فرانسیسی صدر کے اسلام سے متعلق بیانات: فرانسیسی حکومت کا ’انتہا پسند اسلام‘ کے خلاف کریک ڈاؤن، ترکی سے ساتھ تعلقات تلخ

لوسی ویلیمسن - بی بی سی نامہ نگار، پیرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Homage to Samuel Paty in Montpellier, 21 Oct 20
AFP
فرانس کے شہر پیرس میں تاریخ کے استاد سیموئل پیٹی کو چند روز قبل بیہمانہ طریقہ سے قتل کر دیا گیا
فرانس کے دارالحکومت پیرس کے شمال مشرقی علاقے پینتن میں واقع ایک مسجد میں جو نظر آیا، اس سے اندازہ ہوا کہ شاید اس بار حالات مختلف ہیں۔

یہ عمارت دیکھنے میں بڑے بڑے ہوائی جہازوں کے ہینگر کی طرز پر تعمیر کی گئی ہے، جہاں ان کی مرمت اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ لیکن یہ مسجد خالی تھی اور بند تھی۔

مسجد کے باہر ایک سرکاری حکم نامہ چسپاں تھا جس پر درج تھا کہ ‘اسلام پسند تحریک’ چلانے کی مہم میں ملوث ہونے کے باعث اور حال ہی میں قتل کیے جانے والے فرانسیسی استاد سیمؤیل پیٹی کو نشانہ بنانے والی ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرنے کی وجہ سے اس مسجد کو بند کر دیا گیا ہے۔

پیرس میں سیمؤیل پیٹی کے قتل کے بعد فرانسیسی حکومت کی جانب سے ‘اسلامی انتہا پسندی’ کے خلاف لیے گئے برق رفتار اقدامات بہت سخت رہے ہیں۔

اس حوالے سے حکومت نے مختلف انکوائری کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا، بہت کچھ بند کرنے کا حکم دیا اور نئے اقدامات اور تجاویز کا اتنا انبار لگ گیا ہے کہ ایک ایک کو یاد رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

خبروں کے مطابق فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے اپنی دفاعی کونسل کو گذشتہ ہفتے بتایا کہ کہا ‘خوف اب اپنا رخ تبدیل کر لے گا۔’

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پیرس میں استاد کا سر قلم، حملہ ’دہشتگردانہ کارروائی‘ قرار

فرانس: قتل ہونے والے ٹیچر سے متعلق ویڈیوز پر مسجد کو بند کرنے کا حکم

فرانس کی عرب ممالک سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ نہ کرنے کی اپیل

حکومت نے اس واقعے کے بعد مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں 120 مکانات کی تلاشی لینا، اُن تنظیموں کو تحلیل کرنے کا حکم جن پر الزام ہے کہ وہ اسلام پسند بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں، دہشت گردوں کی ملنے والی مالی امداد کو نشانہ بنانا، اساتذہ کے لیے مزید حمایت اور سماجی رابطوں کی کمپنیوں پر مواد کی موثر نگرانی کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فرانسیسی صدر کے دورِ حکومت میں اس نوعیت کے واقعات ہوئے ہوں۔ اب تک ان کی دور صدارت میں تقریباً 20 افراد بیہمانہ طریقے سے قتل کیے جا چکے ہیں جن میں پولیس کے اہلکار، ایک نوجوان خاتون اور کرسمس کے بازار میں خریدار شامل ہیں۔

لیکن اس بار ایسا کیا ہوا کہ حکومت اس قدر سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔

بڑے پیمانے پر نگرانی

جیروم فورقؤیٹ ایک سیاسی تجزیہ نگار ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں ایک استاد کو نشانہ بنایا گیا اور جس ظالم طریقے سے ان کو قتل کیا گیا، اس کے بعد ایسا ہونا ہی تھا کہ حکومت اپنے اقدامات کی شدت میں تبدیلی لائے۔

Anti-Islamophobia rally in Paris, 27 Oct 20

Getty Images
فرانس میں مسلمانوں نے ’اسلاموفوبیا‘ کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں

‘اب ہم منظم جہادی نیٹ ورک کا سامنا نہیں کر رہے، بلکہ ہمارا مقابلہ ان دہشت گردوں سے ہے جو ہمارے ملک میں ہی بستے ہیں، ایسے بھٹکے ہوئے افراد جو کہ اب انتہا پسند خیالات کے حامی ہو گئے ہیں۔ حکومت کو لگتا ہے کہ اب صرف قانون کے نفاذ کے حوالے جواب دینا کافی نہیں ہوگا۔ ان کو اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی دھیان دینا ہوگا اور تنظیموں پر بھی، کیونکہ ہم نے ا واقعے میں دیکھا کہ کس طرح لوگوں کے ذہنوں میں نفرت بھری جاتی ہے۔ یہ نظام اب تبدیلی ہونا ضروری ہے۔’

حکومت کی جانب سے فرانس کے قوانین کو نظریاتی خطرات کو چیلنج کرنے کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے جیروم فورقؤیٹ کا کہنا ہے کہ ایک سروے کے مطابق ملک میں ایک تہائی اساتذہ نے کہا کہ وہ فرانس میں عائد سیکولرزم کے باعث ہونے والے اختلافات کی بنا پر ‘خود ساختہ سینسر شپ’ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

تاہم دوسری جانب فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ سے منسلک ماہر عمرانیات لاؤرنٹ موچیلی کہتے ہیں کہ ایمینوئل میکخواں نے سیاسی وجوہات کی بنا پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے، اور اس کی بڑی وجہ 2022 میں ہونے والے صدارتی انتخابات ہیں۔

انھوں نے کہا : ‘ایمینوئل میکخواں جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازوں کی جماعتوں کے سامنے وہ کمزور نظر آئیں۔ ان کا اصل مقصد ہے اگلے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا اس لیے وہ انتہائی دائیں بازوں کے ووٹرز کو قائل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے انھیں چیزوں پر توجہ دی ہے جو انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو 10ویں صدی سے متاثر کرتا چلا آ رہا ہے، جیسے سلامتی اور تارکین وطن کے معاملات۔’

The Pantin mosque - closed by the French authorities

Getty Images
پینتن میں واقع مسجد جسے حکام نے بند کر دیا ہے

فرانس میں گذشتہ ہفتے ہونے والی رائے شماری میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے سب سے اہل رہنما سمجھا جاتا ہے۔

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں ان سے چار فیصد پیچھے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ 18 ماہ بعد یہ دونوں ایک دوسرے کا سامنا کر رہے ہوں۔

جہاں ایک جانب صدر ایمینوئل میکخواں کا بیرون ملک ایک مضبوط رہنما ہونے کا تاثر ہے اور ملکی معیشت پر ان کے اقدامات کو سراہا جاتا ہے، وہیں دوسری جانب سکیورٹی کے معاملات کو ان کی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

تاہم انتہائی دائیں بازو کی میرین لے پین نے اسلام کے پر امن عوامی اظہار کو فرانس کی قومی شناخت کے منافی قرار دیا ہے۔

علاقائی کشیدگی

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں سکیورٹی خطرات اور سیکولرازم میں فرق کرنے میں بہت احتیاط برتتے رہے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک وہ سکارف، بُرکینی اور سکول میں حلال کھانوں کے سوالات سے اپنا دامن بچاتے رہے ہیں۔

لیکن فرانس میں مذہب کے اظہار کے گرد گھومتی سیاست کا اظہار ہمیشہ جارحانہ ہی رہا ہے۔

ستمبر میں ایمینوئل میکخواں کی جماعت لا ریپبلک این مارچ کی رکن پارلیمان اس وقتی قومی اسمبلی سے چلی گئیں جب انھیں سکارف پہنی ایک خاتون کی گواہی سننے کے لیے کہا گیا۔

انھوں نے کہا ‘میں یہ قبول نہیں کر سکتی کہ قومی اسمبلی میں، جو جمہوریت کا دل ہے، ہم کسی ایسے شخص کو قبول کر لیں جس نے حجاب پہنا ہو۔’

سرکاری ملازمین جیسے ٹیچرز اور میئرز کو اجازت نہیں کہ وہ کھلم کھلا اپنے عقیدے کا اظہار کریں لیکن قانون میں عوامی چہروں کو کسی ایسی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

لیکن اس کے باوجود ایسے جھگڑوں کا ذکر بار بار سامنا آتا ہے جس میں سوالات اٹھتے ہیں کہ وہ والدین جو اپنے سر پر حجاب لیتی ہیں، کیا وہ اپنے بچوں کے ہمراہ ان کے سکول کی فیلڈ ٹرپس پر ان کا ساتھ جا سکتے ہیں؟ یا فرانس کے ساحلوں پر پیراک ‘بُر کینی’ پہن سکتے ہیں؟

ان اختلافات کے ہمراہ اس نوعیت کے بحث مباحثے بھی ہوتے ہیں جہاں انتہائی دائیں بازوں کے لوگ ‘خوشآمدانہ پالیسی’ اپنانے کے الزامات لگاتے ہیں جبکہ بائیں بازو کے لوگ ‘اسلاموفوبیا’ کے بارے میں آواز اٹھاتے ہیں۔.

اور اس گرما گرم سیاست میں ایک استاد کے قتل کے بعد اب یہ حالیہ جنون سامنے آیا ہے، جنھیں پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے پر قتل کیا گیا۔

بین الاقوامی تناظر

جہاں اس سے فرانس میں صدر ایمینوئل میکخواں کے حامیوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہی دوسرے ملکوں میں ان پر تنقید میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

لیبیا، بنگلہ دیش، اور غزہ کی پٹی میں احتجاج ہوئے ہیں، فرانس کی اشیا کو بائیکاٹ کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جبکہ ترکی کے ساتھ فرانس کی لفظی جنگ بڑھتی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے فرانس کے صدر نے سیکولر اقدار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کبھی ان خاکوں کو نہیں چھوڑے گا، جس کے بعد ترکی کے صدر طیب اردغان نے فرانس کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہوئے صدر میکرون کی ذہنی حالت پر سوال اٹھائے ہیں

فرانس نے اب اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

لیکن بہت سے پیچیدہ رشتوں کی طرح اس کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ ایمینوئل میکخواں کی اپنے ترک ہم منصب سے شکایتوں کی فہرست لمبی ہے جس میں شام میں کردش ملیشیا کے خلاف ترکی کی کارروائیاں، مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی تلاش اور مبینہ طور پر لیبیا میں اسلحے کی پابندی کا خاتمہ شامل ہیں۔

اور اب ایک چونکا دینے والا قتل اور فرانس کے اس پر ردعمل نے، مذہب اور سیاست کی حدود، اور طاقت رکھنے والے افراد کی جانب سے ان کے استعمال نے، بیرونی دنیا اور فرانس کے مابین ایک نئی دشمنی شروع کر دی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16587 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp