ملتا تھا۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ تجربات بہت عام ہوتے جا رہے ہیں اور عالمی ادارہ صحت نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں عالمی ادارۂ صحت نے اعلان کیا ہے کہ اس مسئلہ کو بیماریوں کی فہرست کے عالمی ہدایت نامے میں بیماری کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے اس کی تعریف ایک ایسی کیفیت کے طور پر کی ہے جو کام کی دائمی یا طویل عرصے تک زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا ابھی تک کوئی کامیاب حل نہیں ڈھونڈا جا سکا۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ’برن آؤٹ‘ کے تین عنصر ہوتے ہیں جن میں نقاہت یا تھکان، کام سے بیزاری اور ناقص کارکردگی شامل ہیں۔

اب ہمیں پولیٹیکل برن آؤٹ، فٹنس برن آؤٹ، زوم برن آؤٹ، تعلقات میں برن آؤٹ، بطور والدین برن آؤٹ، تخلیقی برن آؤٹ اور حتیٰ کہ ویڈیو گیم برن آؤٹ کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی اشارے مل رہے ہی کہ شاید گھر سے کام کرنا اسے مزید خراب کر رہا ہے۔

نوکری کی تلاش سے متعلق ایک ویب سائٹ کے سروے کے مطابق جولائی میں 69 فیصد کام کرنے والے افراد میں برن آؤٹ کی علامات دیکھی گئیں جب وہ وبا کے دوران گھر سے کام کر رہے تھے اور اس سے دو ماہ قبل ہی یہ تناسب 35 فیصد تھا۔

بہت سی کہانیاں فوسٹر جیسی ہیں۔ جس میں کسی شخص کی زندگی کو مکمل طور پر نئے طریقے سے تبدیل کر دیا۔ نوکری چھوڑنے کی صورت میں، ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی، تعلقات ختم کرنا یا پھر اپنے لیے ایک نئے جذبے کی تلاش۔

لیکن سٹیلا سالمینن جو کہ فن لینڈ کی ایک یونیورسٹی یوویسکولا میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی طالبہ ہیں برن آؤٹ سے متعلق بہت سی تحقیقات کے بارے میں ساتھی مصنفہ کے طور پر کام کیا ہے۔

زندگی میں ڈرامائی تبدیلی شاید کچھ لوگوں کے لیے کارآمد ہو لیکن ان کی اپنی تحقیق میں سالمینن نے یہ نتیجہ اخد کیا کہ ایک عنصر جو ان لوگوں کو جوڑتا ہے جو برن آؤٹ سے نکل جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ایک کنٹرول میں ہیں۔

سنہ 2015 میں ہونے والی ایک چھوٹی سی تحقیق میں انھوں نے برن آؤٹ کے شکار 12 افراد کا انٹرویو لیا جو کہ اب بحالی کا کورس کر رہے تھے۔

ان افراد میں برن آؤٹ کی شدت کو کورس کے دوران جانچا گیا اور پھر سات ماہ کے بعد ان کے سکور کے ساتھ اس کا موازنہ کیا گیا جو انھوں نے کہا تھا تاکہ اندازہ لگایا جائے۔

اس تجزیے سے پتہ چلا کہ جو لوگ اس صورتحال سے کامیابی سے نکل آئے ان پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ اپنی فلاح و بہبود کے ذمہ دار خود ہیں۔

سالمینن اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر لوگ اس پر یقین رکھیں کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تو وہ ضروری اقدامات کرتے ہیں تاکہ وہ ان عناصر کو ختم کر سکیں جن کا انھیں ابتدائی طور پر سامنا کرنا پڑا۔

اس میں شاید یہ بھی شامل ہو کہ وہ اپنے سونے کی عادات کو درست کریں جو کہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے، یا پھر وہ لوگ کام اور فراغت کے اوقات کے درمیان واضح لکیر کھینچ لیں۔ اب اس میں گھر سے کام کرنے میں ایک یہ مسئلہ بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اب کچھ لوگ جن میں اس حوالے سے آگاہی ہوتی ہے وہ کام کی جگہ پر ایسے اقدامات کرتے ہیں اپنے خاندان میں تبدیلیاں لانا، وہ اپنا خیال رکھتے ہیں اور وہ اپنی حدود سے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اسے پانے کے لیے برن آوٹ بحالی پروگرام سے گزرنا پڑتا ہے جو تھوڑا سال خوفناک بھی لگتا ہے۔ یہ مختلف طرح سے ہو سکتا ہے جیسا کہ پرتعیش ماحول میں وقت گزارنا اور بنیادی آن لائن کورسز۔ لیکن اس میں وسیع پیمانے پر کسی قسم کی استدلالی تھراپی بھی شامل ہوتی ہے جس کی مدد سے لوگ اپنے تجربات کو مزید نتیجہ خیز انداز میں بدل سکتے ہیں۔

زندگی پر کنٹرول کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کوئی تخلیقی مشغلہ اپنائیں یا زیادہ سے زیادہ کثرت کریں۔

پینٹنگ انسٹرکٹر مرحوم باب روس اکثر اس بات پر زور دیتے تھے اگر آپ کو یہ پسند نہیں تو اسے بدل دیں یہ آپ کی دنیا ہے۔

ایک عنصر کام کا کلچر

اگرچہ اپنا خیال رکھنا اور دماغ کو تبدیل کرنا بہت اہم ہے۔ یہاں ایک اور رائے ابھر رہی ہے کہ کام کرنے والوں پر زور دینا مدد نہیں دیتا اور یہ غلط راہ پر بھی لے جا سکتا ہے ایسی صورت میں جب اصل ذمہ دار کام کرنے والی جگہ خود ہو اور اس کی غیر ضروری ڈیمانڈز ہوں۔

سلمینن کہتی ہیں کہ اگر ہم برن آؤٹ سے نکلنا چاہتے یں تو ہمیں انفرادی طور پر کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور دماغی طور کچھ کام کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہوتا کیونکہ برن آؤٹ سے کسی ایک شخص کےمسئلے کے طور پر نہیں نمٹنا چاہیے۔

یہ ایک پیشہ ورانہ نقص ہے۔

سلمینن وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب تک کسی شخص کے کام کرنے کے ماحول مثال کے طور پر ان لوگوں کو مزید سہولیات نہ دی جائیں جن پر کام کا بوجھ ہو یا ان کا کام کا لوڈ کم نہ کیا جائے یہ بے وقوفی ہو گی ہوتا کہ آپ یہ توقع کریں کہ وہ اس دائمی سٹریس سے واپس لوٹ آئیں گے۔

حال میں ہونے والی مزید تحقیقات میں سلمینن نے چار افراد کو فالو کیا جھنوں نے ڈیڑھ برس پہلے ان کی تحقیق میں حصہ لیا تھا۔ اس میں انھوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنھوں نے اپنی بحالی کو برقرار رکھا۔

سلمینن کہتی ہیں تحقیق میں شامل ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اس طریقے پر چل سکتی تھیں مگر انھوں نے کچھ حقیقی رکاوٹوں کو عبور کیا جو ان کی بحالی کے عمل میں حائل تھیں۔

وہ خاتون ایک پرائمری سکول میں استاد ہیں اور ان کی عمر 57 برس ہے۔ انھیں بھی برن آؤٹ کا سامنا ہوا وجہ کام میں مسلسل تبدیلی آنا تھا جس کی وجہ سے وہ کنفیوژن کا شکار ہو رہی تھیں چیزوں کے متعلق جیسا کہ یہ کہ ان کا کیا کردار ہے۔

بہت لحاظ سے سارہ برن آؤٹ کا شکار ہوئیں انھوں نے بہت سے درست اقدامات کیے۔ انھوں نے اپنے مینیجر سے بات کی اور انھیں وضاحت کی کہ وہ کیا تبدیلیاں چاہتی ہیں۔ جب یہ نہ ہو سکا تو انھوں نے نوکری بدل لی۔ لیکن یہ بھی کام نہیں آیا۔ انھیں پھر ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کوششوں کے باوجود تقریباً دو برس بعد انھیں پہلے برن آؤٹ سے گزرنا پڑا اور ابھی تک وہ اس سے نہیں نکل پائیں۔

سلمینن کہتی ہیں کچھ کام کی جگہوں پر اور منتظمین کی جانب سے بحالی اور ٹھیک کرنے کا کلچر ہی نہیں ہے۔

’وہ شاید تبدیلی کے خواہش کی کمی ہوتی ہے یا ان میں ان میں ایسا کرنے کی اہلیت کی کمی ہوتی ہے۔‘

کچھ کیسز میں یہ مسائل شاید تمام صنعتوں میں پھیلے ہویے ہوتے ہیں۔

بران آؤٹ کا جائزہ لینے کے لیے مجموعی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں بڑے پیمانے پر شواہد بھی موجود ہیں جن میں دیکھا گیا ہے کہ مداخلت مکمل طور پر انفرادی طور پر مرتکز ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جو لوگ ذہنی تربیت میں شامل تھے ان میں منظم طور پر علامات ختم نہیں ہوئیں۔

اسی طرح برن آؤٹ کی وجہ سے طویل مدت تک بیماری کی چھٹی پر جانے والوں پر ہونے والوں سے متعلق تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ جن کا کام پر کم کنٹرول تھا کا کام پر بحالی کے ساتھ لوٹنے کا امکان کم تھا۔

گھر میں صحت

اس کے علاوہ ایک اور اہم عنصر جو برن آوٹ سے نکلنے کا ہے وہ صحت مند ذاتی زندگی بھی ہے۔

سلمینن کہتی ہیں کہ کام پر توجہ کے علاوہ یہ شاید تیسرا عنصر ہے ۔

’خاندان کے ساتھ تعلقات، کسی شخص کی صحت، یہ اس شخص پر اثر انداز ہوتا ہے جس نے برن آؤٹ کا سامنا کیا ہو اور اب بحالی کے عمل سے گزر رہا ہو۔‘

مثال کے طور پر ایک تحقیق میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ طلاق کام میں برن آؤٹ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

اس تحقیق میں 1856 ڈینش شہریوں کو شامل کیا گیا تھا۔ جس سے یہ پتہ چلا تھا کہ طلاق یافتہ افراد کے ساتھ پارٹنر نہ ہونے کی وجہ سے برن آؤٹ کا شکار ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔

خاتون کے لیے کم آمدن اور مرد جو ماضی میں طلاق سے گزرے ہوں۔

سلمینن کہتی ہیں کہ مدد کی تلاش بحالی کی جانب پہلا قدم ہوتی ہے۔ یہ مختلف جگہوں سے مل سکتی ہے۔ پیشہ ورانہ ہیلتھ کیئر مثال کے طور پر فزیشن یا سائیکالوجسٹ کی مدد، خاندان کی مدد ہو سکتی ہے یا کولیگ کی مدد ہو سکتی ہے۔

اپنے تجربات کی توثیق میں یہ لوگ آپ کی تحریک میں اضافہ کر سکتے ہیں اور یہ کہ آپ خود کو کیسے دیکھتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ آگے آپ کی بحالی کے سفر میں آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ ایک اچھی چیز ہو سکتی ہے۔

اس سب میں ناکامی کی صورت میں آپ شاید قریب ترین سمندر کی تہہ میں موجود جنگل کا رخ کرنے کی کوشش کریں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21144 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp