افغان امن عمل: افغانستان میں ’القاعدہ طالبان کی صفوں میں شامل‘، اقوام متحدہ کے اہلکار کی تنبیہ

سکندر کرمانی - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان میں طالبان کے اندر القاعدہ 'بڑی تعداد میں سرایت شدہ ہے'
EPA
رواں سال کے اوائل میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغانستان میں ’القاعدہ طالبان کی صفوں میں بھرپور طریقے سے شامل ہے۔‘

امریکہ، طالبان معاہدے میں اگلے موسم گرما تک امریکی افواج کے مکمل انخلا کا وعدہ اس شرط پر کیا گیا کہ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو بین الاقوامی حملوں کے لیے استعمال نہ کریں۔

ایڈمنڈ فٹن براؤن اقوامِ متحدہ میں نام نہاد دولت اسلامیہ، القاعدہ اور طالبان مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد وعدہ کیا ہے کہ القاعدہ اور وہ اتحادی رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

القاعدہ کے’انتہائی مطلوب دہشتگرد‘ کی ہلاکت امن معاہدے کے لیے رکاوٹ؟

افغان امن مذاکرات کے اگلے مرحلے میں کیا ہو گا

’وہ لڑتے ہیں، ہم مرتے ہیں‘، افغانستان کی جنگ میں پھنسے خاندان کی کہانی

’نظر ملا کر بات نہ کریں‘، دوحا میں طالبان سے ملاقات اور رابطے کا تجربہ

فٹن براؤن کا کہنا ہے کہ ‘طالبان باقاعدگی سے القاعدہ کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کر رہے تھے اور انھیں یقین دلا رہے تھے کہ وہ اپنے تاریخی تعلقات کا احترام کریں گے۔’

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے باوجود طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات میں ‘کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔’

‘القاعدہ طالبان میں بڑے پیمانے پر سرایت شدہ ہے۔ وہ طالبان کے ساتھ فوجی کارروائی اور ٹرینگ میں حصہ لیتے رہتے ہیں اور یہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔’

نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی مداخلت کے بنیادی مقاصد میں القاعدہ کی وجہ سے درپیش خطرات کو ختم کرنا اور ان کی پشت پناہی کرنے والی طالبان حکومت کو معزول کرنا شامل تھے۔ اس وقت امریکہ کے صدر جارج بش نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمام جنگجوؤں کو اس وقت تک ہلاک کریں گے جب تک ‘ان کے پاس بھاگنے کے لیے، چھپنے کے لیے یا آرام کرنے کے لیے کوئی جگہ نہ بچے۔’

گذشتہ دہائی کے دوران القاعدہ میں اتنی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ مغربی ممالک پر کوئی حملہ کریں۔ لیکن ان کے رہنما ایمن الظواہری کے بارے میں تاحال خیال ہے کہ وہ افغانستان میں مقیم ہیں اور ان کے ساتھ گروہ کے بعض سینیئر رہنما بھی ہوتے ہیں۔

سنیچر کو افغانستان کے استخباراتی ادارے این ڈی ایس نے القاعدہ کے ایک اہم مرکزی رہنما عبدالرؤف حسام عرف ابو محسن المصری کو صوبہ غزنی میں اپنے میزبان، طالبان کے مقامی رہنما سمیت ایک چھاپے میں مارنے کا دعویٰ کیا۔ فٹن براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ نظروں سے اوجھل رہنے کے باوجود القاعدہ ‘خطرناک’ اور ‘استقامت انگیز’ ہے۔

طالبان اہلکاروں نے بارہا زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی ہر شرط کا احترام کریں گے۔ اس میں یہ شرط بھی شامل ہے جس میں طالبان نے عہد کیا ہے کہ وہ کسی بھی گروہ کو امریکہ یا اس کے اتحادی پر حملے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے نہیں دیں گے۔

افغانستان میں طالبان کے اندر القاعدہ 'بڑی تعداد میں سرایت شدہ ہے'

EPA

ان باغی گروہوں کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایک 'اسلامی حکومت' کے قیام کا مقصد رکھتے ہیں اور کسی دوسرے ملک کے لیے خطرے کا باعث نہیں بنیں گے۔

اس دوران طالبان نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف اپنی جھڑپوں کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ وہ شدت پسندی کے خلاف اپنی کارروائیوں کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ طالبان دولت اسلامیہ کو تو اپنا حریف سمجھتے ہیں لیکن القاعدہ سے ان کے تعلقات اس کی ابتدا سے قریبی رہے ہیں۔

فٹن براؤن کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ عرصے میں ایسی رپورٹس کا بھی مطالعہ کیا ہے جن میں طالبان نے افغانستان میں موجود غیر ملکی پاکستانی جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ افغانستان سے باہر حملے نہ کرنے کی شرط پر عمل کیا جاسکے۔ ان کے مطابق یہ غیر واضح ہے کہ آیا اس معاہدے کا اطلاق القاعدہ پر بھی ہوگا، یا اس شرط کا اطلاق ان تمام غیر ملکی جنگجوؤں پر ہوتا ہے جو افغانستان میں مقیم ہیں اور عالمی سطح پر خطرے کا باعث بنتے ہیں۔

جب امریکی اہلکاروں سے سوال کیا جاتا ہے کہ آیا طالبان القاعدہ سے متعلق اپنے وعدوں کی مکمل طور پر پاسداری کر رہے ہیں تو ان کے جوابات غیر واضح ہوتے ہیں اور وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہ معلومات خفیہ ہے۔

امریکہ کے محکمۂ داخلہ میں انسداد دہشت گردی کے کوآرڈینیٹر اور سفیر نیتھن سیلز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ‘ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ طالبان اپنے کیے گئے وعدوں کا احترام کریں گے۔۔۔ تا کہ افغانستان میں تمام دہشت گرد تنظیموں سے تعلق ختم کر سکیں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم انتہائی قریب سے صورتحال کی نگرانی کرتے رہیں گے تاکہ قول و فعل یکساں رہے۔’

لیکن افغانستان میں اس جنگ سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور یہ جنگ اب تعطل کا شکار ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے امریکی افواج کو واپس گھر بلا رہے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی تعداد کو 4500 سے بھی کم کر کے جنوری 2021 تک 2500 تک کیے جانے کا امکان ہے۔

ان معاملات پر نظر رکھنے والے ایک سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انخلا کا منصوبہ شرط کی بنیاد پر نہیں بلکہ ‘ایجنڈے کی بنیاد پر’ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں سے ایک امریکہ کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ کا اختتام ہے۔

بعض اوقات صدر ٹرمپ فوج سے متعلق اپنے معاونین سے الگ نظریہ لے کر آگے چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں انھوں نے دفاعی اہلکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ جنگیں لڑنے کے سوا کچھ نہیں کرنا چاہتے۔’

افغانستان میں طالبان کے اندر القاعدہ 'بڑی تعداد میں سرایت شدہ ہے'

EPA

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے سابق کمانڈر اور افغان حکومت کی قومی سلامتی کونسل کے موجودہ ترجمان رحمت اللہ اندر نے القاعدہ اور دیگر عالمی مسلح گروہوں کے دوبارہ زور پکڑنے کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکیوں کو شاید لگتا ہے کہ جو معاہدہ انھوں نے طالبان کے ساتھ طے کیا اس سے سب حل ہوجائے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ ثابت ہوجائے گا کہ ایسا نہیں ہے۔’

جب طالبان اہلکاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ ان کا تعلق کیا ہے تو ان کے جواب بھی غیر واضح ہوتے ہیں۔ بعض اوقات وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مسلح گروہ اب افغانستان میں اپنی موجودگی کھو چکا ہے۔ گذشتہ سال برصغیر کے علاقے میں موجود القاعدہ کے ایک علاقائی گروہ نے افغان حکومت کے سکیورٹی اداروں پر طالبان کے حق میں حملے کی ویڈیو جاری کی تھی۔

القاعدہ کے اراکین طالبان کے رہنما سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں۔ جب گذشتہ سال پوچھا گیا کہ طالبان ایک ایسے گروہ کے خلاف کریک ڈاؤن کیسے کریں گے جو اسی کے رہنما سے وفاداری کا حلف لیتا ہے تو ایک طالبان اہلکار نے دوحہ میں دعویٰ کیا کہ القاعدہ کی جانب سے اس حلف کو کبھی باقاعدہ طور پر ‘قبول نہیں کیا گیا۔’

ایک دوسرے طالبان رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حلف کو رد کیا جاسکتا ہے اگر القاعدہ کے جنگجو بیرون ملک حملے نہ کرنے کے طالبان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

افغان امن عمل کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوسکتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات کیسے ہوں گے۔ بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق طالبان کے وعدے اس معاہدے میں امریکی انخلا کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم امکان ہے کہ اس مسئلے پر تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔ خیال ہے کہ طالبان میں سخت گیر رہنما القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ افغان امن عمل اب اپنی رفتار کھو چکا ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات طویل عرصے تک تاخیر کا شکار رہے اور اس کے بعد ان کا قطر میں آغاز ہوا۔ لیکن اس کے باوجود پُرتشدد واقعات جاری رہے ہیں اور گذشتہ ہفتوں میں ان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بنیادی مسائل کے حل کے دوران مذاکرات میں تاخیر ہوئی جبکہ جنگ بندی یا اقتدار میں حصہ داری جیسے بڑے مسائل پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے۔ یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر امریکی افواج کا انخلا اگلے سال دونوں کے بیچ مذاکرات سے قبل ہی ہوجاتا ہے تو پُرتشدد واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور طالبان عسکری فتح کی کوششیں تیز کر سکتے ہیں۔

فٹن براؤن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امن عمل کو مسائل درپیش ہوتے ہیں تو افغانستان میں القاعدہ اور دولت اسلامیہ جیسے گروہ ایسے علاقوں میں زور پکڑ سکتے ہیں جن کا انتظام کسی کے پاس نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر یہ دونوں گروہ خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16606 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp