فرائڈ اور تحلیل نفسی انسانی نفسیات کے راز : قسط نمبر 2

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سگمنڈ فرائڈ کے ایک مریض نے اپنے نفسیاتی علاج کے دوران انہیں اپنا ایک خواب سنایا۔ کہنے لگا ’میں نے خواب میں ایک کتا دیکھا۔ میں نے جب اسے ٹھوکر ماری اور اس نے منہ موڑا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس کتے کا سر ایک انسان کا سر تھا اور وہ انسان میرا باپ تھا‘

فرائڈ نے اس مریض کی تحلیل نفسی کے دوران اسے بتایا کہ اس کے لاشعور میں اپنے والد کے بارے میں غصے نفرت اور تلخی کے جذبات پوشیدہ ہیں۔ جب وہ انہیں جاگتے ہوئے سوچتا ہے تو وہ احساس گناہ کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یہ سکھایا گیا تھا کہ بیٹے کو باپ کا احترام کرنا چاہیے۔ علاج کے دوران مریض نے فرائڈ کو بتایا کہ اس کا باپ ایک ظالم اور جابر باپ تھا اور بچپن سے اسے مارتا پیٹتا تھا جس کی وجہ سے بیٹے کے دل میں باپ کے لیے نفرت کے جذبات پنپتے رہے لیکن چونکہ اسے ان جذبات کے اظہار کا موقع نہ ملا اس لیے اس نے انہیں اپنے لاشعور میں دھکیل دیا اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا۔ تحلیل نفسی کے دوران وہ جذبات دوبارہ شعور کی سطح پر آئے اور اسے تھیراپی میں ان کے اظہار کا موقع ملا۔ اس طرح اس مریض کا نفسیاتی مسئلہ حل ہوا اور وہ ایک صحتمند زندگی گزارنے لگا۔

فرائڈ نے انسانی بچوں کے اپنے والدین سے تعلقات کی پیچیدگیوں اور تضادات کے الجھے دھاگوں کو بھی سلجھایا اور بتایا کہ کیسے وہ تضادات مستقبل کے انسانی رشتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ایڈیپس کمپلیکس کا تصور ہے۔ اس تصور کے مطابق لاشعوری طور پر بیٹا ماں سے محبت اور باپ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ باپ کو اپنا رقیب سمجھتا ہے۔ جب بیٹا اس گتھی کو سلجھا لیتا ہے اور اپنے اس کمپلیکس سے باہر نکل آتا ہے اور ماں سے جذباتی فاصلہ رکھنے لگتا ہے تو اس کے لیے اپنی محبوبہ یا بیوی سے محبت کرنا آسان ہو جاتا ہے لیکن وہ لڑکا جو اس مسئلے کو حل اور اس کمپلیکس کو ریزالو نہیں کر پاتا اس کے لیے ماں کے علاوہ کسی بھی عورت سے سچے دل سے محبت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

فرائڈ نے اپنے کلینک میں ایک کاؤچ رکھا اور اپنے مریضوں سے کہا کہ وہ تھراپی کے دوران اس کاؤچ پر لیٹ جائیں۔ فرائڈ خود ایک طرف کرسی پر بیٹھ جاتے تھے اور مریضوں سے سوال کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ان کے ذہن میں جو بات آئے اسے سنسر کیے بغیر کہہ دیں۔ اس طرح فرائڈ کا مریض کے لاشعور اور لاشعور میں چھپے تضادات تک پہنچنا آسان ہو جاتا تھا۔ یہ طریقہ free association کہلاتا تھا۔ مریض ہر روز آتا تھا اور ایک گھنٹے کا علاج کرواتا تھا۔ یہ سلسلہ ہفتوں مہینوں سالوں چلتا تھا اور مریض آہستہ آہستہ صحتیاب ہوتا تھا۔ اس طریقہ علاج کو فرائڈ نے psychoanalysisکا نام دیا تھا جو اب تحلیل نفسی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جب فرائڈ اور ان کے طرز علاج کو یورپ میں مقبولیت حاصل ہوئی تو انہوں نے اپنے شاگردوں اور رفقا کار کے ساتھ مل کر psychoanalytical society بنائی جس کی ہر شہر اور ملک میں سالانہ میٹنگز ہونے لگیں اور وہ فلسفہ اور طریقہ علاج ساری دنیا میں مقبول ہو گیا۔

فرائڈ کی موت کے بعد بہت سے ماہرین نفسیات نے ان کے طریقہ علاج کو اپنایا۔ جن ماہرین نے ان کے علاج میں گرانقدر اضافے کیے اور اس علاج کو مختصر کیا ان میں امریکی ماہر نفسیات پیٹر سیفنیوس اور ایرانی پروفیسر حبیب داوانلو کے نام اہم ہیں۔ جو نفسیاتی علاج فرائڈ کئی سالوں میں کرتے تھے اب وہی علاج جدید ماہرین چند مہینوں میں کر سکتے ہیں۔

اب نفسیاتی علاج میں مریض کاؤچ پر نہیں لیٹتا اور ماہر نفسیات اس کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں اور نفسیاتی علاج میں شعور اور لاشعور دونوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ نفسیاتی علاج میں مریض کے خوابوں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ خواب ہمیں لاشعور کے رازوں کا پتہ دیتے ہیں۔

میں اپنے کلینک میں مریضوں کو ایک ڈائری رکھنے کا بھی مشورہ دیتا ہوں اس طرح لکھنے کا عمل گفتگو کرنے کے عمل کو بڑھاوا دیتا ہے۔

سگمنڈ فرائڈ کے مداحوں میں انسان دوست فلاسفر اور ماہر نفسیات و سماجیات ایرک فرام بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سگمنڈ فرائڈ کے نظریات کے مطالعے کے ساتھ ساتھ کارل مارکس کے خیالات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا اور ایسی کتابیں لکھیں جنہوں نے فرائڈ اور مارکس کی تعلیمات کے درمیان پل کا کام کیا۔

پچھلی ایک صدی میں جہاں سگمنڈ فرائڈ کے بہت سے مداح پیدا ہوئے وہاں انہیں کئی ناقدین کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کارل پوپر سگمنڈ فرائڈ کو ایک فلاسفر تو مانتے ہیں ایک سائنسدان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم صرف اس نظریے کو سائنسی نظریہ مانیں گے جو غلط بھی ثابت ہو سکے چونکہ ہم فرائڈ کے چند نظریات کو غلط ثابت نہیں کر سکتے اس لیے وہ سائنس کی حدود سے باہر ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ فرائڈ کے نفسیاتی نظریات اس کے عہد اور معاشرے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ چونکہ ان دنوں یورپ میں نیوکلئیر فیملی کا نظام تھا اس لیے بیٹا۔ ماں۔ باپ۔ کے رشتوں کی تکون بنتی تھی۔ اس لیے اس میں باپ کو بالادستی حاصل تھی۔ بعض کلچرز اور خاندانوں میں باپ سے زیادہ ماموں کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اور ماموں کا رشتہ باپ کی نسبت زیادہ شفیق ہوتا ہے اس لیے ایسے خاندانوں میں ایڈیپس کمپلیکس کا نظریہ صحیح ثابت نہ ہوگا۔

فرائڈ پر بہت سے اعتراضات کے باوجود ان کے نظریات نے نفسیات کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔

فرائڈ کے لاشعور کے نظریے اور تحلیل نفسی کے علاج نے ہم سب کو انسانی نفسیات کے بہت سے رازوں سے متعارف کروایا۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ فرائڈ کے نظریات کو ماہرین نفسیات کے علاوہ شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں نے بہت سراہا۔ اب مختلف ادبی تخلیقات کی تحلیل نفسی کی جاتی ہے جس سے افسانوں اور ناولوں کے کرداروں اور ادیبوں کے نفسیاتی راز جانے جاتے ہیں اور ان کرداروں کی نفسیاتی کجی کو سمجھا جا سکتا ہے۔

فرائڈ کو اپنی زندگی میں طب اور نفسیات کا تو کوئی ایوارڈ نہ ملا لیکن انہیں ادب کا گوئٹے ایوارڈ ملا کیونکہ ان کی تحریروں کو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ سمجھا گیا۔ فرائڈ کو ادب اور فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ خوابوں اور لطیفوں کے ساتھ ساتھ کسی قوم کا ادب عالیہ بھی ہمیں اس قوم کے لاشعور کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

فرائڈ نے اپنے نفسیاتی نظریات میں دیومالائی کہانیوں سے استفادہ کیا۔ ایڈیپس کمپلیکس کا تصور بھی یونانی دیومالائی کہانی سے مستعار ہے۔

فرائڈ کا خیال تھا کہ کسی بھی قوم کے شاعر اور ادیب ’ڈرامہ نگار اور ناول نگار وجدانی طور پر انسانی نفسیات کے ان رازوں سے واقف ہوتے ہیں اور ان کا اپنی تخلیقات میں اظہار کرتے ہیں جنہیں ماہرین نفسیات بعد میں اپنی تحقیق اور مریضوں کے علاج میں دریافت کرتے ہیں۔

نوٹ: اس سلسلے کی اگلی قسط نمبر 3۔ کارل ینگ اور اجتماعی لاشعور کے بارے میں ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 399 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail