لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات: مریم نے وعدے تو کیے لیکن کیا وفا کر پائیں گی؟

حمیرا کنول - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’مجھے پتہ ہے کہ یہاں سے نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ کبھی کبھی ان کی مسخ شدہ لاشیں مل جاتی ہیں۔ اور اکثر وہ ہمیشہ کے لیے لاپتہ اور غائب ہو جاتے ہیں۔ خدا کا خوف کرو تمھارے بھی بچے ہیں، ذرا اپنے اوپر اس چیز کو طاری کر کے سوچو کہ کیا گزرتی ہے۔‘

یہ اقتباس بلوچی لباس پہنے کوئٹہ کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں سے ایک سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے تقریباً 22 منٹ کے خطاب سے لیا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں مریم نے وہیں سٹیج پر موجود 24 سالہ پولیو ورکر حسیبہ قمبرانی کی جانب بھی اشارہ کیا جن کے چار بھائیوں میں سے دو کی لاپتہ ہونے کے بعد مسخ لاشیں ملیں اور دو اب بھی لاپتہ ہیں۔

مریم نواز نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’سوچو، اللہ تعالی کے قہر کو آواز نہ دو ان کی بدعا اور آسمان میں کوئی حجاب نہیں ہے۔ خدا کا واسطہ ہے، اللہ کا واسطہ ہے، ہوش کے ناخن لو، اپنے ہی لوگوں سے سوتیلے لوگوں جیسا سلوک نہ کرو۔’

ایوب سٹیڈیم میں موجود نواب نوروز فٹ بال گراؤنڈ میں ہزاروں کے مجمعے میں لاپتہ افراد کے لواحقین میں فقط یہی ایک لڑکی حسیبہ قمبرانی ہی گراؤنڈ کے اندر موجود تھی، باقی خاندانوں کو گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈز کی جانب سے اندر نہیں آنے دیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’افسر کو سزا ہوئی تو بیٹے کی واپسی کا یقین تھا، پر ایسا نہ ہو سکا‘

’ریاست یہ کہے کہ ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے‘

’جبری گمشدگی کا الزام بے بنیاد نہیں، شبیر کو میرے سامنے اٹھایا گیا‘

کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ: ’بیٹے کی واپسی چاہتے ہو تو بیٹی سے کہو مظاہروں سے دور رہے‘

جون 2009 میں لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی بلوچ بھی گیٹ کے اس پار مریم کی تقریر کا کچھ حصہ سن پائیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مریم کی تقریر سن پا رہے تھے لیکن مکمل طور پر نہیں سن پائے۔ ہم نے ایک مہینہ پہلے سے پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو پیغام بھجوایا تھا کہ آپ ہمیں نہ بھولیں، کوئٹہ میں لاپتہ افراد کا کیمپ لگا ہوا ہے۔ جو آپ لاپتہ افراد پر بات کرتے ہیں پہلے آپ کو ان خاندانوں سے ملنا چاہیے ان سے بات کرنی چاہیے۔‘

وہ کہتی ہیں ’صبح گزر گئی جلسہ شروع ہو گیا شام کے چار بجے تک ہم نے ان کا انتظار کیا جب ہمیں لگا کہ یہ نہیں آنے والے تو مجبوراً ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم وہاں جلسے میں جائیں گے ان سے ملنے کے لیے۔ ہم نے اپنے ہاتھ میں موجود پلے کارڈز اور تصویریں لباس اور چادروں میں چھپائی ہوئی تھیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ وہاں گئے تو سکیورٹی والے انھیں اندر نہیں جانے دے رہے تھے۔

’ہماری بہت بات چیت ہوئی لیکن انھوں نے ہماری تذلیل کی۔ ہم چیخے چلائے، درخواست کی، لیکن نہیں سنا گیا۔ دو گھنٹے تک ہم وہیں کھڑے رہے۔ بی این پی کی ایک رہنما آئیں اور انھوں نے ہماری بات آگے پہنچائی تو پھر حسیبہ قمبرانی کو اندر جانے کی اجازت ملی اور مریم نواز کے خطاب کے بعد مریم نواز نے ان خواتین اور بچوں سے ملاقات کی، ان کے لائے ہوئے پلے کارڈ اٹھا کر بچوں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔‘

سمّی کہتی ہیں کہ بوڑھی مائیں مریم کے سامنے روئیں، انھوں نے اپنی فریاد کی اور کہا کہ ہم آخری آس لے کر آپ کے سامنے آئے ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین چاہتے تھے کہ حسیبہ قمبرانی کو مائیک پر بات کرنے کا موقع ملے۔ یہ تو نہ ہو سکا تاہم انھیں کہا گیا کہ وہ سٹیج پر ہی موجود رہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں حسیبہ قمبرانی کہتی ہیں کہ جب ہم پہلے نمائندوں سے بات کرتے تھے تو وہ صرف تسلی دیتے تھے بات نہیں کرتے تھے، جب مریم سے بات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ انھوں نے میرے درد کو محسوس کیا، ایک خاتون ہونے کے ناطے کہ ایک عورت کے مسائل کیا ہوتے ہیں جن رشتوں سے وہ وابستہ ہیں وہ نہ ہوں تو کیا محرومیاں ہوتی ہیں۔

’میں نے ان سے کہا کہ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔پاکستان میں یہ کب سے اپنوں کو ڈھونڈنا جرم ہو گیا؟‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے حکومتی اور ریاستی سطح پر سب سے بات کی لیکن کسی نے حوصلہ افزائی کی نہ داد رسی کی۔ نہ کسی نے یہ بتایا کہ ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں لیکن جب میں نے ان سے بات کی تو انھوں نے نہ صرف سب عوام کے سامنے اس کا اعتراف کیا بلکہ انھوں نے مدد کرنے کا بھی کہا اور یہ کہا کہ اس کا مکمل حل نکالا جائے گا۔‘

حسیبہ اس بار پر امید ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بلوچستان میں 10 سے زیادہ اسمبلی میں منتخب خواتین اور یہاں دیگر اداروں میں موجود ہیں جب ہم ان سے بات کرنے گئے تو انھوں نے کہا کہ ہم نہیں کر سکتے، ہمارا اختیار نہیں ہے۔ لیکن مریم نے کہا کہ میں حکومت میں آؤں یا نہ آؤں میں اس حوالے سے ضرور کام کروں گی۔‘

مریم نواز نے 20 سال سے چلے آ رہے اس اہم مسئلے پر آخر اب ہی اتنا کھل کر بات کیوں کی، کیا یہ ایک سیاسی کارڈ ہے؟

حسیبہ کہتی ہیں کہ ہم نے مریم نواز سے کہا کہ آپ تو دو لفظ بول کر اپنے گھر چلے جاتے ہیں لیکن آپ ہمیں دیکھیں ہم کس حال میں در بدر کی زندگی گزار رہے ہیں کبھی ہڑتالی کیمپ میں، کبھی عدالتوں میں، کبھی حکومتی عہدے داروں سے ملنے میں۔

’ابھی آپ کو اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا ہر حال میں۔ اس طرح کے بہت سارے وعدے آئے ہمارے سامنے آئے، بہت سارے لوگوں نے باتیں کیں۔ بہت ساری حکومتیں آئیں، ہر کسی نے اپنی حکومت کے لیے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے پر بات کی لیکن جب وہ حکومت میں آئے تو وہ اس کو بھول گئے۔‘

حسیبہ اور ان سمیت تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کے خلاف مقدمہ چلائیں، یا انھیں پھانسی دیں لیکن قانونی طریقہ اختیار کریں اور انھیں منظر عام پر لائیں۔

لواحقین کہتے ہیں کہ مریم نواز نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ پی ڈی ایم جو بھی کرے گی اس میں لاپتہ افراد کا مسئلہ سب سے اوپر ہو گا۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ میں پریس کلب کے بالکل ساتھ ہے۔ گذشتہ 13 سال سے صحافت سے وابستہ نجی ٹی وی چینل سے منسلک خاتون صحافی کہتی ہیں کہ کوئی دن نہیں دیکھا کہ یہاں کوئی نہ بیٹھا ہو۔ ’ہم روز ہی وہاں سے گزرتے ہیں لیکن ہم اس پر رپورٹنگ نہیں کر سکتے اور وجہ آپ بخوبی جانتی ہیں، اس پر یہ متاثرین ہم سے گلہ بھی کرتے ہیں۔‘

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مریم نواز اب کی بار جب آئیں تو وہ بہت پراعتماد لگیں۔ انھوں نے اس بار زیادہ سختی سے لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کی ایک دم سے ماحول کو پلٹا۔ دیکھا جائے تو انھوں نے ایک سیاسی پتہ کھیلا۔ عمران خان بھی جب یہاں آئے تھے الیکشن مہم میں تو انھوں نے یہ بات کی تو پہلی بار کسی سیاست دان نے ایسا نہیں کیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ مریم نے اپنے لباس اور گفتگو سے لوگوں کے درمیان موجود فاصلے کو بانٹنے کی کوشش کی ہے جو ہر لیڈر نے کی لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ جب لوگوں کو سہولیات نہیں ملیں گی تو لوگ منحرف تو ہوں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہاں اسمبلی کی خواتین تو عام موضوعات پر بات نہیں کرتیں، یہ تو ایک بہت بڑا ایشو ہے جس پر بات کرنے کے لیے ہمت کی ضرورت ہے۔

ڈیفینس آف ہیومن رائٹس پاکستان کی سربراہ آمنہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی عدالتیں جبری گمشدگیوں کے عمل کو انسانیت کے خلاف جرم تسلیم کر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’عملی طور پر کچھ نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا تو سب کی غلطی ہے اس میں۔‘

مریم نواز نے جلسے کے بعد ٹوئٹر پر جلسے کی تصاویر اور لاپتہ افراد کے بچوں کے ساتھ بنوائی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔

تاہم رات گئے ان کی جانب سے ایک ٹوئٹ بھی کی گئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے اردگرد موجود قریبی لوگوں کو نامعلوم نمبروں سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ تم سب کو بڑے کریک ڈاؤن کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

انھوں نے مزید لکھا پاکستان کے لوگوں اس نوٹ کر لو یہاں ریکارڈ کے لیے ڈال رہی ہوں۔

لیکن عملی طور پر ان وعدوں کو پورا کرنے میں اصل رکاوٹ کہاں آتی ہے اور پھر یہ بھی کہ بحیثیت ایک خاتون رہنما اس مؤقف اور جبری گمشدگیوں کو بند کرنے کے مطالبے پر ڈٹے رہنا ان کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہو گا؟

انسانی حقوق پر کام کرنے والی وکیل حنا جیلانی کہتی ہیں کہ انھوں نے مریم نواز کی تقریر سنی ہے لیکن وہ اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتیں۔ تاہم انھوں نے ملک میں لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ اس میں سویلین حکومتوں کا کوئی کام نہیں ہے اس میں ملٹری انٹیلیجنس اس میں براہ راست ملوث ہوتی ہے اور اس کے اشارے ہمیں انفرادی کیسز سے اتنے مل چکے ہیں کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔

سیاست دانوں اور منتخب عوامی نمائندوں کا حوالہ دیتے ہوئے حنا جیلانی نے کہا کہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے یہ، ہم نے دیکھ لیا ہے اگر یہ اختیار لینا چاہتے ہیں اور اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں تو ان کی ذمہ داری ہو گی کہ جبری طور پر گمشدگیوں کے مرتکب لوگوں کا احتساب کریں۔

’اگر یہ لوگ اس بات پر پرعزم ہیں کہ یہ اس ملک کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیں گے، اور ریاست کی جو لوگوں کو تحفظ دینے کی آئینی ذمہ داری ہے وہ ملک کے وزیراعظم کی ہے تو انھیں یہ چیلنج قبول کرنا ہوگا۔ فوج کو یہ انسانی حقوق کی ذمہ داری آئین نے نہیں دی۔ اگر انھوں نے سب انھیں کے ہاتھوں میں دیا جو سکیورٹی اور ملکی سالمیت کے نام کا غلط استعمال کر کے شہریوں کے حقوق کو سلب کرتے ہیں تو پھر یہ پہلے والوں کی طرح کچھ نہیں کر سکیں گے۔‘

ملک کی وفاقی وزیر برائے قانون شیریں مزاری نے مریم نواز کی اس تقریر کے بعد آج صبح ٹوئٹ میں کہا کہ مریم نواز پر اچانک جبری گمشدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) یا پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بات نہیں کی۔

ڈیفینس آف ہیومن رائٹس پاکستان کی سربراہ آمنہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ انھیں امید نہیں تھی کہ وہ اس معاملے پر اس انداز میں بھی بات کریں گی، انھوں نے بہت مضبوط پیغام دیا ہے۔

’اب جبکہ انھوں نے اتنا بڑا چیلنج لے لیا ہے تو انھیں اس سے انصاف کرنا ہوگا، چاہے ان پر جتنا بھی دباؤ بڑھے۔ انھیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پی ڈی ایم کے لیڈروں کو مختلف ذرائع سے پیغام بھجوایا ہے کہ صرف بلوچستان سے نہیں بلکہ پورے ملک سے جو لاپتہ افراد ہیں، اس معاملے پر بات کریں۔

انھوں نے کہا کہ وہ جلد ہی ایک کانفرنس کر رہے ہیں جس میں انھیں مدعو کیا گیا ہے۔

آمنہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ ’خالی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے، حکومتی سطح پر بھی اور پی ڈی ایم کی سطح پر بھی۔

’یہ موقع ہے حکومت کے لیے کہ اس نے دو سال پہلے جو قانون بنایا تھا جو اس وقت وزارت قانون میں اٹکا ہوا ہے جس میں جبری گمشدگیوں کو الگ، قابلِ سزا جرم کے طور پر دیکھا گیا ہے، اس کو منظور کروایا جائے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16587 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp