انڈیا، امریکہ دفاعی معاہدہ: دونوں ممالک میں ہونے والے نئے معاہدے سے خطے میں چین کا اثرورسوخ کم ہو جائے گا؟

زبیر احمد - بی بی سی نیوز، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع
Getty Images
انڈیا اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع
امریکہ اور انڈیا نے منگل کے روز حساس سیٹلائیٹ ڈیٹا کی فراہمی کے حوالے سے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب انڈیا کا چین کے ساتھ سرحدی تنازع زوروں پر ہے۔

اس حساس ڈیٹا کی مدد سے انڈیا اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے گا۔

اس فوجی معاہدے پر دستخط دہلی میں منگل کے روز ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد کیے گئے ہیں۔

عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات اس خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر ان دنوں انڈیا کے دورے پر ہیں۔

اس معاہدے کے بعد انڈیا کے وزیر خارجہ جئے شنکر نے کہا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہمارے (انڈیا اور امریکہ کے) باہمی تعلقات معنی خیز انداز میں آگے بڑھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی عہدیداروں سے ہونے والی بات چیت دونوں ممالک کو قومی سلامتی کے معاملات پر زیادہ تیزی سے نزدیک لائے گی۔

اس رپورٹ میں آگے چل کر ہم انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کا جائزہ لیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے ان تعلقات کی بنیاد پر چین کی مشکلات میں کس حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔


جنرل مارٹن ڈیمپسی نے سنہ 2014 میں امریکی چیف آف سٹاف کے عہدے سے سبکدوشی سے قبل چین کے بارے میں ایک پتے کی بات کہی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکہ جلد ہی کھل کر چین کا سامنا کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس طرح سرد جنگ کے دوران اسے سوویت یونین کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘ ان کی باتیں آج درست ثابت ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

جنرل ڈیمپسی نے یہ بات سنہ 2012 میں اوبامہ انتظامیہ کی مشرقی ایشیا کو ترجیح دینے کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں کہی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الوقت امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ چین ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2018 کے وسط سے ’ٹیرف وار‘ یعنی تجارتی جنگ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کے رہنے یا نہ رہنے سے انڈیا کو کیا فرق پڑے گا؟

’انڈیا کو یہ تاثر زائل کرنا ہو گا کہ وہ چین مخالف دھڑے کا حصہ ہے‘

کیا امریکی قیادت میں ایشیائی ممالک کا اتحاد چین کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

دونوں ممالک کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ تجزیہ کار اس کا موازنہ سرد جنگ کے دنوں سے کرنے لگے ہیں۔

مشرقی ایشیا کو ترجیح دینے کی امریکی خارجہ پالیسی چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کے تحت نئے کثیرالجہتی اتحادوں کے ساتھ باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے۔

اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے امریکہ کی ’خطے میں وسیع تر فوجی موجودگی‘ کی وکالت کی تھی۔

چین مخالف اتحاد؟

اس وقت سے امریکہ انڈیا سمیت ایشیا کے بہت سے ممالک کو چین کے خلاف اپنے فوجی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ امریکہ کی کوشش صرف انڈیا کو اپنے اتحاد میں شامل کرنا ہے بلکہ وہ دوسرے ممالک کو بھی اپنی اس مہم میں شامل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہا ہے۔

البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وائٹ ہاؤس نے چین کو روکنے میں مدد دینے کے لیے انڈیا کو اس خطے میں سب سے اہم ملک سمجھا ہے۔

انڈیا اور تین دیگر ممالک کے حالیہ دورے پر روانگی سے قبل امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میری ملاقاتوں میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال ہو گا کہ کس طرح آزاد ریاستیں چینی کمیونسٹ پارٹی سے پیدا ہونے والے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کر سکتی ہیں۔‘

امریکہ کے وزیر خارجہ فی الحال انڈیا میں ہیں جس کے بعد وہ سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیا کا دورہ بھی کریں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین اچھے تعلقات ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے۔ اس کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ دنیا کے دو سب سے بڑے جمہوری ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔

ان سب معاملوں کے درمیان مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ جاری کشیدگی سے نمٹنے کی امید میں انڈیا کا جھکاؤ امریکہ کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔

چینی فوج

AFP

مالابار بحریہ کی مشق

چینی امور کے ماہر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رانا مِتتر کے مطابق انڈیا اگر امریکہ کی طرف مائل ہو رہا ہے تو اس کا ذمہ دار چین ہے۔

لاس اینجیلس میں انڈین نژاد صحافی جیوتی منگل کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ سال اور رواں سال دونوں فریقین کے مابین سفارتی دوروں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ انڈیا نہ چاہتے ہوئے بھی آہستہ آہستہ امریکہ کی طرف اپنا جھکاؤ بڑھا رہا ہے، البتہ وہ (انڈیا) اس معاملے میں اب بھی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘

سابق سفارتکار اور ممبئی میں واقع تھنک ٹینک ’گیٹ وے ہاؤس‘ کی نیلم دیو اس بات سے زیادہ متفق نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات گذشتہ 20 برسوں سے مستقل انداز میں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’موجودہ صدر آنے والے صدر کے لیے انڈیا کے ساتھ مزید بہتر تعلقات کی فضا بنا کر جاتا ہے۔‘

منگل کو نئی دہلی میں ہونے والے تیسرے وزرا سطح کے اجلاس کو اس پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے آئندہ ماہ بحیرہ عرب اور بحر ہند میں انڈیا کے زیر قیادت ’مالابار بحری مشقوں‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔

ان مشترکہ مشقوں میں شریک ممالک میں انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔

کواڈ گروپ انھی چاروں ممالک پر مبنی ہے۔ 12 سال پہلے چین کے دباؤ کے تحت آسٹریلیا نے بحری مشقوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ انڈیا نے آسٹریلیا کو ان مشقوں کا دوبارہ حصہ بننے کی دعوت دے کر اس بار چین کو کھلے عام چیلنج کیا ہے۔

اجلاس کے اہم امور کیا تھے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ دونوں ممالک کے ’بنیادی تبادلہ اور تعاون معاہدہ‘ (بی ای سی اے) پر دستخط سے فوجی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

دوسرے لفظوں میں امریکی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے انڈیا کو خطے کے کسی بھی ملک کے طیاروں کی نقل و حرکت اور ان کی پرواز کے راستے کے بارے میں صحیح معلومات حاصل ہوں گی۔

اس معاہدے کے تحت امریکہ انڈیا کے ساتھ زمین پر فضائی طیاروں اور ٹینکوں کے راستوں اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کی صحیح معلومات شیئر کرے گا۔

ان معلومات کی بنیاد پر انڈیا جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میزائلوں اور مسلح ڈرونز کو درست انداز میں نشانہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار ڈین تھامسن نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم انڈیا کے ساتھ بہت سے امور پر تبادلہ خیال کرنے جا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ اور دیگر معاملات معاہدوں کی فہرست میں شامل ہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کے روز ایک پریس ریلیز میں انڈیا کی جمہوریت کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے مابین منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’گذشتہ دو دہائیوں میں دفاعی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انڈیا امریکہ کے بعد سی 17 اور پی 8 طیاروں کا سب سے بڑا بیڑا رکھتا ہے۔ امریکہ اور انڈیا کے مابین دفاعی صنعتی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور انڈیا دفاعی ساز و سامان کی تیاری اور ترقی پر مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

رواں سال اب تک امریکہ نے انڈیا کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ کا دفاعی ساز و سامان فروخت کیا ہے۔

’بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ‘ دونوں ممالک کے مابین پہلے سے ہی مضبوط دفاعی تعلقات کو مزید تقویت بخشے گا۔

پہلے دو اجلاسوں میں کیا ہوا؟

اس سے قبل اگست سنہ 2016 میں دونوں ممالک نے ’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ‘ یا ایل ای ایم او اے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے پر مکمل طور پر متفق ہونے میں تقریبا دس سال لگے۔ اس پر اوباما انتظامیہ کے آخری مہینوں کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔

اس معاہدے کے تحت ایک ملک کی فوج کو دوسرے کی سہولیات، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے فراہمی اور دیگر خدمات کے لیے ایک دوسرے کے دفاعی ٹھکانوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

اس معاہدے نے انڈو بحر الکاہل خطے میں بحریہ کے مابین تعاون کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا اور امریکہ نے ایک اور دفاعی معاہدہ کیا ہے جس ’کوکاسا‘ یا ’مواصلات مطابقت اور سلامتی معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔

اس پر ستمبر سنہ 2018 میں دہلی میں پہلے ’ٹو پلس ٹو مکالمے‘ کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔

اس معاہدے سے انڈین اور امریکی فوجی کمانڈروں، اُن کے طیاروں اور دیگر سازوسامان کے لیے خفیہ اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس پر معلومات کا تبادلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

نئی دہلی میں سنہ 2018 اور سنہ 2019 میں واشنگٹن میں منعقدہ پہلے دو وزارتی سطح کے ڈائیلاگ سرخیاں نہیں بنا سکے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ منگل کی ملاقات بہت اہم ہے۔

مسئلہ چین ہے اور انڈیا اور امریکہ دونوں ہی چین سے لڑنے کی مختلف وجوہات رکھتے ہیں۔ اور چین کو روکنا ہی دونوں ممالک کا مقصد ہے۔

پومپیو

Reuters

صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل دورہ کیوں؟

امریکہ میں کچھ ماہرین نے صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل اس دورے کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔ لیکن انڈیا میں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ انڈین حکومت کو اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں ہے کہ انتخابات کے بعد کون اقتدار میں آئے گا۔ اقتدار میں تبدیلی سے اس علاقے کی صورتحال تبدیل نہیں ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ امریکی ترجیحات میں بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انڈیا اور امریکہ کے درمیان دس برسوں کی بات چیت اور دو صدور کی تبدیلی کے باوجود بھی سنہ 2016 میں ’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم‘ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خارجہ پالیسیاں ہر وقت اقتدار میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتی ہیں۔

انڈین حکومت جانتی ہے کہ انڈیا کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی میں اتفاق رائے ہے۔

انڈیا میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کی فتح مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

لیکن نیلم دیو کہتی ہیں کہ متعدد صدور نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے لیکن انڈیا کے ساتھ امریکی تعلقات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

ان کے خیال میں بائیڈن کے صدر بننے کی صورت میں انڈیا کو چین کے ساتھ معاملات کے نمٹانے میں آسانی ہو گی کیونکہ بائیڈن کثیر الجہتی نقطہ نظر اور اتفاق رائے کے حامی ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ چین سے تنہا یا صرف چند ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16593 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp