توشہ خانہ: وزیر اعظم اور صدر مملکت سمیت وزرا کو ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

عماد خالق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم پاکستان اور صدرِ مملکت سمیت دیگر وزرا کو بیرون ملک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلہ کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر وزرا کو ملنے والے 170 سے زائد تحائف کو بولی کے تحت نیلام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ان اشیا میں موجودہ حکومت کے سربراہان مملکت اور وزرا سمیت سابقہ ادوار کے حکومتی اراکین کو ملنے والے تحائف بھی شامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اس اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین حصہ لے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی قومی کفایت شعاری کا اعلان کیا تھا اور اس سے قبل ستمبر 2018 میں بھی وزیر اعظم دفتر کے زیر استعمال رہنے والی تقریباً 100 سے زائد لگژری گاڑیوں کی نیلامی کی تھی، ان گاڑیوں میں 28 مرسیڈیز اور آٹھ بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کے علاوہ لیکسس، لینڈ کروزر، پجیرو اور دوسرے برینڈز کی بلٹ پروف گاڑیاں شامل تھیں۔

تاہم حکومت کو اس نیلامی سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا کیونکہ ان میں سے چند گاڑیوں کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو سے بہت زیادہ رکھی گئی تھیں اور کچھ گاڑیاں بہت پرانے ماڈل کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

مہران بک گئی، بی ایم ڈبلیو کو خریدار نہ ملا

کفایت شعاری: لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا عمل شروع

نیلام ہونے والے ہیلی کاپٹرز میں سے ایک بھی پرواز کے قابل نہیں

ایڈیشنل ڈائریکٹر کابینہ ڈویژن حماد شمیمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان تحائف کی نیلامی معمول کے مطابق ہو رہی ہے اور مقامی میڈیا میں چلنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ ایسا پہلی بار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس مرتبہ فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے اس کی تشہیر کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے مطابق یہ نیلام ہر سال ہونا ہوتی ہے لیکن کیونکہ ایک برس کے دوران سربراہان مملکت اور وزرا کے دوروں کے دوران اتنے تحائف اکھٹے نہیں ہو پاتے کہ ان کی نیلامی کی جائے۔

سربراہان مملکت اور وزرا کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کا طریقے کار بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرون ملک کے دورے کے دوران وزرات خارجہ کے اہلکار اس تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جس کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ اس کی بازار میں قیمت کے مطابق مالیت کا تعین کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اگر ان تحائف کی مالیت 30 ہزار روپے سے کم ہو تو وزیر اعظم، صدر یا وزیر جنھیں یہ تحفہ ملا ہوتا ہے انھیں توشہ خانہ قوانین کے مطابق مفت دینے کی پیشکش کی جاتی ہے، تاہم اگر اس کی مالیت 30 ہزار سے زیادہ ہو تو وہ اس تحفے کی مالیت کا کچھ فیصد کو کہ مارکیٹ ویلیو سے سبسڈائزڈ ہوتا ہے ادا کر کے رکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اگر سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھر ان تحائف کی فہرستیں تیار کر کے انھیں توشہ قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اور فوج کے افسران کے لیے نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے کروایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے جبکہ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہو ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کی تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔‘

کیا ایک سرکاری ملازم یا فوج کا اہلکار لاکھوں کی مالیت کا تحفہ خرید سکتا ہے کا جواب دیتے ہوئے حماد شمیمی کا کہنا تھا کہ ’ہم توشہ خانہ قوانین کے تحت اس عمل کو کرتے ہیں کیونکہ قوانین کے مطابق ان تحائف پر پہلا حق اس کا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتا ہے، اگر وہ اسے نہیں لیتے تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہلکاروں کے لیے نیلامی کی جاتی ہیں۔ اگر اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں تو انھیں عام عوام کے لیے نیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جو بھی فوجی یا سرکاری ملازم یہ بیش قیمتی اشیا کو خریدتے ہیں انھیں اپنی زرائع آمدن ڈیکلیر کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر لاگو ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔‘

توشہ خانہ کے نیلام کیے جانے والے تحائف میں کیا کیا ہے؟

حکومت کی جانب سے تقریباً 170 سے زائد جن تحائف کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں مختلف ممالک کے دوروں کے دوران وزیر اعظم اور صدر مملکت سمیت دیگر وزرا کو ملنے والے اعزازی تحائف ہیں۔

ان میں مہنگی رولیکس گھڑیاں، سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت، مخلتف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔

حکومتی مراسلے میں جاری کی جانے والی تفصیلات کے مطابق ان اشیا کی نیلامی کی نمائش چار اور چھ نومبر کو کیبنٹ ڈویژن میں کی جائے گی، جبکہ مہر بند بولی کی وصولی کی آخری تاریخ 23 نومبر اور نیلامی 25 نومبر کو ہو گی۔

ان اشیا میں سے وزیر اعظم عمران خان کو سعودی عرب کی ولی عہد کی جانب سے ملنے والی سونے کی کلاشنکوف بندوق ہیں، چند بیش قمیتں رولیکس گھڑیاں ہیں جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی سنہ 2018-19 کے دورہ سعودی عرب کے دوران ملنے والے بیش قیمت تحائف جن کی مالیت چھ ملین سے زیادہ کی ہے شامل ہیں۔

ان میں رولیکس گھڑی، سونے کی موتی جڑے قلم، کف لنکس، تسبیح اور سونے کی انگوٹھی شامل ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر حماد شمیمی سے جب نیلام کی جانے والے اشیا کی کل مالیت کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہر چیز کی قیمت کا تعین الگ الگ کیا ہے کیونکہ ممکن ہے کوئی شخص پورا سیٹ نہ خرید سکے اور صرف ایک انگوٹھی خرید لے۔ تاہم ان کی کل مالیت کروڑوں میں بنتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

حکومت کی جانب سے سربراہان مملکت کو ملنے والے تحائف کی نیلامی کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین اپنا ردعمل دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رکن اکبر ایس بابر نے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’کوئی ملک دیگر ممالک کے سربراہان کی جانب سے ملنے والے تحائف کی نیلامی نہیں کرتا ماسوائے اس کے جو قومی برائے فروخت ہو، اور ہم وہ بد قسمت قوم ہیں۔‘

جبکہ محمد حنیف نامی ایک صارف نے لکھا کہ ان تحائف کو عجائب گھر میں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ تحائف دینے والے اور تحائف وصول کرنے والے ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو اس نیلامی کو صرف سرکاری ملازمین اور فوجی افسران تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عام عوام کو بھی اس نیلامی میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے۔‘

جبکہ محسن بلال خان ایک صارف کا حکومتی اقدام کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی نے دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

جس کے جواب میں ایک صارف نے ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا اس سے مہنگائی کنٹرول ہو جائے گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16703 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp