چاند کے روشن حصے پر پہلی بار پانی کے مالیکول دریافت، ناسا کا اعلان

وکٹوریہ گل - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی دن پہلے ہی 'چاند سے متعلق ایک حیران کُن نئی دریافت' کے بارے میں اشارہ دینے کے بعد امریکی خلائی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اسے چاند پر پانی کی موجودگی کے فیصلہ کُن ثبوت مل چکے ہیں۔

‘مالیکیولر پانی کی غیرمبہم دریافت’ سے چاند پر خلائی اڈہ بنانے کی ناسا کی امیدوں کو فروغ ملے گا۔

مقصد یہ ہے کہ چاند کے قدرتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اس بیس کو قائم رکھا جا سکے۔

تحقیق کے نتائج دو مختلف ریسرچ پیپرز کی صورت میں جریدے ’نیچر ایسٹرونامی‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چاند پر ملکیت کا حق کس کا؟

کیا 2024 تک چاند آباد ہو جائے گا؟

چاند پر برف کی موجودگی کے ٹھوس شواہد مل گئے

ویسے تو چاند کی سطح پر پہلے بھی پانی کی موجودگی کی علامات ملتی رہی ہیں، لیکن نئی دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلے تصورات سے کہیں زیادہ مقدار میں یہاں موجود ہے۔

ملٹن کینیس اوپن یونیورسٹی کی پلینٹری سائنسدان ہینا سارجنٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ‘اس دریافت سے چاند پر پانی کے ممکنہ ذرائع کے بارے میں مزید آپشن دستیاب ہوئے ہیں۔’

امریکی خلائی ادارے نے کہا ہے کہ وہ چاند کی سطح پر سنہ 2024 میں ایک مرد اور عورت کو بھیجے گا تاکہ ‘اگلی بڑی چھلانگ’ یعنی 2030 کی دہائی میں مِریخ پر انسان کو اتارنے کے لیے تیاری کی جا سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ چاند پر خلائی بیس کہاں بنانی ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ چاند پر پانی کہاں ہے۔

https://twitter.com/NASAGoddard/status/1320757939892899842

سائنسدانوں کو یہ پانی کیسے ملا؟

ان نئی دریافتوں میں سے پہلی دریافت صوفیہ ٹیلی سکوپ نامی رصدگاہ سے کی گئی۔ یہ رصدگاہ ایک بوئنگ 747 طیارہ ہے جو زمین کی 99.9 فیصد فضا سے اوپر پرواز کرتا ہے۔

انفراریڈ شعاعوں کو دیکھ پانے والی یہ ٹیلی سکوپ فضا سے اوپر ہونے کی وجہ سے نظامِ شمسی کا بلارکاوٹ مشاہدہ کر سکتی ہے۔

چاند کی سطح پر انفراریڈ شعاعیں پھینکنے اور ان کے منعکس ہونے کا مشاہدہ کر کے سائنسدان یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ درحقیقت کیا چیز اس روشنی کو منعکس کر رہی ہے۔ مختلف مادے مختلف رنگوں کی صورت میں نظر آتے ہیں اور اس کیس میں سائنسدانوں کو بالکل وہی رنگ ملے جو پانی کے مالیکیولز کی پہچان ہیں۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سطح پر موجود ذرات کے اندر پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ سخت ماحول کے باوجود اب بھی موجود ہے۔

ایک دوسری تحقیق میں سائنسدانوں نے دائمی طور پر اندھیرے میں موجود علاقوں کا مشاہدہ کیا جنھیں کولڈ ٹریپ کہا جاتا ہے۔ کولڈ ٹریپس میں ہو سکتا ہے کہ پانی پھنس جائے اور ہمیشہ کے لیے موجود رہے۔

سائنسدانوں کو یہ کولڈ ٹریپس چاند کے دونوں قطبوں پر ملے اور انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ‘چاند کی سطح کا تقریباً 40 ہزار مربع میٹر علاقہ پانی کو پھانسنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16606 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp