امریکی صدارتی انتخاب 2020: نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن امریکہ کی خارجہ پالیسی کیسے تبدیل کریں گے؟

باربرا پلیٹ اُشر - بی بی سی نامہ نگار برائے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Democratic presidential nominee Joe Biden delivers remarks in the parking lot of the United Food and Commercial Workers International Union Local 951
Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو 'سب سے پہلے امریکہ' کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں جس کے تحت انھوں نے انھوں نے متعدد بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ امریکی مفادات کے خلاف تھے۔

یہ ایک پریشان کن اور انتشار انگیز حکمتِ عملی تھی جو صرف اور صرف امریکی مفادات کی خاطر تھی اور اس کے پیچھے صدر ٹرمپ کی ذاتی سوچ اور دیگر ملکوں کے رہنماؤں سے ذاتی تعلقات پر مبنی تھی۔

مگر نو منتخب صدر جو بائیڈن شاید دنیا کو زیادہ روایتی انداز میں دیکھیں گے اور وہ مغربی اتحادی اور دیگر ممالک کے ساتھ طے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کریں گے اور مغربی ممالک کی جمہوری اقداروں کا خیال رکھیں گے۔

یہ ایک بین الاقوامی اتحاد ہے جس میں امریکہ دنیا کے آزاد اور ترقی یافتہ ممالک کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں آگے آگے ہوتا ہے۔

تو جو بائیڈن کی صدارت میں کیا تبدیل ہو سکتا ہے؟ کچھ چیزیں واضح ہیں، جیسے اتحادیوں سے تعلقات، ماحولیاتی تبدیلی اور مشرق وسطی کے حالات۔

اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات

صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں آمروں کی تعریف کی ہے جبکہ اتحادی ممالک کی تضحیک کی ہے۔

جو بائیڈن کے لیے سب سے اہم کام یہ ہوگا کہ وہ ان تعلقات کو بہتر بنائیں، بالخصوص ناٹو کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی اور بین الاقوامی اتحاد میں دوبارہ شامل ہوا جائے گا۔

جو بائیڈن کی انتظامیہ عالمی ادارہ صحت میں بھی واپس شامل ہو جائے گی اور کورونا وائرس کی وبا کے خلاف میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔

General View of the United Nations Building on September 22, 2019 in New York City.

VIEW press

جو بائیڈن نے اپنی صدارتی مہم کے دوران اس امر کو بار بار اجاگر کیا تھا تاکہ امریکہ کے بارے میں جو تاثر صد ٹرمپ کی صدارت میں بن گیا ہے اسے ٹھیک کیا جائے اور دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے آمرانہ طرز عمل کو روکنے کی کوشش کی جائے۔

تاہم اس بارے میں قدامت پسند سوچ رکھنے والے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹٹیوٹ سے منسلک ڈینئیل پلیٹکا کہتی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے عالمی سٹیج پر اپنے سخت موقف کی مدد سے امریکہ کے لیے بہت کچھ حاصل کیا۔

‘کیا ہم نے ایسے دوست کھو دیے جن کے ساتھ ہم پارٹیوں میں جا سکتے تھے، بالکل۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کوئی پارٹی میں جانا نہیں چاہتا۔ لیکن کیا ہماری طاقت اور اثر و رسوخ میں کمی ہوئی ہے؟ نہیں۔’

ماحولیاتی تبدیلی

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کو اپنی ترجیحات میں رکھیں گے اور پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے جو اُن بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہے جن سے صدر ٹرمپ نکل چکے ہیں۔

In this photo illustration of German tabloid Bild Zeitung that features an exclusive interview with then US President-elect Donald Trump

Getty Images
صدر ٹرمپ نے عالمی طور پر سخت موقف اختیار کیا ہے

اس معاملے پر دونوں امیدوار کے خیالات ایک دوسرے کے مکمل طور پر متصادم ہیں۔

صدر ٹرمپ کی نظر میں ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے خلاف جنگ کو معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے فوسل فیول کو استعمال کرنے پر زور دیا ہے اور ماحول کے تحفظ کے لیے بنائے گئے متعدد قوانین کو منسوخ یا معطل کر دیا ہے۔

دوسری جانب جو بائیڈن نے بیس کھرب ڈالر کے منصوبے کا آغاز کرنے کی بات کی ہے جس کی مدد سے وہ امریکہ میں آلودگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صاف توانائی کو استعمال کرنے والی معیشت کے قیام کی کوشش کریں گے اور اس کی مد میں لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی۔

ایران اور جوہری معاہدہ

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی صدارت میں چھوڑے گئے ایک اور بین الاقوامی معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لیں گے اور وہ ہے ایران کے ساتھ کیا گیا جوہری معاہدہ۔

دو سال قبل صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ ہتھیاروں کی تیاری پر قابو پانے والا یا معاہدہ ایران کی خطرے سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے اور کمزور ہے۔

اس کے بعد انھوں نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں اور معاشی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا، اور حال میں ایران کے مالیاتی شعبے کو تقریباً مکمل طور پر بلیک لسٹ کر کے مفلوج کر دیا۔

جواب میں ایران نے معاہدے میں لگائی گئی چند پابندیوں کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ دباؤ والی پالیسی ناکام ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور چار سال قبل کے مقابلے میں اس وقت ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے زیادہ قریب ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر ایران سختی سے اس معاہدے کی شرائط کی تکمیل کرے تو امریکہ اس معاہدے میں واپس آ جائے گا۔

یمن

جو بائیڈن نے مزید کہا ہے کہ وہ یمن کے خلاف جاری جنگ میں امریکی کی سعودی عرب کی دی جانے والی حمایت کو روک دیں گے۔

عرب ممالک میں سعودی عرب امریکہ کا قریبی ترین اتحادی ہے۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ جو بائیڈن صدر ٹرمپ کی طرح سعودی عرب کی بلاتنقید حمایت نہیں کریں گے۔

ڈینئیل پلیٹکا کہتی ہیں کہ مشرق وسطی میں امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی آئے گی جو کہ ‘ یقینی طور پر ایران کی جانب زیادہ مائل ہوگی اور سعودی عرب کی طرف کم۔’

عرب اسرائیل تنازع

جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین کیے گئے معاہدے کی تائید کی تھی۔

پرانے ڈیموکریٹس کی طرح جو بائیڈن بھی اسرائیل کے بڑے سخت اور پرانے حامی ہیں۔ ان کے منشور میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے کہیں پر بھی لفظ ‘قبضہ’ نہیں شامل ہے۔

لیکن دوسری جانب وہ شاید ٹرمپ انتظامیہ کی مغربی کنارے کے بارے میں رکھی گئی پالیسیوں پر نہ چلیں اور نہ ہی وہ شاید اس پالیسی کی حمایت کریں جس میں کہا گیا کہ ‘اسرائیلی نوآبادیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتیں’۔

اس کے علاوہ نہ ہی جو بائیڈن شاید اسرائیل کی ان پالیسیوں کی مکمل طور پر حمایت کریں گے جن کے مطابق وہ یکطرفہ طور پر فلسطینی زمینوں کی قبضہ کرنے کا خواہشمند ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والوں نے ماضی کے برعکس خارجہ امور کے بارے میں مضبوط اتحاد قائم کیا ہے جو فلسطینیوں کے حقوق کے لیے زیادہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

دو مرتبہ کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز کے لیے خارجہ پالیسی کے مشیر میٹ ڈُس کہتے ہیں کہ اس بار فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والوں سے ہم نے زیادہ بات چیت کی، اور فلسطینی امریکی اور عرب امریکیوں سے بھی زیادہ گفت و شنید ہوئی۔

‘لیکن اس کے علاوہ ہم نے امریکی یہودی گروپس سے بھی اس بارے میں گفتگو کی ہے جو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ قبضے پر خاتمہ کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہوگا۔’

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی طرح جو بائیڈن بھی افغانستان اور عراق میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے خواہشند ہیں۔

اس کے علاوہ نہ وہ پینٹاگون کا بجٹ کم کریں گے اور نہ ہی ڈرون حملوں کو بائیں بازو کے حلقوں سے دباؤ کے باوجود بند کریں گے۔

روس کے ساتھ تعلقات

روس کے ساتھ تعلقات، بالخصوص صدارتی سطح پر تعلقات میں تو ضرور تبدیلی آئے گی۔

صدر ٹرمپ تو ہر دم روسی صدر ولادیمر پوتن کو ہر اس رویے پر معاف کرنے کے لیے فوراً تیار تھے جو بین الاقوامی قواعد کے منافی تھا۔

لیکن دوسری جانب صدر ٹرمپ روس کے خلاف سخت پابندیاں بھی عائد کرتا رہا ہے اور ممکنہ طور پر وہ جو بائیڈن کے دور میں جاری رہیں گی۔

جو بائیڈن نے نیوز چنیل سی این این سے بات کرتے ہوئے کھلے عام کہا کہ ان کی نظر میں ‘روس ایک حریف ہے۔’

انھوں نے وعدہ کیا کہ انتخاب میں مداخلت کرنے پر وہ روس کے خلاف اقدامات لیں گے۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے مبینہ طور پر طالبان کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے لیے پیسے دینے کے معاملے پر بھی قدم اٹھائیں گے جو کہ صدر ٹرمپ نے نہیں کیا تھا۔

لیکن ساتھ ساتھ جو بائیڈن نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وس کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ ہتھیاروں پر قابو رکھنے کے معاہدوں کو بچایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ اس معاہدے سے بھی نکل گئے تھے اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ روس دھوکہ دہی سے کام لے رہا ہے۔

جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر وہ انتخاب جیت گئے تو وہ اس معاہدے کو بغیر کسی شرط کے بڑھا دیں گے۔

چین کے ساتھ تعلقات

تین سال قبل صدر ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے بارے میں کہا تھا کہ ان دونوں کی چاکلیٹ کیک کھاتے ہوئے بہت اچھی بات چیت ہوئی تھی۔

لیکن اُس کے بعد سے دوستی کے بجائے انھوں نے الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے اور کہا ہے کہ چین نے کورونا وائرس پھیلایا اور سرد جنگ کے دوران استعمال کیے جانے والا بیانیہ استعمال کیا۔

جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی چین کی جانب سے ‘مطلبی معاشی پالیسی’ استعمال کرنے کے خلاف حکمت عملی جاری رکھیں گے۔

اس حکمت عملی کو دنیا بھر میں کافی مقبولیت ملی ہے بالخصوص چینی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے اور یہ ان امریکی کوششوں کا حصہ ہیں جس کے تحت وہ چین کے خلاف مختلف محازوں مقابلہ کر رہے ہیں۔

چین کے خلاف مہم میں صدر ٹرمپ کی ٹیم کے وہ اراکین آگے ہیں جہ کہ جارحیت پر یقین رکھتے ہیں۔

لیکن کافی حد تک ممکن ہے کہ جو بائیڈن مختلف حوالوں سے چین کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنے کی کوشش کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے رہنمائی اور سربراہی کے کردار کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن ان چار برسوں میں دنیا بہت بدل گئی ہے اور حالیہ رائے شماری دکھاتی ہے کہ امریکہ کے وقار میں بہت کمی آئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp